Express ☺ your view, expression on this post, via Facebook comment in the below box… (do not forget to tick Also post on facebook option)

Showing posts with label Columns. Show all posts
Showing posts with label Columns. Show all posts

Tuesday, May 21, 2019

چومکھی لڑائی ! (مایوسی زیادہ پھیلائی جارہی، حکومت زیادہ نالائق یا پروپیگنڈا زیادہ کیا جا رہا) - ارشاد بھٹی کا یہ کالم ضرور پڑھیں

چومکھی لڑائی ! (مایوسی زیادہ پھیلائی جارہی، حکومت زیادہ نالائق یا پروپیگنڈا زیادہ کیا جا رہا) - ارشاد بھٹی کا یہ کالم ضرور پڑھیں

چومکھی لڑائی ! - ارشاد بھٹی


سمجھ نہ آئے، معیشت زیادہ خراب یا مایوسی زیادہ پھیلائی جارہی، حکومت زیادہ نالائق یا پروپیگنڈا زیادہ کیا جا رہا، حالات آؤٹ آف کنڑول یا باقاعدہ منصوبہ بندی سے ایسا تاثر دیا جارہا، بلاشبہ ڈالر شُتر بے مہار روپیہ، افغانی ،نیپالی کرنسی سے بھی بے قدرا، بلاشبہ 9ماہ میں ڈالر مہنگا ہونے سے ایک دھیلا نہ لینے کے باوجود 2ہزار ارب قرضے بڑھ گئے، بلاشبہ ایک ماہ میں اسٹاک ایکسچینج میں 4ہزار پوائنٹس کی کمی، کھربوں ڈوب گئے، بلاشبہ بجلی، گیس مہنگی، مزید مہنگی ہوگی، بلاشبہ مہنگائی کے توبہ شکن مرحلے ابھی باقی، بلاشبہ آئی ایم ایف ڈیل کسی پل صراط سے کم نہیں، 39مہینوں میں ساڑھے 6ارب ڈالروں کیلئے 8سو ارب کے نئے ٹیکس لگانا ہوں گے، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو بھولنا پڑے گا، 90فیصد سبسڈیز ختم کرنا ہوں گی، ڈالر پر حکومتی کنڑول نہیں رہے گا۔ گیس، بجلی، پٹرول کی قیمتوں میں مرحلہ در مرحلہ اضافہ کرنا ہوگا، اسٹیل مل، پی آئی اے، ریلوے تک کی نجکاری ہو گی، آئی ایم ایف سے رقم قسطوں میں ملے گی، ہر 3ماہ بعد حکومتی کارکردگی کو جانچے گا، آئی ایم ایف مطمئن ہوا تو ٹھیک ورنہ قرضے کی اگلی قسط سے معذرت، بلاشبہ آئی ایم ایف ڈیل کے بعد 24گھنٹوں میں ڈالر 9روپے مہنگا، اسٹاک ایکسچینج 8سو پوائنٹس نیچے گری۔

بلاشبہ یہ ہوش اڑا دینے والے اعداد و شمار، بری پرفارمنس کی ایک وجہ حکومتی نااہلی، نالائقی، کنفیوژن مگر پھر بھی کیا یہ کہنا درست کہ حکومت مکمل ناکام ہوچکی، انتخابات واحد حل، کیا یہ کہنا ٹھیک کہ حکومت کو فارغ نہ کیا تو مارشل لا کا خطرہ، کیا ایسا نہیں لگ رہا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے مایوسی کو ڈبل ٹرپل بنا کر دکھایا جارہا، حالات خراب مگر اتنے خراب نہیں، جتنا بتائے جارہے۔ فرض کریں اگر آج عمران خان کو ہٹا کر نواز شریف یا زرداری صاحب کا کوئی شیر جوان وزیراعظم بنا دیا جائے تو حالات ٹھیک، معاشی مسائل حل ہو جائیں گے، ملک میں دودھ، شہد کی نہریں بہہ نکلیں گی، آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ دیا جائے گا؟ 

نہیں بالکل نہیں، تو پھر کیوں اصلی مایوسیوں کے ساتھ نقلی مایوسیاں پھیلائی جا رہیں، جعلی مایوسی فیکٹریاں چلائی جا رہیں، اِس لئے کہ عمران خان کو ناکام بنانا، اس لئے کہ عمران خان کی کامیابی کا مطلب اسٹیٹس کو کی ناکامی، باریوں کا خاتمہ، دو پارٹی سسٹم کا دی اینڈ، مل جل کر کھانے کا خاتمہ، من مرضی کی جمہوریت کا اختتام، اس لئے کہ یہ ان چند شاہی گھرانوں کی بقا کا مسئلہ، جنہوں نے اگلے 50سال تک اقتدار میں رہنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، یہی وجہ وہ بھی آج عوام کیلئے تڑپنے کی اداکاریاں کر رہے جن کی وجہ سے عوام تڑپ رہے، وہ بھی آج عوامی دکھ درد بانٹنے کے ڈرامے کرر ہے، جنہوں نے ہمیشہ عوام کو دکھ درد دیئے، وہ بھی سبزیوں، فروٹوں، آٹے، گھی کے بھاؤ پر پر یشان، جن کیلئے عوام کی حیثیت سبزیوں، فروٹوں، آٹے، گھی جتنی بھی نہ تھی، ان کی نظر میں تو عوام پیلی ٹیکسیوں کے ڈرائیور، سستے تندور سے سستی روٹیاں کھانے والے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگراموں اور ہیلتھ کارڈوں کی لائنوں میں لگے بھکاری، کہنے کو اقبال کے شاہین، اصل میں بچا کھچا نوچتی چیلیں، ان کا نظام ایسا 2فیصد کیلئے دودھ ملائیاں، 98فیصد کیلئے وعدوں، امیدوں کی چوسنیاں۔

اندازہ کریں، اس ملک میں جہاں ہر نوازشریف کا کیس ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے، جہاں ہر آصف زرداری کو آدھ درجن کیسوں میں ایک ہی دن ضمانتیں مل جائیں، جہاں ہر شہباز شریف کی لندن میں بیٹھے ضمانت میں توسیع ہوجائے، جہاں ہر حمزہ کو چھٹی والے دن گھر کے بیسمنٹ میں انصاف مل جائے، وہاں عوام کا حال یہ کہ ایک غریب پان والے جمشید اقبال کو احترام رمضان آرڈیننس کے تحت 5دن قید کے خلاف اپیل پر 6سال بعد انصاف ملے، ہے نامزے کی بات، 5دن قید کے خلاف اپیل، فیصلے میں 6سال لگ گئے، اب یہ نظام بنانے والے، عوام، عوام کررہے ہوں تو کون اعتبار کرے گا، رہ گئی معیشت کی بدحالی تو جہاں چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں کو قدم قدم پر تحفظ ہوں گے، نرمیاں برتی جائیں گی، رعایتیں ملیں گی، وہاں معاشی خوشحالی خاک آئے گی، جہاں سیاستدان، بیورو کریٹس کرپشن، بے ایمانی، دو نمبری میں نکونک ہوں گے، وہاں معاشی خوشحالی خاک آئے گی، جہاں صورتحال یہ ہوگی کہ د و چار دن پہلے حفیظ شیخ رعایتیں مانگتے تاجروں، ایکسپوٹروں سے جب کہیں ’’یہ سب رعایتیں لے کر ایکسپورٹ بڑھائیں گے‘‘ تو جواب ملے ’’ایکسپورٹ نہیں بڑھا سکتے لیکن رعایتیں دیدیں‘‘ ان حالات، اس مائنڈ سیٹ میں خوشحالی کیا خاک آئے گی، جہاں قوم ایسی کہ حج، عمرے، دنیا بھر میں ٹاپ فائیو میں جبکہ جھوٹ، منافقت، ملاوٹ میں بھی پانچواں نمبر، وہاں خوشحالی کیا خا ک آئے گی۔

بلاشبہ معاشی بحران مگر اتنا بھی نہیں کہ یہ فیصلہ صادر کر دیا جائے کہ 9ماہ کی حکومت ہر خرابی کی ذمہ دار، اسے نہ ہٹایا گیا تو مارشل لا لگنے کا خطرہ، حالانکہ ہمارے ہاں ہی نہیں پوری دنیا میں معاشی بحران چل رہا، صرف روپیہ نہیں پاؤنڈ بھی ڈی ویلیو ہوا، کل ایک پاؤنڈ کے دو ڈالر تھے، آج ایک پاؤنڈ کے 1.30ڈالر، کل ایک یورو کی ویلیو تھی۔ 1.80سے 1.95ڈالر، آج ایک یورو 1.12ڈالر کا، مہنگائی برطانیہ میں بھی، پٹرول 200، ڈیزل 250روپے کا ایک لیٹر، سعودیہ جہاں 95پیسے کا ایک لیٹر پٹرول وہاں آج دو ریال کا ایک لیٹر، مہنگائی ہرجگہ، کرنسی کی بے قدری ہرجگہ، جن حالات سے ہم گزر رہے، ان سے سب گزر رہے، ہمیں صورتحال اس لئے مشکل لگ رہی کیونکہ یہاں جزا، سزا کا نظام نہیں، گھوڑے، گدھے ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جارہے، دوفیصدکی سات نسلیں سنور چکیں، 98فیصد کا حال نہ مستقبل، جو ڈکیتیاں ہوچکیں ان کا حساب لینے نہیں دیا جا رہا، جو ڈکیتیاں ہورہیں، ان کو روکا نہیں جا رہا، پھر ان مشکلات کو مایوسی کے تڑکے اس لئے لگائے جارہے کیونکہ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکالنی، عمران خان کو ناکام بنانا اور کھال بچاؤ، آل بچاؤ اور مال بچاؤ مقصد، اب یہ تو معلوم نہیں کہ مکار، عیار دشمنوں اور چھوٹے دماغوں، لمبی زبانوں والے نااہل، ناتجربہ کار دوستوں میں گھرے عمران خان کی چومکھی لڑائی کا نتیجہ کیا نکلتا ہے لیکن یہ معلوم کہ اگر اس چومکھی لڑائی میں عمران خان ہار گیا تو اگلے پچاس سال پاکستان میں امید، خواب کی موت ہوجائے گی۔


اصل سورس پر پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں



Tuesday, February 19, 2019

“Wall of Kindness” in Karachi

“Wall of Kindness” in Karachi

“Wall of Kindness” in Karachi

By Wazir Ali

The economic recession caused by sanctions imposed by Europe on Iran drove people of the country to stand up to embark on an innovative philanthropic work. They used walls as a source of compassion to deal with those harsh waves of hardship. The first wall of kindness was started in the city of Mashhad, where passersby wishing to donate clothing for the needy could hang them on the wall so that the needy could have it from there without being obliged to anyone. This deed of altruism further showed their presence in different cities of Iran.

This Iranian venture came to Pakistan in 2016. People replicated the idea and added different titles to the theme. The revamp dirty walls painted in different localities themed as “Wall of Kindness” by fixing hooks at the wall to hang the cloths for the indigent people.

Karachi, the financial capital as well as more commercialized city of Pakistan, holds highest figures of outdoor advertising vehicles mostly in the crowded areas to entice the ultimate consumers towards products or services. The multinational companies spend a reasonable amount for advertisement to place ads in higher public census areas. In this commercialized city, the empty walls are one of the cheapest advertising sources to appeal and shift the masses towards advertising message.

Along with their commercial usage, these walls are usually used by political and religious forces for running campaigns and detesting other communities. However, these cluttered walls are now being given aesthetic touch to recapitulate the history and culture aimed to promote the message of peace and unity. “I AM KARACHI” deserves excellence in promoting such socio – cultural activities in Karachi as a long wall along with MT Khan road is painted fantastically. Such motif to aware and engage the fragmented society believes to be good to curtail the sectarian slogan. It also limit the wide spread absurd propaganda of religious parties to let down other in order to clinch their higher standing and rightfulness over another.

At the same time, these mundane walls were being used to promote the concept of human charity by hanging warm clothes for the people who don’t have warm stuffs to confront the chilly waves in winter.

The current cold wave of arid climate of Karachi had made soft opening of human charity back in Karachi. Different locations were seen to be filled up with warm clothes. The handicaps and the needy people were approaching there for warm cloths. The Schon Circle located near Clifton Centre is one of those bequeathing places busy to sustain the noble concept in the winter. However, with the fall of winter, these empty walls are now seemed secluded and portray its solo scheme of clothing and less or non-essentiality of other stuffs required to vanquish the acute economic austerity. The campaign once started by Pakistani actor Ahsan Khan appeals for reformation and it will surely requires a solid wake-up call of humanitarian activists to reclaim the notion again of serving humanity to safe the easily accessible noble acts to be vanished . None existence of such stuffs makes the walls an empty slot to eclipse of painting to place a local advertising agencies to place the ads. Most of the walls are now partially painted by the advertisers.

This way of humanistic approach is seems more feasible because transparency has remained the pressing concern about NGOs. Any such type of initiatives need to be promoted and strengthened so that the penniless people could at least have dignified access to such essentialities without getting pained from endless questions of justification to prove their poverty. The idea of sharing and caring is well encouraging; however, it can be shifted into multifaceted human facilitation with an insertion of more generous acts as an extension to these initiatives to help the penurious people who have helplessly stayed around these places due to one or many more obvious reasons.



Friday, January 25, 2019

یہ دن بھی گزر جائیں گے;'' فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی عظمتوں کو سلام‘‘ اور اس کے سامنے یہ جملہ بھی درج تھا '' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔ مزید پڑھیں

یہ دن بھی گزر جائیں گے;'' فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی عظمتوں کو سلام‘‘ اور اس کے سامنے یہ جملہ بھی درج تھا '' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔ مزید پڑھیں

یہ دن بھی گزر جائیں گے;'' فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی عظمتوں کو سلام‘‘ اور اس کے سامنے یہ جملہ بھی درج تھا '' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔ مزید پڑھیں 





Wednesday, November 7, 2018

قومی اسمبلی میں گالم گلوچ اور میرا کالم کلوچ : کالم اثر چوہان

قومی اسمبلی میں گالم گلوچ اور میرا کالم کلوچ : کالم اثر چوہان

قومی اسمبلی میں گالم گلوچ اور میرا کالم کلوچ : کالم اثر چوہان

قومی اسمبلی میں گالم گلوچ اور میرا کالم کلوچ : کالم اثر چوہان

92 نیوز7 نومبر 2018





Thursday, October 18, 2018

گندے انڈے ، جعلی دودھ اور عمران خان کا نیا پاکستان

گندے انڈے ، جعلی دودھ اور عمران خان کا نیا پاکستان

گندے انڈے ، جعلی دودھ اور عمران خان کا نیا پاکستان

گندے انڈے ، جعلی دودھ اور عمران خان کا نیا پاکستان: کالم رضوان آصف



Wednesday, September 26, 2018

عشق حسین ؓ |  یہ مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

عشق حسین ؓ | یہ مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں



میں نے تو اپنی زندگی میں نہیں دیکھا کہ کوئی بھی بزرگ خواہ اُس کا مسلک تو دور کی بات ہے، غیر مذہب بدھ ، ہندو، سکھ بھی یوم عاشورہ پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور عیسائیت تو ایسا مذہب ہے جس کی اپنی کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اور اُن کی آمد کے بارے میں واضح اشارات اور نشانیاں ملتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ شام کے بارے میں جب وہ چھوٹے تھے تو راہب نے وہ تمام نشانیاں دیکھ کر آپ کو پہچان لیا، اور حضرت حسین ؓ کے سر مبارک کو جب ظالم یزید کے پاس لے کر جا رہے تھے، تو عیسائی پادری کا عقیدت و احترام کے ساتھ سر مبارک کا دھونا، خوشبو لگانا، اور زیر خطیر خرچ کر کے ایک رات کے لئے اپنے پاس رکھنا، اس بات کی دلیل ہے کہ عیسائیوں کو ہمارے نبی محترم کے بارے میں اگر مکمل نہ مُسمی کسی حد تک علم و آگہی ضرور حاصل تھی۔

جیسا کہ میں نے اپنے ابتدائیہ میں عرض کیا ہے کہ ہر مسلمان مسلک سے ماورا ہو کر احترام حسین ؓ ابن علی ؓ، اور یاد نواسہِ رسول کی وجہ سے محرم کا چاند نظر آتے ہی بے کل بے ہمہ و با ہمہ و بے نظیر بن کر بے ہمتا اور بیابان گرو بلکہ خود کو بیامان مرگ کا باسی بنا لیا ہے، کیونکہ نبی آخر زماں محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے باوجود کہ میرے اہلِ بیت ، یعنی خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کریں۔ حتیٰ کہ حضرت امام حسین ؓ کے بارے میں فرمایا کہ میں حسین ؓ سے ہوں اور حسین ؓ مجھ سے ہیں۔ جن کو ہم اہل بیت اور پنجتن پاک کہتے ہیں، حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم ، حضرت علی ، بی بی فاطمہ الزہرا، حضرت امام حسن ؓاور حضرت حسین ؓ ۔

حضرت عثمان علی ہجویری ؒ سے لے کر صوفی برکت علی ؒ تک سبھی بزرگان دین نے سانحہ کربلا پر اپنے خون جگر سے دِل نگار کی بے اختیار ہُو کر جو عکاسی کی ہے، وہ الفاظ قابل کشید ہیں۔ عشق جب اپنے امام کے حضور میں نیاز مندانہ خراج عقیدت پیش کرنے کے بے مثل منظر پہ حاضر ہوا، کہرام مچ گیا، زمین و آسمان کی طابیں ٹوٹنے لگیں، ہوش و حواس کھو بیٹھا تھر تھرا کر پوچھا یہ کیا؟

ندا آئی کائنات کے پروردگار کے حبیبِ اقدس و اکمل ، اکرم و اجمل ، طیب و اطہر روحی فدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے لخت جگر شہزادہ کونین ؓ کے جسدِ اطہر کا لاشہ ہے۔ جسے شہادت کے بعد گھوڑوں کی ٹاپوں سے رُوندا گیا

ایک عرض پھر کی یہ کِس نے کیا؟

پھر ندا آئی یہ قصہ ِ کفار کا نہیں ، حضور اقدس کے اُمتیوں کا ہے۔

اُن کی اِس تکرار نے کہ شہزادہ کونین کے قتل میں جلدی کرو، جمعے کی نماز قضا نہ ہو، عشق کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، قبا نوچ کر تار تار کر ڈالی پامالِ ناز نے مُنہ پر راکھ ملی، سر پر خاک ڈالی ایک دِلزور مرثیہ پڑھا، اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اِس منظر کو نظروں میں یُوں سمیٹ لیا، کہ پھر کبھی اِس کو نظروں سے اُوجھل نہیں ہونے دیا۔

جب شامِ غریباں کے حضور غلامانہ خراج تحسین پیش کرنے کے لئے حاضر ہوا آپے سے باہر ہوگیا، حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اُس نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا، اُس کے سامنے ریت کے ذروں پر حُسن و عشق اور وفا و جفا کی داستان کا انوکھا باب خون سے لکھا ہوا تھا، سہمی ہوئی مقدس جانیں بوستانِ رسول کے کملائے ہوئے پھول ، گنج شہیداں کے کٹے ہوئے اعضاء، جلے ہوئے خیمے دُھواں چھوڑتی طنابیں ، لُٹا ہوا خانوادہِ رسول، بے بسی و بے کسی کے عالم میں جگر بند بتول ؓ حسین ؓ کا سر قلم ، جسم برہنہ ، لاشہ روندا ہوا، اہل بیت رسیوں میں جکڑے ہوئے، خاک و خون میں نہایا ہوا عشق ، دہشتِ غربت میں سربُریدہ، پیشوائےِ دین، ساقی کوثر کا تشنہ لب نواسہ ، سبط پیغمبر کا گھوڑوں سے رُوندا ہوا وجود اطہر ہر طرف گھمبیر اُداسی ، ایک وحشت خیز خاموشی، ایک الم ناک کرب، یہ درد ناک منظر اُس سے دیکھا نہ گیا، ہوش و حواس کھو بیٹھا، خوں کے آنسو رو دیا، بسمل کی طرح تڑپا، مذبوح کیطرح لوٹا، پھر یکایک اُس نے اَمارت کی عِمارت کی انیٹ انیٹ کر دی، لذت کا جام توڑ دیا، زینت کا عمامہ زمین پر دے مارا، راحت کا ترانہ بند کر دیا، عشرت کا رباب توڑ دیا، شہرت کی قبا تار تار کر دی۔

شامِ غریباں کے محبوبوں کی خاک پاسر میں ڈالی، ندامت کی قبا اُوڑھی، ملامت کی گڈری پہنی، صبر کا کاسہ تھاما، اور ایسا روپوش ہوا کہ پھر کبھی ، کسی روپ میں پرگھٹ نہ ہوا۔ اِس منظر کو کبھی نظروں سے اُوجھل نہ ہونے دیا اور حیات اُلدنیا کی منزل اِسی منظر کی پیشوائی میں طے کی۔

قارئین.... آج پھر جمعہ ہے ، یا الٰہی میرے وطن کی خیر ہو، اُمت مسلمہ کے مقدر ، کو مَکدر دینے والی یہود وہنود ، موجودہ دور کی طاقتیں قیصر و کسریٰ ، گنبد خضریٰ پہ نقب لگانے کی منصوبہ بندی کرنیوالوں کی سر کوبی کیلئے کسی سلطان کی نہیں.... صلاح الدین کے ظہور کی منتظر ہیں کیونکہ ایام آلام کی تاریخ تیرے کلمہ گو مُسلمانوں پہ بار بار آتی ہے مگر ذوالجلال ولاکرام، تو تو گواہ ہے، کہ تو واحد بتول ؓ جیسی ہستی بھی ایک ہے، اور حسین ؓ ابنِ علیؓ بھی ایک ہے، جن کی وجہ سے تیرا نام زندہ ہے، اور ہم زندہ ہیں شیرِ خدا، کا شیر حسین ؓ

بشر تو کیا فرشتوں سے نہ ایسی بندگی ہوگی

حُسین ؓ ابن علی ؓ آئینگے دُنیا دیکھتی ہو گی

ہمارے خون کے بدلے میں اُمت بخش دے یا رب

خدا سے حشر میں یہ التجا شبیر ؓ کی ہوگی

آخر میں مولانا طارق جمیل صاحب سے سُنا ہوا ایک واقعہ ایمان تازہ کرنے کیلئے قارئین سُن لیں واقعہ کربلا کے تین سو سال بعد اہل بیت کی عزت و عفت مآب بی بی اپنے بچوں سمیت ہجرت پر مجبور ہوئیں، کیونکہ تنگ دستی کے باوجود سید ہونے کی وجہ سے وہ کسی سے صدقہ خیرات لینے پر تیار نہیں تھیں، ہمارے نبی محترم توکل کی انتہا دیکھیں کہ انہوں نے اپنی اہل بیت اور قیامت تک کیلئے اُن کی اُولاد پر پابندی لگا دی کہ وہ ذکوة ، صدقہ خیرات نہیں لے سکتی وہ بی بی ہجرت کر کے دوسرے ملک چلی گئیں، معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ شہر میں ایک عیسائی اور ایک مسلمان خاصے صاحب حیثیت ہیں، وہ یہ سوچ کر کہ پہلے مسلمان سے مِلنا چاہئے، وہ جب اُس کے پاس پہنچیں تو مسلمان نے اُن سے اہل بیت ہونیکا ثبوت مانگا، جو اُن کے پاس نہیں تھا، مجبور ہو کر پھر وہ عیسائی سے ملیں اور اپنا تعارف کرایا کہ میں اہل بیت میں سے یعنی اُولادِ رسول ہوں، تو اُنہوں نے نہایت گرمجوشی سے استبقال کیا، اپنی بیوی کو بلایا، اور بچوں کو نہایت پیارو احترام سے گھر لے گئے، رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان اور عیسائی کو خواب میں ملے، اور مسلمان پر سخت غصے کا اظہار فرمایا کہ جب میری بیٹی تمہارے پاس آئی، تو تم نے ثبوت مانگنے شروع کر دیئے، اور عیسائی کو نہایت تپاک سے ملے اس پر بہت خوش ہوئے، حضور جنت کے محل میں کھڑے تھے، جو نہایت خوبصورت اور قابل دید تھا۔ عیسائی سے فرمایا کہ یہ اب تمہارا ہے، عیسائی نے کلمہ پڑھا اور اہل بیت کی قدر افزائی کے صلے میں وہ مُسلمان ہوگیا۔

قائین ، اب اِس بحث میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے کہ شہادت حسین ؓ کے ذمہ دار کِس مسلک سے تعلق رکھتے تھے؟ میرے خیال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت بی بی عائشہ ؓ کے درمیان جنگ جمل کرانے والے منافقین ہی اس کے ذمہ دار تھے۔ جن کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان .... جب یزید ثانی مرزا غلام احمد قادیانی حُرمتِ رسول پر نعوذ بااللہ زبان درازی کر رہا تھا۔ اُس وقت کروڑوں مسلمانوں کا ایمان کہاں تھا؟ کیا نواسہِ رسول کو شہید کرنیوالے مسلمانوں کا ایمان ، اور آج کے مسلمانوں کے ایقان میں کچھ فرق ہے؟ شام ، فلسطین ، عراق ، افغانستان، ایران، سعودیہ کی جنگ کس سے ہے؟ بقول مظفر علی شاہ

ہر جہت سے شاہ کو پرکھا گیا

کربلا تھا امتحان ایمان کا

جان مال و نسل در راہ خدا

مرحبا اے پیکر صبر و وفا

با عمل نفسیر تھی معراج کی

کربلا سے قافلہ چلتا ہوا

نواسہِ رسول سر اقدس اور اسیرانِ اہل بیت کو دربار یزیدی میں پیش کرنیکا سیاہ داغ نہ تو قیامت تک دُھویا جاسکتا ہے نہ بھلایا جاسکتا ہے.... روزِ محشر مسلمان اپنے دین اور ایمان کی پہچان کیسے کرائیں گے؟

اصل سورس پر پڑھیں : نئی بات

Saturday, September 15, 2018

The loyal people of Gilgit Baltistan

The loyal people of Gilgit Baltistan

Gilgit-Baltistan is spread over an area of 27,184 square kilometres with a population of approximately 15 lakhs. Strategically, Gilgit-Baltistan has great importance as it share borders with China on the northwest. While Afghanistan and Tajikistan are connected through the Wakhan corridor and on the south lies Indian Occupied Kashmir. Gilgit-Baltistan is surrounded by the mountain ranges of Hindu Kush in the west, the Karakoram in the north and northeast and Himalaya in the south. According to the June 3 1947, partition plan, all princely states were free to join one of the dominions; Pakistan or India. It was clarified that while acceding to any dominion they could take into account their geographical location and the wishes of their people.



In the case of Jammu and Kashmir, the people favoured accession to Pakistan, however this was not implemented. On October 25 1947, India sent troops to Kashmir and on October 26 1947, the state of Jammu and Kashmir acceded to India. There was a revolt in Kashmir by Muslims due to the Maharaja’s decision to join India and the Free Kashmir government was established by Sardar Ibrahim, in Poonch. On August 1 1947, the entire Gilgit-Baltistan was handed over to the Maharaja of Kashmir and Brigadier Ghansara Singh was appointed as the governor of Gilgit agency. This decision was contrary to the wishes the local people; as the entire population was pro Pakistan.

There was a whispering campaign for Pakistan in GB and there were rumours that scouts will revolt. According to Major William Brown Commandant of Scouts; a group of scouts gathered in their recreation room and a resolution was passed that the Gilgit agency must accede to Pakistan and that they will never serve under a Dogra governor. In Gilgit, pro Pakistan slogans were in the air, and walls were chalked with statements such as; “Pakistan Zindabad”, Hindustan Murdabad” “Kashmir ka Maharaja Murdabad”. Slogans were even chalked on the governor’s house gate.

Accordingly a coup was staged by the Gilgit Scouts in favour of Pakistan on the night of October 31, 1947. On the morning of November 1, 1947, the governor Brigadier Ghansara Singh surrendered to Gilgiti Scouts. Immediately after liberation, people from the Gilgit asked the government of Pakistan to take control of the agency.

On November 16, 1947, Sardar Muhammad Alam arrived in Gilgit as the political agent and representative of Pakistan. On December 3 1947, a meeting was chaired by the residing prime minister of Pakistan, Liaqat Ali Khan in Rawalpindi who conveyed that Pakistan fully appreciated the vital importance of Gilgit and it would defend it at all costs against any aggressors.

The brave people of Gilgit-Baltistan were able to liberate their land from Indian forces without any external help. The success was mainly due to their love for Islam and Pakistan. The people of Gilgit-Baltistan celebrate two independence days, first being August 14, the national independence day followed by November 1, when Gilgit-Baltistan was liberated with fervour and zeal.

The issues of GB should not be brushed aside. All that these nationalists want is a constitutional status, and complete merger with Pakistan. Their demand of wanting to be constitutional citizens of Pakistan is not unreasonable, nor is their desire for the fifth province of GB

Recently in a television talk show comments made by Lt. General Amjad Shoaib (retired) and anchor Muhammad Malik fostered anger and regret across GB. The general should have referred to certain individuals from Gilgit-Baltistan; instead of referring to a specific area. People of Gilgit-Baltistan have always contributed to the defence of Pakistan by serving the armed forces of this country. Troops from Gilgit-Baltistan are considered some of the best soldiers in the world, who proved their mettle during the liberation war of Gilgit in 1948, and subsequent wars of 1965, 1971, the Siachen conflict, Kargil and War on Terror.



Lalik Jan is known as the son of Gilgit-Baltistan, who was awarded the “Nishan-e-Haider” for his extraordinary bravery during the Kargil war. In the same talk show, the anchor Muhammad Malik also hinted at the conspiracy of creating an Ismaili state in the north. This is an utter misconception; that is being proliferated by religious extremists. The Ismailis in GB are some of the most tolerant, peaceful, educated and law abiding citizens of Pakistan.

The grandfather of the present Agha Khan played a crucial role in the founding of the “All Indian Muslim League” in 1906, and he was the one who suggested this name and became its first president. The philanthropy of the Agha Khan foundation have benefitted the entire country, including GilgitBaltistan in the fields of education, healthcare, heritage and other sectors irrespective of one’s religious belief.

The Ismailis in GB are some of the most tolerant, peaceful, educated and law abiding citizens of Pakistan


It is unfortunate that falsehood is permitted in a fashion which paves the way for violence. The arrests made last year, due to possession of weapons and anti-state literature — was claimed by the police to be the doing of Indian RAW agents. Hence it is highly defamatory of analysts to accuse them of sedition against Pakistan.

It is important that the rest of Pakistan is aware of the love that people from GB have for Pakistan; it is the patriotism that the rest of the country possesses. In this light, their issues should also not be brushed aside. All that these zealous nationalists want is a constitutional status, and complete merger with Pakistan. Their demand of wanting to be constitutional citizens of Pakistan is not unreasonable, nor is their desire for the fifth province of GB. The people of Gilgit Baltistan are completely loyal to Pakistan and all of them are willing to lay their life for Pakistan. There are no anti-Pakistan sentiments in GilgitBaltistan or a slogan against CPEC. The people of Gilgit Baltistan always say that “we are Pakistanis first, Pakistanis last and always”.

The writer is a retired brigadier and currently commissioner of the Afghan Refugees Organisation, Balochistan

Published in Daily Times, September 13th 2018.




Friday, September 14, 2018

روشن کہیں بہار کے امکان؟ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے لئے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں، خاص طور پر معیشت کی دگر گو صورت حال کو۔۔۔۔ پڑھیں نزیر ناجی کا کالم 14سممبر 2018

روشن کہیں بہار کے امکان؟ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے لئے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں، خاص طور پر معیشت کی دگر گو صورت حال کو۔۔۔۔ پڑھیں نزیر ناجی کا کالم 14سممبر 2018

روشن کہیں بہار کے امکان؟ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے لئے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں، خاص طور پر معیشت کی دگر گو صورت حال کو۔۔۔۔ پڑھیں نزیر ناجی کا کالم 14سممبر 2018

روشن کہیں بہار کے امکان؟ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے لئے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں، خاص طور پر معیشت کی دگر گو صورت حال کو۔۔۔۔ پڑھیں نزیر ناجی کا کالم 14سممبر 2018





Tuesday, September 11, 2018

ریاست مدینہ، جناح کا پاکستان اور نیا پاکستان : عاصمہ شیرازی

ریاست مدینہ، جناح کا پاکستان اور نیا پاکستان : عاصمہ شیرازی

ریاست مدینہ، جناح کا پاکستان اور نیا پاکستان : عاصمہ شیرازی

عاطف میاں کے عقیدے کی وجہ سے ان کی تقرری کی شدید مخالفت کی گئی جس کے بعد انھوں نے استعفیٰ دے دیا تھا
ذہن میں ایک آندھی جو چل رہی ہے،بار بار لکھتی ہوں اور مٹا دیتی ہوں۔ وسوسے کچھ اوربڑھ گئے ہیں، اندیشے دو چند ہو چکے ہیں۔ اب تو لفظ اس قدر محتاط ہیں کہ کاغذ پر بکھرنے کو بھی تیار نہیں۔ زبان لفظوں سے محروم، بولتی ہے تو لکنت اور نہ بولے تو ضمیر کی مجرم۔ سوچ سوچ کر ہلکان ہوں کہ ہم کس قسم کا پاکستان تشکیل دے رہے ہیں جہاں ریاست مدینہ تو دورکی بات، جناح کا پاکستان تو درکنار، چند دہائیوں قبل والا پاکستان بھی گمُ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

بہت وقت دیا گیا ہے نفرتیں کاشت کرنے کے لیے، اب عدم برداشت کی فصل تیار ہے۔ ریاست مدینہ میں بھائی چارہ تھا، برداشت تھی، اخوت تھی۔ خواب بہت اچھا ہے جناب وزیراعظم کا لیکن کیا کیا جائے کہ تعبیرممکن ہو؟


جناح کا پاکستان جہاں ہر شخص اپنے مذہب پرعمل کے لیے آزاد ہو۔ مندر، مسجد، گرجا گھر، سب اپنے اپنے عقائد میں آزاد ہوں مگر گلا تو ابتدا میں ہی گھونٹ دیا گیا۔ یقین کیجیے معاملہ عاطف میاں کی تقرری اور تنزلی سے کہیں زیا دہ کا ہے۔ کہ ہم یہ فیصلہ کب اور کیسے کریں گے؟ ہم نے کیسے جناح کی ریاست تشکیل دینی ہے جو مزید 70 سال مانگتی ہے، یا کم از کم اس کی جانب کوئی قدم تو اٹھائیں اور وہ کیا ہو؟ کوئی ایجنڈا سامنے نہیں ہے۔

ہم جس معاشرے کے باسی ہیں وہاں کے قواعد ہی الگ بنا دیے گئے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگے، دعوے اتنے بڑے بڑے کرو کہ حقیقت محسوس ہونے لگے، فریب ایسا دو کہ اجالے تک پشیمان ہوں۔ خواب ایسے پیش کرو کہ تعبیر ڈھونڈنی ہی نہ پڑے۔ دن میں سورج سے کشمکش اور رات میں چاندنی سے الجھو، سماج اس قدر حقیقتوں سے دور کر دو کہ بس بات بے بات دلیل نہیں منہ سے گالی نکلے۔ کچھ ایسا ہی معاشرہ ہم تعمیر کررہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم منزل کی بات کرنے والے کہیں راستے سے بھی بےخبر تو نہیں ہو رہے۔

جناب عاطف میاں کی تعیناتی کی خبر گویا بجلی کی طرح گری۔ اقتصادی مشاورتی کونسل میں یوں تو درجن سے زائد اراکین تھے جن کا کام محض مشورے دینا ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ عملدرآمد سراسر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ کونسل صرف حکومت کی معاونت کرتی ہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے۔ باقی فیصلہ حکومت کو خود کرنا ہوتا ہے۔ اب سے پہلے اقتصدی کونسل میں کون کون رہا کسی کو معلوم بھی نہیں مگر کپتان کی حکومت میں اس کمیٹی کے اعلان کے ساتھ ہی گویا بھونچال آ گیا۔ کیوں؟

یہ اگست 2014 کے دن تھے۔ کپتان دارالحکومت کے ڈی چوک میں دھرنا دیے بیٹھے تھے، دھاندلی کے الزامات اور حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے تھے۔۔ پھر ایک دن جناب خان صاحب نے اعلان کیا کہ میں جب حکومت بناؤں گا تو اپنا سمدھی وزیرخزانہ لگانے کی بجائے دنیا کے 25 پائے کے اقتصادی ماہرین میں سے ایک۔۔ عاطف میاں کو وزیر خزانہ بناؤں گا اور جب وہ یہ اعلان کر رہے تھے تو ان کے کان میں نام بتانے والے کوئی اور نہیں خود جہانگیر ترین تھے۔ یہ ویڈیو آج بھی دستیاب ہے۔

اس بیان کے بعد بھی واواکار مچی، یہاں تک کہ خان صاحب کو وضاحت دینا پڑی جس میں انھوں نے اعتراف کیا کہ انھیں یہ علم نہیں تھا کہ عاطف میاں احمدی ہیں۔ کہانی یہاں تک کچھ بہت دلچسپ نہیں ہے، اس میں موڑ تب آیا جب حکومت کی تشکیل کے بعد عاطف میاں کا اعلان ہوا۔ بحیثیت وزیر خزانہ نہیں بلکہ بحیثیت مشاورتی کمیٹی کے رکن کے طور پر۔

وزیراعظم کا فیصلہ قطعی طور پر پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے تھا مگر اس فیصلے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پرایک طوفان برپا ہو گیا۔ سوشل میڈیا سے شہلا رضا اور شہلا رضا سے قومی اسمبلی و سینیٹ۔ حکومت کو دی جانے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے گلی کوچوں میں بھی احتجاج کی منصوبہ بندی متوقع تھی کہ عاطف میاں نے خود ہی حکومت سے معذرت کی اطلاع دی۔

عمران خان نے 2014 میں دھرنے کے دنوں میں عاطف میاں کو وزیرِ خزانہ بنانے کا بھی اعلان کیا تھا
طے پایا کہ سوشل میڈیا کے پیغام میں وہ اپنی ذاتی مصروفیات کا بہانہ بنائیں گے۔۔ مگر اس سے قبل ہی اس خبر کو پھیلا دیا گیا کہ عاطف میاں کو عہدہ چھوڑنے کا کہہ دیا گیا ہے۔ عاطف میاں نے اپنی ساکھ کے مدنظر استعفے کا اعلان کیا اور حکومت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سبکی اٹھانی پڑی۔

اس ساری صورتحال میں چند سوالات جنم لیتے ہیں۔

جب عمران خان صاحب پہلے ہی اس ردعمل کا سامنا کر چکے تھے تو یہ فیصلہ لینے کی ضرورت کیا تھی؟ وزیراعظم کو فیصلے پر قائم رہنا چاہیے تھا۔۔ کیا یہ معاملہ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوال نہیں اٹھا رہا؟ اب تک کے فیصلوں میں اُن کی جماعت کا سوشل میڈیا ایکٹوازم یا آپسی لڑائی جگ ہنسائی کے مواقع پیدا نہیں کر رہی؟ حکومت شدید معاشی بحران میں اس طرح کے فیصلوں کی متحمل کیسے ہو سکتی ہے؟

گرتی ہوئی معیشت بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے دھچکے کیسے سنبھالے گی؟ اس کا ادراک وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو تو ہے لیکن شاید حکومت میں کسی اور کو نہیں۔ آنے والے دنوں میں جہاں عالمی سطح پر دہشت گردی کی اعانت کے الزامات کے تناظر میں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں وہیں پر اس طرح کے واقعات ریاست کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔۔ جس کا متحمل پاکستان اور بیرون ملک پاکستانی نہیں ہو سکتے۔

ہمیں اپنی انتہا پسند سیاہ کاریوں کو سفید کرنے کے لیے سچ کو بنیاد بنانا ہو گا ورنہ ہمیں کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں ہم خود کے لیے خود ہی کافی ہیں۔

کرٹیسی بی بی سی اردو:  بی بی سی




Friday, September 7, 2018

چند ماہر ایجنٹ اور خوبرو حسینائیں عمران خان کے خلاف ایک خوفناک چال چلنے والے ہیں : ۔سہیل وڑائچ نے خبردار کردیا

چند ماہر ایجنٹ اور خوبرو حسینائیں عمران خان کے خلاف ایک خوفناک چال چلنے والے ہیں : ۔سہیل وڑائچ نے خبردار کردیا

چند ماہر ایجنٹ اور خوبرو حسینائیں عمران خان کے خلاف ایک خوفناک چال چلنے والے ہیں : ۔سہیل وڑائچ نے کپتان کو بڑے خطرے سے خبردار کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) کون کہتا ہے کہ ابن صفی مر گیا، ابن صفی اب بھی زندہ ہے۔ عمران سیریز بھی چل رہی ہے اور جاسوسی ناولوں کے تمام کردار بھی اسی طرح اپنا کام کر رہے ہیں۔ ہنودویہود کی سازشیں اب بھی اسی طرح جاری و ساری ہیں۔ ساری دنیا متحد ہو کر

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے لئے اب بھی معاشی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ امریکہ نے 300 ملین ڈالر کی جو امداد بند کی ہے اس سے امریکہ کے پاکستان مخالف ارادے صاف ظاہر ہوتے ہیں۔ عوام خان کل بھی ابن صفی کی دنیا میں زندہ تھا اور آج بھی اسی دنیا میں زندہ ہے۔ وہ کل بھی افسانوی اور جاسوسی کہانیوں کو سچ سمجھتا تھا اور آج بھی انہیں سچ سمجھتا ہے، ملک و قوم بچانے کے لئے ابن صفی کا ہیرو عمران تھا اور آج عوام خان بھی دنیا بھر کا مقابلہ کرنے کے لئے عمران کو ہیرو سمجھتا ہے۔ کل کا افسانہ بھی یہی تھا کہ دنیا بھر کے یہود و ہنود اکٹھے ہو کر ہمارے ملک کے خلاف سازشیں تیار کر چکے ہیں۔ پاکستان میں ان کے سیاسی ایجنٹ اور حسینائیں، عوام خان کو جھانسے میں لانے کے لئے میدان میں اتر چکے ہیں۔ اسی جاسوسی دنیا سے یہ خبر بھی آئی ہے۔ آصف زرداری کو ڈاکٹر نے دوپہر کے کھانے میں دس ڈالر اور ہزار پائونڈ کا ملیدہ کھانے کا مشورہ دیا ہے اسی لئے وہ آج کل دوپہر کا کھانا عوام خان کے سامنے نہیں بلکہ چھپ کر کرتے ہیں۔ یہ بھی پتہ پڑا ہے کہ آصف زرداری نے سوئس بینکوں میں سرنگ لگا کر وہاں سے اپنے ڈالر غائب کر لئے ہیں۔ اسی جاسوسی کی دنیا کے جیمز بانڈ نے یہ بھی بتایا ہے آصف زرداری نے فرانس کا پرانا محل اور برطانیہ کا سرے محل دوبارہ سے آراستہ کروا لئے ہیں جونہی اعتزاز احسن صدر کا انتخاب ہاریں گے زرداری صاحب برطانیہ اور فرانس کے ’’سرکاری‘‘ دورے پر روانہ ہو جائیں گے۔ اسی ’’ابن صفات‘‘ میں ہیرو عمران کے ذمہ یہ لگا ہے کہ وہ ولن آصف زرداری کو بیرون ملک جانے سے روکے اور چاہے پیٹ میں چاقو ہی کیوں نہ مارنا پڑے، پیٹ چاک کرکے کروڑوں ڈالر برآمد کرے جو آج کل زرداری صاحب دوپہر کے کھانے میں کھاتے ہیں۔یہودی سازشوں کے حوالے سے فریدی سیریز کے ذریعے انکشاف ہوا ہے کہ سنگ ھی نامی ولن دراصل پاکستان کا ایک نامور سیاستدان تھا جس نے اپنے اصلی نام کو چھپا کر سنگ ھی کے نام سے خود کو مشہور کیا ہوا تھا۔ جونہی منی ٹریل کے ذریعے سے منی لانڈرنگ کی پوری کہانی ملی فوراً ہی فیصلہ کیا گیا کہ کس طرح عمران کی مدد سے منی لانڈرنگ کے سارے نیٹ کو بے نقاب کرکے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا ہے۔عمران سیریز کی تازہ کتاب ’’اڈیالہ سازش کیس‘‘ میں ملک و قوم کے خلاف بڑی سازش اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے۔ ہیرو عمران کو ایک معتبر ذریعے سے خبر ملتی ہے جس کی حمید عون چودھری تصدیق کرتے ہیں کہ خواجہ آصف نامی ایک سیالکوٹی مفرور، پرویزرشید نامی ایک بین الاقوامی گروہ کا سرغنہ اور بین الاضلاعی لائلپوری گینگ کا اہم کردار رانا ثناءاللہ گزشتہ رات بارہ بجے اڈیالہ جیل سے دو کلو میٹر دور ایک اندھیرے مکان سے گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ حمید عون چودھری نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ تینوں پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش میں مصروف تھے۔ اگر یہ کامیاب ہو جاتے تو پاکستان کا قرضہ دوگنا ہوجاتا، گردشی قرضے چھ گنا ہو جاتے۔ سیلاب آجاتا، طوفان آجاتا، سب کچھ ادھر ادھر ہو جاتا۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ یہ کرنا کیا چاہتے تھے۔ حمید عون چودھری جو عمران سیریز میں ہمیشہ عمران کے مددگار ہوتے ہیں، نے روتے ہوئے بتایا کہ یہ سارے مجرم دراصل اندھیرے میں بیٹھے ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے جس پر ہمیں شک ہوا اور اب یہ شک یقین میں بدل چکا ہے کہ سارے اکٹھے ہو کر نواز شریف کی خوبیاں بیان کر رہے تھے جو کہ ایک بہت بڑی سازش کاپیش خیمہ ہے، اس لئے انہیں فوراً گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اور اب ان کی اس غداری کی سزا انصاف کے ایوانوں سے ملے گی۔عمران سیریز کے ہیرو کو یہ مصدقہ اطلاع بھی ملی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ملک و قوم کے خلاف ایک خفیہ اتحاد بنانے کی کوششوں میں ہے۔ اس اتحاد کا مقصد ملک میں ڈینگی وائرس پھیلانا، ملیریا کو عام کرنا اور خاص کر ان ووٹرز کو بیمار کرنا ہے جنہوں نے اس بار تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا۔ جونہی حکومتی عہدیداروں کو اس باغیانہ سرگرمی کی اطلاع ملی ، اسی لمحے سرکاری اور غیر سرکاری ہر سطح پر اس خفیہ اتحاد کے خلاف منظم کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ امید ہے کہ چند دنوں تک پوری سازش طشت ازبام ہو جائے گی اور اس کے باقی کردار بھی سامنے آجائیں گے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ اس سازش میں امریکہ، اسرائیل، بھارت، افغانستان اور دنیا کےدیگر ممالک شامل ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ عمران سیریز کے ہیرو ہمیشہ کی طرح ان وطن دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور ایسا قلع قمع کریں گے کہ یہ مجرمانہ گروہ کبھی دوبارہ سے ایسی سازش کا سوچ بھی نہ سکے۔عمران سیریز کی ایک اور کتاب ’’شیخو کی شیخیاں‘‘ میں یہ دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح عمران کے بہادر ساتھی

شیخوپنڈی وال نے دیوار پھلانگ کر امریکی صدر ٹرمپ کے اس ٹویٹ کا کھوج لگایا جو اس نے پاکستان کے خلاف دیا تھا۔ شیخوپنڈی وال کو اب مودی کی جاسوسی کے لئے بھیجا رہا ہے۔ اب ان کے ذمہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ یہ پتہ لگائیں کہ مودی کے اندر سے بھارت دشمنی کی جو بو آتی ہے اس کا مرکز کیا مودی کے جسم کے اندر ہے یا پھر کہیں اور؟ امید ہے ہمیشہ کی طرح شیخوپنڈی وال اس مشن سے بھی کامیاب لوٹیں گے اور عمران سیریز کے لئے ایک نئی کتاب ’’شیخو اور مودی‘‘ کا اضافہ کریں گے۔ابن صفی کبھی مرا نہیں تھا پہلے بھی اپنی کتابوں کے ذریعے زندہ تھا اور آئندہ بھی زندہ رہے گا۔ البتہ ابن صفی کی عمران سیریز ان دنوں کچھ زیادہ ہی پاپولر ہوگئی ہے۔ لگتا ہے کہ افسانوی دنیا، حقیقی دنیا پر اتر آئی ہے۔ ہر حقیقی کردار پر بھی آج کل افسانوی کردار کا گمان ہونے لگا ہے۔ آس پاس کوئی بھی اصلی انسان نظر نہیں آرہا، یاتو کوئی عمران سیریز کا ہیرو ہے یا پھر اس کا ولن؟ وہ جو اس سیریز کے کردار نہیں ان کا کوئی کردار ہی نہیں رہا، انہیں چاہئے وہ سو جائیں۔۔۔





Monday, August 27, 2018

اوئے بے صبرو، چھ ماہ تو انتظار کرلو، جہاں 70 انتظار کیا اور صرف چھ ماہ۔ سب کچھ بدلنے والا ہے: پڑھیں سہیل وڑائچ کا کالم

اوئے بے صبرو، چھ ماہ تو انتظار کرلو، جہاں 70 انتظار کیا اور صرف چھ ماہ۔ سب کچھ بدلنے والا ہے: پڑھیں سہیل وڑائچ کا کالم

اوئے بے صبرو، چھ ماہ تو انتظار کرلو، جہاں 70 انتظار کیا اور صرف چھ ماہ۔ سب کچھ بدلنے والا ہے: پڑھیں سہیل وڑائچ کا کالم

اوئے بے صبرو، چھ ماہ تو انتظار کرلو، جہاں 70 انتظار کیا اور صرف چھ ماہ۔ سب کچھ بدلنے والا ہے: پڑھیں سہیل وڑائچ کا کالم







Wednesday, August 8, 2018

پڑھیئے: روف کلاسرا کا کالم:چیف جسٹس سے دو سو ارب ڈالرز کی اپیل !

پڑھیئے: روف کلاسرا کا کالم:چیف جسٹس سے دو سو ارب ڈالرز کی اپیل !

پڑھیئے: روف کلاسرا کا کالم:چیف جسٹس سے دو سو ارب ڈالرز کی اپیل !

پڑھیئے: روف کلاسرا کا کالم:چیف جسٹس سے دو سو ارب ڈالرز کی اپیل !





Monday, August 6, 2018

Unwan aap ka hua..! by Babar Awan (dunya news)

Unwan aap ka hua..! by Babar Awan (dunya news)

Unwan aap ka hua..! by Babar Awan (dunya news)





Khoon-e-Jigar Say - Column by Haroon Rashid

Khoon-e-Jigar Say - Column by Haroon Rashid




Thursday, May 3, 2018

Wednesday, April 11, 2018

Monday, April 9, 2018

پڑھئیے تحریک انصاف کے رہنما  بابر اعوان کا کالم ، خشکی کے آنسو ۔ اب انہیں خشکی کے آنسو کہہ لیں.....

پڑھئیے تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کالم ، خشکی کے آنسو ۔ اب انہیں خشکی کے آنسو کہہ لیں.....

پڑھئیے تحریک انصاف کے رہنما  بابر اعوان کا کالم ، خشکی کے آنسو ۔ اب انہیں خشکی کے آنسو کہہ لیں.....




Courtesy: Dunya




Tuesday, February 27, 2018

Thursday, February 22, 2018

فیس بک، احتیاط بھیّا، یہاں جھوٹ سر چڑھ کر بول رہا ہے

فیس بک، احتیاط بھیّا، یہاں جھوٹ سر چڑھ کر بول رہا ہے

فیس بک، احتیاط بھیّا، یہاں جھوٹ سر چڑھ کر بول رہا ہے

کراچی ( محمد اسلام:  جنگ ) انٹرنیٹ، فیس بک، واٹس اَپ، میسینجر اور انسٹاگرام جیسی جدید سہولتوں نے عصر حاضر کے انسانوں میں رابطوں کے ساتھ ساتھ انہیں تنہائی کا شکار کر دیا ہے جبکہ اس سلسلے میں افسوس ناک صورت یہ ہے کہ ان ذرائع سے آنے والی ہر چیز کو حضرت سادہ دِل جوں کا توں تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیکن بھیّا! احتیاط… یہاں جھوٹ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ فراڈ پہلے سے زیادہ آسان ہوگیا ہے اور انٹرنیٹ کی بعض معلومات سے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں، انگیج میوچوئل کے ماہرین نے تحقیق کی ہے کہ انٹرنیٹ پر بیماری اور علامات تلاش نہ کریں ورنہ مزید بیمار ہو جائیں گے۔ لوگوں کی اکثریت یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ بس اب وہ مرنے والے ہیں یا سینے کے معمولی درد میں مبتلا افراد اسے ہارٹ اٹیک تصور کرتے ہیں۔ دیکھ لیا جناب!

سیاسی جماعتوں، کمرشل اداروں کے ساتھ ساتھ دو نمبر کے حکیموں، اَتائی ڈاکٹروں اور خودساختہ ماہرین نے بھی نہ صرف فیس بک کا رُخ کرلیا ہے بلکہ وہ اپنی خودساختہ، جعلی اور پراپیگنڈہ پر مبنی پوسٹیں شیئر کرتے ہیں۔ جس سے لوگ گمراہ بھی ہو رہے ہیں اور ان پر نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مالی نقصانات کی تفصیل علیحدہ ہے۔

برادران اسلام! وطن عزیز میں ہو یہ رہا ہے کہ کبھی شہر کی دیواروں پر جو اشتہارات تحریر ہوتے تھے اب وہ تیزی سے فیس بک پر منتقل ہو رہے ہیں اور دو نمبریوں کیلئے فیس بک پر اپنا شکار تلاش کرنا آسان ہوگیا ہے، چلیں صرف علاج کی بات کر لیں بیشتر مریضوں کو فیس بک اور انٹرنیٹ کے ذریعے دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے بھانت بھانت کے ماہرین براہ راست رابطہ کر کے یہ دعویٰ کر رہےہیں ہر مرض کا علاج نہ آپریشن نہ ادویات، کمر، گردن اور گھٹنے کا درد شرطیہ ختم، ذیابیطس، بلندفشار خون وغیرہ کا مکمل خاتمہ، محبوب آپ کے قدموں میں اور رُوٹھی ہوئی بیوی شرطیہ میکے سے گھر پہنچنے کی گارنٹی والا معاملہ لگتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ہر مرض اور ہر علامت اپنے اندر ازخود تلاش کر لیتے ہیں یا اگر وہ کسی مرض میں مبتلا ہیں تو ہر دوا ہر جڑی بوٹی انہیں اپنے مرض کے مطابق دکھائی دیتی ہے۔ بعض اوقات ان کی باتوں پر لوگ زیرلب مسکراتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں مگر موصوف اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ برداران اسلام! معلومات کے حصول اور کسی ماہر سے علاج کرانے میں بڑا فرق ہے ہر جڑی بوٹی ٹوٹکے یا دوا کے پیچھے بھاگنا عقل مندی نہیں افواہ، اطلاع اور خبر میں فرق کیجئے؟ تصدیق کرنے سے پہلے عمل مت کیجئے.

اصل سورس پر پڑھیں

Tuesday, February 20, 2018

ھارون الرشید کا کالم: خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے: کیا وہ پست ہوجائے گا اور ہار جائے گا، عام کا خیال مختلف ہے : پورا کالم پڑھیں

ھارون الرشید کا کالم: خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے: کیا وہ پست ہوجائے گا اور ہار جائے گا، عام کا خیال مختلف ہے : پورا کالم پڑھیں

ھارون الرشید کا کالم: خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے: کیا وہ پست ہوجائے گا اور ہار جائے گا، عام کا خیال مختلف ہے : پورا کالم پڑھیں




Follow us on social media to get instent updates....

|Twitter| |Facebook| |Pinterst| |Myvoicetv.com|
Example

Send your news/prs to us at myvoicetv.outlook.com..

Note: The views, comments and opinions expressed on this news story/article do not necessarily reflect the official policy or position of the management of the website. Companies, Political Parties, NGOs can send their PRs to us at myvoicetv@outlook.com

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________
loading...