Tuesday, December 20, 2016

Papa bahut pyar karte hain..lekin...! Pasand ki shadi karne wali Sangeeta hi dukh bhari kahani




اصل سورس: بی بی سی اردو

اپنی پسند سے شادی کرنے کے بعد سنگیتا اپنے ہی گھر والوں سے جان بچاتی پھر رہی ہیں۔

سنگیتا کا تعلق انڈیا کی شمالی ریاست ہریانہ سے ہے جہاں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ وہ بی بی اے کی طالبہ ہیں اور ان کے شوہر روی فائنل ایئر انجینئرنگ کے طالبعلم، دونوں نے اپنے والدین سے چھپ کر شادی کی لیکن نئی زندگی کا آغاز پرانے رواجوں کی پیچیدگیوں میں الجھ گیا ہے۔

دلی کے ایک گنجان علاقے میں انھیں عارضی پناہ تو مل گئی ہے لیکن اس سوال کا جواب نہیں کہ ان کی پسند ان کے گھر والوں کی پسند کیوں نہیں بن سکتی۔

بہتری ضرور آئی ہے لیکن ملک میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے کھاپ پنچایتیں خود کو زیادہ طاقتور محسوس کر رہی ہیں اور نیا قانون وضع کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔

جگمتی سانگوان

سنگیتا کہتی ہیں کہ ان کے والد ان سےبہت پیار کرتے ہیں لیکن 'نہیں معلوم اب انھیں کیا ہوگیا ہے جو وہ یہ سب کر رہے ہیں۔ پہلے پاپا کہتے تھے کہ تو مجھ سے کچھ بھی مانگ، میں تجھے ہر چیز دوں گا۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ میرے فیصلے کو مان لیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ انہیں اعتراض کس بات پر ہے۔'

روی کا قد چھ فٹ سے زیادہ ہے اور انھیں ورزش کا شوق ہے۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پڑھ رہے ہیں لیکن کریئر 'فٹنس' کے شعبے میں بنانا چاہتے ہیں۔ زندگی میں آگے جا کر انھیں کیا کرنا ہے اس میں تو بظاہر تھوڑی کنفیوژن ہے لیکن سنگیتا کا ہاتھ پکڑ کر جو قدم انہوں نے اٹھایا ہے اس کے بارے میں بالکل نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ تو معلوم تھا کہ ہمارے گھر والے نہیں مانیں گے لیکن یہ نہیں کہ بات مرنے مارنے تک پہنچ جائےگی۔ ہم سے غلطی صرف یہ ہوئی کہ ہمیں پہلے اپنی پڑھائی پوری کرنی چاہیے تھی۔۔۔والدین کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ لڑکا لڑکی ایک ساتھ اچھی زندگی گزار سکتے ہیں یا نہیں، باقی کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔'

سنجے سچدیوا


سنجے سچدیوا 'لّو کمانڈوز' کے نام سے ایک غیر سرکاری ادارہ چلاتے ہیں

ان دونوں کی مدد سنجے سچدیوا کر رہے ہیں جو 'لّو کمانڈوز' کے نام سے ایک غیر سرکاری ادارہ چلاتے ہیں۔ سنجے اور ان کے ساتھی محبت کرنے والوں کو قانونی تحفظ دلوانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ عدالتوں کے دباؤ کی وجہ سے کچھ ریاستوں میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔

'کئی ریاستوں میں پولیس اور انتظامیہ کے رویوں میں تبدیلی آئی ہے، کچھ محبت کرنے والوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں لیکن اصل مسئلہ قوانین کا اطلاق ہے۔ نئے قانون کی ضرورت تو ہے لیکن موجودہ قوانین بھی کافی سخت ہیں، ان پر عمل درآمد میں کمی رہ جاتی ہے۔'

انڈیا میں غیرت کے نام پر قتل کے معاملات سے نمٹنے کے لیے لمبے عرصے سے ایک نیا سخت قانون وضع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن سیاسی تقاضے آڑے آ جاتے ہیں کیونکہ سیاسی جماعتیں ان 'کھاپ پنچایتوں' (طاقتور علاقائی پنچایتیں جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی) کو ناراض کرنے سے ڈرتی ہیں جو انھیں انتخابات میں سبق سکھا سکتی ہیں۔

غیرت کے نام پر جرائم اکثر ایسے دیہی علاقوں میں پیش آتے ہیں جہاں عورتوں کو آج بھی برابری کا درجہ حاصل نہیں لیکن سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔

یہ تو معلوم تھا کہ ہمارے گھر والے نہیں مانیں گے لیکن یہ نہیں کہ بات مرنے مارنے تک پہنچ جائےگی۔ ہم سے غلطی صرف یہ ہوئی کہ ہمیں پہلے اپنی پڑھائی پوری کرنی چاہیے تھی۔۔۔والدین کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ لڑکا لڑکی ایک ساتھ اچھی زندگی گزار سکتے ہیں یا نہیں، باقی کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

روی (فرضی نام)

جگمتی سانگوان طویل عرصے سے دیہی علاقوں میں بیداری پیدا کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'بہتری ضرور آئی ہے لیکن ملک میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے کھاپ پنچایتیں خود کو زیادہ طاقتور محسوس کر رہی ہیں اور نیا قانون وضع کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔'

لیکن حکومت کا موقف ہے کہ قانون وضع کرنے کی راہ میں پیش رفت جاری ہے اور امن و قانون برقرار رکھنا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ کھاپ پنچایتوں کے خلاف کئی مرتبہ سخت احکامات جاری کر چکی ہے لیکن ان پنچایتوں کا دعوی ہے کہ وہ صرف اپنے پرانے سماجی اقدار کا تحفظ کر رہی ہیں، غیرت کے نام پر جرائم سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

نائب وزیر داخلہ ہنس راج اہیر کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق انڈیا میں گذشتہ برس نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے 251 کیس ریکارڈ کیے گئے جو 2014 کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ تھے۔

انڈیا میں غیرت کے نام پر جرائم کے لیے ہریانہ، پنجاب اور اترپردیش جیسی ریاستیں زیادہ بدنام ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق سب سے زیادہ 131 مقدمامت اتر پردیش میں درج کیے گئے جبکہ 2014 میں وہاں صرف ایک مقدمہ قائم ہوا تھا۔

جگمتی سانگوان


جگمتی سانگوان کے مطابق غیرت کے نام پر کیے جانے والے بہت سے جرائم پولیس کی نظروں میں آتے ہی نہیں

جگمتی سانگوان کے مطابق غیرت کے نام پر کیے جانے والے بہت سے جرائم پولیس کی نظروں میں آتے ہی نہیں کیونکہ انہیں مقامی سطح پر ہی دبا دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہریانہ کے صرف ایک ضلع میں تین مہینے کی مدت کے دوران اخبارات میں غیرت کے نام پر کیے جانے والے 43 جرائم( صرف قتل نہیں) کی خبریں شائع ہوئیں اور ہریانہ ملک کی سب سے چھوٹی ریاستوں میں سے ایک ہے۔

جگمتی سانگوان کہتی ہیں کہ اس سلسلے میں لوگوں کے اندر بیداری بڑھی ہے اور حکومت کے اوپر بھی عدلیہ کا دباؤ ہے کہ محبت کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرے لیکن حالات اس رفتار سےنہیں بدل رہے جیسے بدلنے چاہییں۔'

حالات جب بدلیں گے تو ان میں سنگیتا جیسے نوجوانوں کا بھی بڑا کردار ہوگا۔ اپنے والدین کے لیےان کا پیغام بہت سادہ ہے۔

'میں تو کہوں گی کہ اب ہمارہ معاشرہ پڑھا لکھا ہے، تعلیم کے بعد بھی اگر ہم مذہب اور ذات کی بنیاد پر کسی کو جج کریں، اس کی ذات دیکھیں لیکن اس کی تکلیف ہمیں نظر نہ آئے تو یہ تعلیم کس کام کی۔۔۔انسان اپنے مذہب سے نہیں اپنے عمل سے پہچانا جاتا ہے۔'

نئی نسل پرانے ریتی رواجوں کو توڑ کر جینا چاہتی ہے لیکن صدیوں پرانےان بندھنوں کو توڑنا آسان نہیں۔

SHARE THIS

Author:

Thanks for visiting our website. Like our FB pages and subscribe for daily updates; you can comment on the above post bellow ↓with your Google id or Facebook id – Thank you for your time..☺

0 comments:

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Hotel Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________