» » » خوبصورت شاعری: یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ

یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ
اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ

عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں کی طرح
خاک اڑنے کے لیے مجبور ہے آندھی کے ساتھ

جانے کس اُمید پر ہوں آبیاری میں مگن
ایک پتا بھی نہیں سوکھی ہوئی ٹہنی کے ساتھ

میں ابھی تک رزق چننے میں یہاں مصروف ہوں
لوٹ جاتے ہیں پرندے شام کی سرخی کے ساتھ

پھینک دے باہر کی جانب اپنے اندر کی گھٹن
اپنی آنکھوں کو لگا دے گھر کی ہر کھڑکی کے ساتھ

جان جا سکتی ہے خوشبو کے تعاقب میں نوید
سانپ بھی ہوتا ہے اکثر رات کی رانی کے ساتھ

اقبال نوید




About News Desk

Hi there! I am the admin of this page, am not the author of the post. I am pleased to share this news with you; you can express your expression as comment in below comment area….this news’ copy right is reserved by the author/publisher mentioned there. Thanks
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

Leave a Reply


فریش فریش خبرین اور ویڈیوز


Random Posts

Loading...