Wednesday, January 25, 2017

Is CPEC is investment or loan...?? read full article

سی پیک قرضہ ہے یا سرمایہ کاری؟

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے بارے میں کئی خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔ کئی مبصرین نے تو اسے ایسٹ انڈیا کمپنی تک سے ملا دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین پاکستان پر انگریز کی طرح قابض ہوجائے گا۔

ایک طرف یہ، تو دوسری جانب سی پیک کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دینے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ کیا ہو رہا ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی مختلف اقسام کو فرداً فرداً دیکھنا ہوگا۔

بنیادی طور پر ایف ڈی آئی دو طرح کی ہوتی ہے۔ براؤن فیلڈ انویسٹمنٹ وہ سرمایہ کاری ہوتی ہے جو پہلے سے موجود اثاثوں اور کمپنیوں میں کی جاتی ہے۔ مثلاً حال ہی میں شنگھائی الیکٹرک نے کے الیکٹرک خرید لی ہے۔ اس کے علاوہ چینی کمپنیاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

دوسری طرف گرین فیلڈ انویسٹمنٹ وہ سرمایہ کاری ہوتی ہے جو نئے اثاثوں کی تخلیق اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کی جاتی ہے، مثلاً کوئلے کے بجلی گھروں کی تعمیر۔

اس کے علاوہ چینی کمپنیوں نے نئی ایئرلائنز شروع کرنے اور بینکنگ سیکٹر میں قدم رکھنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اتصالات کی جانب سے پی ٹی سی ایل خریدنے یا 1990 کی دہائی میں نیشنل پاور کی جانب سے پاکستان کے سب سے بڑے خود مختار پاور پلانٹ (آئی پی پی) حب پاور پلانٹ کی تعمیر سے چنداں مختلف نہیں ہے۔ ان چیزوں پر پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ نجی کمپنیوں کے پاکستان میں کاروبار کرنے کا معاملہ ہے، اور پاکستان غیر ملکیوں کے یہاں کاروبار پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔

'سرمایہ کاری' کی ایک اور قسم لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین ہے۔ اس سے ملک میں سرمایہ بھی آ رہا ہے اور انفراسٹرکچر بھی تعمیر ہو رہا ہے، مگر یہ ایف ڈی آئی کی روایتی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ اس کے بجائے یہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے خریداری زیادہ ہے۔ پراجیکٹ کے لیے زمین صوبائی حکومت کے ترقیاتی فنڈز سے حاصل کی گئی ہے۔ تعمیراتی کام اور انجن و بوگیاں آسان شرائط پر قرضے کے ذریعے حاصل کی جا رہی ہیں۔ حکومت اس پراجیکٹ کے تمام کاروباری خسارے پورے کرنے کی پابند ہوگی، جبکہ قرض کی ادائیگی کے لیے بھی ذمہ دار ہوگی۔

اسے چلانے کا ٹھیکہ بھی ایک نجی فرم کو دیا جا رہا ہے، جس کے اخراجات رعایتی مدت (گریس پیریڈ) کے اختتام کے بعد بالآخر حکومت قرض کی اقساط کے علاوہ ادا کرے گی۔ ایک طرح سے یہ خدمات کی خریداری ہے۔

اس نوعیت کے اخراجات جائز طور پر ترقیاتی اخراجات کی ترجیحات، خریداری میں شفافیت، اور پراجیکٹ کی اقتصادی طور پر موزونیت کے حوالے سے سوالات کھڑے کریں گے، اور حکومت کو مفادِ عامہ سے تعلق رکھنے والے ان تمام سوالات کا جواب دینا ہوگا۔

چنانچہ ہمارے سامنے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے، جو سرکاری اور نجی حلقوں میں یکساں طور پر گردش میں ہے: کیا سی پیک کے منصوبے قرضہ ہیں یا براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری؟

کسی بھی منصوبے کے ایف ڈی آئی ہونے کے لیے ایک قابلِ شناخت سرمایہ کار ہونا ضروری ہے جو کاروباری خسارے کا کچھ حصہ برداشت کرے۔ یہ حب پاور پلانٹ کے معاملے میں نیشنل پاور کی طرح ایک نجی سرمایہ کار ہوسکتا ہے، یا پھر ایک غیر ملکی حکومتی کمپنی، جیسے پی ٹی سی ایل کے معاملے میں اتصالات، یا کے الیکٹرک کے معاملے میں شنگھائی الیکٹرک۔

اب تک سی پیک منصوبوں کے لیے آنے والا سرمایہ زیادہ تر بھاری الیکٹریکل ساز و سامان کی صورت میں، اور تھوڑی تعداد میں تعمیراتی کام کی مد میں ٹھیکیداروں کے لیے آ رہا ہے، جس سے ذیلی ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔ تھرمل پاور پلانٹ بلاشبہ براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری ہیں، کیوں کہ ان میں سرمایہ کار چینی کمپنیاں ہیں جو کاروباری خسارے میں حصے دار ہوں گی۔

اس کے لیے جو بھی قرضے اٹھائے جائیں گے، نجی کمپنیاں ہی ان کی ادائیگی کے لیے ذمہ دار ہوں گی (پاور پلانٹس کو ساورین گارنٹیاں اس کے علاوہ ہیں)۔ ساورین گارنٹی رسک کم کر دیتی ہے، مگر اس سے سودے کی نوعیت نہیں بدلتی، جس میں ایک غیر ملکی سرمایہ کار خسارے میں حصہ دار بنتا ہے۔ اگر کوئی مقامی فرم مشترکہ منصوبے میں حصے دار ہو، یا مقامی مارکیٹ سے قرضہ اٹھایا جائے، تو اس فنڈ کو براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں شمار نہیں کیا جاتا۔

دوسری جانب ٹرانسپورٹ پراجیکٹس مثلاً سڑکوں کی تعمیر، ریلوے کی اپ گریڈیشن، اور لاہور اورنج لائن میٹرو عوامی منصوبے ہیں جنہیں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو بھی نہیں۔ یہ قرضے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرامز میں سے خرچ کی جانے والی رقم ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ قرضے آسان شرائط پر ہیں یا سخت شرائط پر۔ عام طور پر کمرشل پراجیکٹس، مثلاً پاور پلانٹس وغیرہ کے لیے قرضے کمرشل شرائط پر دیے جاتے ہیں۔ عوامی شعبے کے پراجیکٹس کے لیے آسان شرائط پر دیے جاتے ہیں۔

تو ہمیں چینی سرمایہ کاری کو کیا قرار دینا چاہیے؟ پاکستان میں بڑی تعداد میں سرمایہ آ رہا ہے۔ اس سے پہلے ہم براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری، اور ترقیاتی کاموں کے لیے قرضوں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور تھے۔

کیا چین ہماری معیشت پر حاوی ہوجائے گا، جیسا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے؟

نہیں ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

زیادہ سے زیادہ برا یہ ہوگا کہ بجلی کی پیداوار میں چینی کاروباری مفادات لابی کا روپ اختیار کر لیں جیسا کہ ہمارے پاس معیشت کے دیگر شعبوں میں پہلے سے ہی ہے۔ مگر حکومت ریگولیٹری اداروں کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹ سکتی ہے.





SHARE THIS

Author:

Thanks for visiting our website. Like our FB pages and subscribe for daily updates; you can comment on the above post bellow ↓with your Google id or Facebook id – Thank you for your time..☺

0 comments:

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Hotel Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________