» » » تیرے گمنام اگر نام کمانے لگ جائیں : مکمل شاعری پڑھیں لنک پر

تیرے گمنام اگر نام کمانے لگ جائیں
شرف و شیوہ و تسلیم ٹھکانے لگ جائیں​
جس طرح نور سے پیدا ہے جہانِ اشیاء
اک نظر ڈال کے ہم بھی نظر آنے لگ جائیں​
یہ بھی ممکن ہے کوئی روکنے والا ہی نہ ہو
یہ بھی ممکن ہے یہاں مجھ کو زمانے لگ جائیں​
دیکھ اے حسنِ فراواں یہ بہت ممکن ہے
میرا دل تک نہ لگے تیرے خزانے لگ جائیں​
جن کے ہونے سے ہے مشروط ہمارا ہونا
اپنے ہونے کا نہ احساس دلانے لگ جائیں​
تو محبّت کی غرض لمحہء موجود سے رکھ
ترے ذمّے نہ مرے درد پرانے لگ جائیں​
یہ محبّت نہ کہیں ردِعمل بن جائے
ہم ترے بعد کوئی ظلم نہ ڈھانے لگ جائیں​
کارِ دُنیا بھی عجب ہے کہ مرے گھر والے
دن نکلتے ہی مری خیر منانے لگ جائیں​
پاس ہی ڈوب رہی ہے کوئی کشتی تابش
خود نہیں بچتے اگر اس کو بچانے لگ جائیں​
عباس تابش



About Admin

Hi there! I am the admin of this page, am not the author of the post. I am pleased to share this news with you; you can express your expression as comment in below comment area….this news’ copy right is reserved by the author/publisher mentioned there. Thanks
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

Leave a Reply


فریش فریش خبرین اور ویڈیوز


Random Posts

Loading...