» » » Kab talak shab ke andhere main sahar ko tarse...woh musafar jo bhare shahar main ghar ko tarse..


کب تلک شب کے اندھیرے میں سحر کو ترسے
وہ مسافر جو بھرے شہر میں گھر کو ترسے

آنکھ ٹھرے ہوئے پانی سے بھی کتراتی ہے
دل وہ رہرو کہ سمندر کے سفر کو ترسے

مجھ کو اس قحط کے موسم سے بچا رب سخن
جب کوئی اہل ہنر عرض ہنر کو ترسے

اب کےاس طور مسلط ہوا اندھیرا ہر سو
ہجر کی رات میرے دیدہ تر کو ترسے

عمر اتنی تو عطا کر میرے فن کو خالق
میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

اس کو پا کر بھی اسے ڈھونڈ رہی ہیں آنکھیں 
جیسے پانی میں کوئی سیپ گہر کو ترسے

ناشناسائی کے موسم کا اثر تو دیکھو
آئینہ خال و خد آئینہ گر کو ترسے

ایک دنیا ہے کہ بستی ہے تیری آنکھوں میں
وہ تو ہم تھے جو تیری ایک نظر کو ترسے

شہر صر صر میں جو سر سبز رہی ہے محسن
موسم گل میں وہی شاخ ثمر کو ترسے

About Admin

Hi there! I am the admin of this page, am not the author of the post. I am pleased to share this news with you; you can express your expression as comment in below comment area….this news’ copy right is reserved by the author/publisher mentioned there. Thanks
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

Leave a Reply


فریش فریش خبرین اور ویڈیوز


Random Posts

Loading...