» » » مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند : محسن نقوی (پوری شاعری پڑھیں لنک پر)

مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند

دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند

میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند

دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند

اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند

کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند

اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند

شاعر محسن نقوی





About Admin

Hi there! I am the admin of this page, am not the author of the post. I am pleased to share this news with you; you can express your expression as comment in below comment area….this news’ copy right is reserved by the author/publisher mentioned there. Thanks
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

Leave a Reply


فریش فریش خبرین اور ویڈیوز


Random Posts

Loading...