» » » » حبیب جالد مشہور زمانہ شاعری : یہ وزیرانِ کرام

یہ وزیرانِ کرام

کوئی ممنونِ فرنگی، کوئی ڈالر کا غلام
دھڑکنیں محکوم ان کی لب پہ آزادی کا نام
ان کو کیا معلوم کس حالت میں رہتے ہیں عوام
یہ وزیرانِ کرام

ان کو فرصت ہے بہت اونچے امیروں کے لیے 
ان کے ٹیلیفون قائم ہیں سفیروں کے لیے 
وقت ان کے پاس کب ہے ہم فقیروں کے لیے 
چھو نہیں سکتے انہیں ہم ان کا اونچا ہے مقام
یہ وزیرانِ کرام

صبح چائے ہے یہاں تو شام کھانا ہے وہاں 
کیوں نہ ہوں مغرور چلتی ہے میاں ان کی دکاں 
جب یہ چاہیں ریڈیو پر جھاڑ سکتے ہیں بیاں 
ہم ہیں پیدل، کار پر یہ کس طرح ہوں ہمکلام
یہ وزیرانِ کرام

قوم کی خاطر اسمبلی میں یہ مر جاتے بھی ہیں 
قوتِ بازو سے اپنی بات منواتے بھی ہیں 
گالیاں دیتے بھی ہیں اور گالیاں کھاتے بھی ہیں 
یہ وطن کے آبرو ہیں کیجیے ان کو سلام
یہ وزیرانِ کرام

ان کی محبوبہ وزارت، داشتائیں کرسیاں 
جان جاتی ہے تو جائے پر نہ جائیں کرسیاں 
دیکھیے یہ کب تلک یوں ہی چلائیں کرسیاں 
عارضی ان کی حکومت عارضی ان کا قیام
یہ وزیرانِ کرام





About Admin

Hi there! I am the admin of this page, am not the author of the post. I am pleased to share this news with you; you can express your expression as comment in below comment area….this news’ copy right is reserved by the author/publisher mentioned there. Thanks
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

Leave a Reply


فریش فریش خبرین اور ویڈیوز


Random Posts

Loading...