Express ☺ your view, expression on this post, via Facebook comment in the below box… (do not forget to tick Also post on facebook option)

Showing posts with label Javed Chaudhry. Show all posts
Showing posts with label Javed Chaudhry. Show all posts

Wednesday, November 1, 2017

پاکستانی نظام کا نوحہ :  از جاوید چوہدری

پاکستانی نظام کا نوحہ : از جاوید چوہدری

پاکستانی نظام کا نوحہ :  از جاوید چوہدری


صدر الدین ہاشوانی ملک کے ممتاز بزنس مین ہیں‘ یہ اسماعیلی ہیں‘ پرنس کریم آغا خان کو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں‘ اسماعیلیوں کی تین نشانیاں ہیں‘ علم دوستی‘ بزنس اور خیراتی ادارے۔ آپ کیلئے شاید یہ انکشاف ہو‘ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی بنیاد بھی اسماعیلیوں نے رکھی تھی اور جامع الازہر بھی انہوں نے بنائی تھی‘ اسماعیلیوں کے چودھویں امام المعوز نے الازہر مسجد اور دنیا کی پہلی اسلامی یونیورسٹی جامع الازہر کی بنیاد رکھی‘ ہاشوانی صاحب کا خاندان 1840ء میں اسماعیلیوں کے 46ویں امام‘امام حسن علی شاہ کے ساتھ ایران سے بلوچستان آیا‘ امام حسن علی شاہ آغا خان اول کہلاتے ہیں‘ امام سندھ سے ہوتے ہوئے ممبئی چلے گئے لیکن ہاشوانی فیملی بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں اقامت پذیر ہوگئی تاہم والدہ کا خاندان گوادر میں مقیم تھا‘ والد حسین ہاشوانی کراچی میں کپاس کا کاروبارر کرتے تھے‘ یہ برطانیہ کی کمپنی رالی برادرز کو کپاس سپلائی کرتے تھے‘ صدر الدین حسین ہاشوانی کے سات بچوں میں سے ایک ہیں‘ یہ چھٹے بچے ہیں‘ یہ 1940ء میں کراچی میں پیدا ہوئے‘ یہ اچھے طالب علم نہیں تھے چنانچہ زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے‘ صدرالدین نے جوانی میں اپنے بہنوئی شمس الدین کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا‘ یہ لوگ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گندم سپلائی کرتے تھے‘ یہ ایک مشکل کام تھا لیکن صدر الدین ہاشوانی یہ کام کرتے رہے‘ یہ دھان منڈی سے خود گندم خریدتے تھے‘ یہ اس گندم کو خود ٹرکوں پر لدواتے‘ یہ گندم بلوچستان کے انتہائی مشکل اور دور دراز علاقوں میں بھجوائی جاتی‘ ہاشوانی صاحب بعد ازاں ٹرکوں‘ بسوں اور گدھوں پر سفر کرتے ہوئے ان علاقوں میں پہنچتے‘ بل کلیئر کرواتے اور اسی طرح دھکے کھاتے ہوئے واپس کراچی آجاتے‘ ہاشوانی نے اپنا سفر وہاں سے شروع کیا‘ یہ آج پاکستان کے نامور بزنس مین ہیں‘ یہ ملک میں دس فائیو سٹار ہوٹلز کے مالک ہیں‘ یہ ملک کے باہر بھی درجنوں ہوٹل چلا رہے ہیں اور یہ دنیا کے نصف درجن سے زائد ممالک میں تیل اور گیس کی تلاش کاکام بھی کرتے ہیں۔ہاشوانی صاحب نے چند روز قبل ”ٹروتھ آل ویز پرویلز“ کے نام سے اپنی بائیو گرافی لکھی‘ یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں‘ یہ کمال کتاب ہے‘ میں نے کل یہ کتاب پڑھنی شروع کی اور بڑے عرصے بعد ایک ہی نشست میں یہ کتاب پڑھ گیا‘ یہ کتاب پاکستان کے سیلف میڈ لوگوں کا نوحہ ہے‘ یہ آپ کو بتاتی ہے ہمارے ملک میں ترقی کرنا کتنا مشکل ہے اور ایک عام انسان کو خاک سے اٹھ کر عرش تک پہنچنے میں کتنے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے‘


انسان کس کس در کے دھکے کھاتا ہے اور اسے کتنے پاپڑبیلنے پڑتے ہیں‘ ہاشوانی صاحب کے ان کٹھن مراحل کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور آپ اگر پاکستان کے سیلف میڈ بزنس مین ہیں تو آپ بھی ان چاروں مراحل سے گزرے ہوں گے یا پھر گزر رہے ہوں گے‘ ہاشوانی صاحب کی حیات کا پہلا مرحلہ فیملی ایشوز تھے‘ یہ ان تھک کام کرنے والے وژنری شخص ہیں‘ یہ بہنوئی کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کرتے ہیں‘ یہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں جبکہ بہنوئی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے‘

وہ دس بجے دفتر آتے تھے‘ کرسی پر بیٹھ کر دو تین گھنٹے جھولتے تھے‘ پھر لنچ کرنے کلب چلے جاتے تھے‘ شام کوگھر روانہ ہو جاتے تھے اور رات کو دوبارہ سوشل ایکٹوٹیز میں مصروف ہو جاتے تھے مگر ہاشوانی صاحب محنت کرتے رہے‘ یہ کاروبار کو ترقی دیتے رہے‘ کاروبار جب اپنی معراج کو چھونے لگا تو بہنوئی نے ان پر 5 ہزار روپے چوری کا الزام لگا کر انہیں فارغ کر دیا‘ ہاشوانی صاحب لکھ سے ککھ پتی ہو گئے مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری‘ نئی کمپنی بنائی اور مختلف کمپنیوں کو کپاس کی گانٹھیں باندھنے کی آہنی پٹیاں سپلائی کرنا شروع کر دیں‘

یہ وہاں سے کپاس اور چاول کے بزنس میں آئے اور کمال کر دیا جبکہ ان کے مقابلے میں ان کے بہنوئی دیوالیہ ہو گئے‘ یہ بزنس کے ساتھ دوسرے فیملی ایشوز میں بھی الجھے رہے‘ ہم جوں جوں ان کی بائیو گرافی پڑھتے ہیں‘ ہمیں احساس ہوتا ہے ہمارے ملک میں فیملی ایشوز کام کرنے والے لوگوں کا کارآمد ترین وقت ضائع کر دیتے ہیں‘آپ اندازہ لگائیں ہاشوانی صاحب نے ساٹھ کی دہائی میں شادی کی‘ پانچ بچے پیدا ہوئے‘ یہ بچے جوان ہوئے اور ہاشوانی صاحب نے 2011ء میں بڑھاپے میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی‘ یہ طلاق ان ایشوز کا نتیجہ تھی جن کا یہ چالیس برس تک سامنا کرتے رہے‘

ہاشوانی صاحب کی حیات کا دوسراکٹھن مرحلہ کاروبار تھا‘ ہمارے ملک میں کوئی سسٹم‘ کوئی پالیسی نہیں‘ پاکستان میں لوگوں کو کاروبار کرنے کیلئے ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں‘ یہ روز ٹنل سے گزرتے ہیں‘ ہاشوانی صاحب بار بار بتاتے ہیں‘ حکومت تبدیل ہونے سے ہمارا سارا نظام تبدیل ہو جاتا ہے‘ جنرل ایوب خان نے ملک میں کاروباری ماحول پیدا کیا لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے آ کر صنعتوں کو قومیا لیا اور یوں ریورس گیئر لگ گیا‘ ملک کے درجنوں صنعتی اور کاروباری گروپ صفر ہو گئے‘

لوگ سرمایہ سمیٹ کر ملک سے باہر چلے گئے‘ قوم آج تک بھٹو صاحب کے اس غلط فیصلے کا تاوان ادا کر رہی ہے‘ یہ بار بار بتاتے ہیں حکومتیں کاروباری گروپوں کو نقصان پہنچانے کیلئے انتہائی نچلی سطح پر چلی جاتی ہیں‘ یہ ٹیکس کے جھوٹے مقدمے بناتی ہیں اور کاروباری شخصیات کو جیلوں میں بھی پھینک دیتی ہیں‘ان ہتھکنڈوں سے ملکی معیشت کونقصان پہنچتا ہے‘ ہاشوانی صاحب کی کتاب کا تیسرا حصہ سیاسی مداخلتوں کی گھناؤنی داستانوں پر مشتمل ہے‘ ہاشوانی صاحب نے کتاب میں ذکر کیا جنرل ضیاء الحق نے کراچی میں ان سے پوچھا ”کیا خبر ہے!“ ہاشوانی صاحب نے جواب دیا ”بھٹو صاحب نے ملک میں صرف پوٹیٹو کارپوریشن آف پاکستان قائم کی تھی لیکن آپ کے دور میں ٹی وی کھولیں تو وہاں مُلا ہی مُلا نظر آتے ہیں‘ آپ براہ کرم معیشت پر توجہ دیں‘ ہم ڈوب رہے ہیں‘

کارپوریشنوں کو بیورو کریٹس سے نجات دلائیں‘ کرپشن میں اضافہ ہو چکا ہے“ جنرل ضیاء الحق اس بات پر ناراض ہو گئے‘ ہاشوانی صاحب کے خلاف تادیبی کارروائیاں شروع ہو گئیں‘ یہ گرفتار بھی ہوئے‘ حوالات میں بھی رکھے گئے اور ان کے خلاف لمبے چوڑے مقدمے بھی قائم ہوئے‘ ہاشوانی صاحب نے بھٹو صاحب کے بارے میں لکھا‘ وہ صنعتوں کو قومیانے کے عمل کے دوران کراچی کے مشہور وکیل اور اپنے استاد رام چندانی ڈنگو مل سے ملنے گئے‘

ڈنگو مل نے ان سے کہا ”ذلفی تم نے تعلیم کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا“ بھٹو نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ”پریشان مت ہو‘ تمہارے اور میرے بچوں نے کون سا پاکستان میں تعلیم حاصل کرنی ہے؟“۔ہاشوانی نے انکشاف کیا”محمد خان جونیجو نے انہیں اپنی سمگل شدہ مرسڈیز کار بیچنے کی کوشش کی‘ یہ نہ مانے تو ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع ہو گئیں‘ جنرل ضیاء الحق اور محمد خان جونیجو دونوں ان کے خلاف تھے اور یہ جان بچانے کیلئے ملک کے مختلف علاقوں میں روپوش ہونے پر مجبور ہو گئے یہاں تک کہ پیر صاحب پگاڑا نے ان کی جان بخشی کرائی‘

ہاشوانی صاحب نے انکشاف کیا‘ جنرل ضیاء الحق کو کسی نے غلط فہمی میں مبتلا کر دیا”میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو 25 لاکھ روپے چندہ دیا ہے“ جنرل ضیاء نے کارروائیاں تیز کر دیں۔ یہ جنرل ضیاء سے بچے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کے رگڑے میں آ گئے‘ ہاشوانی صاحب نے یہ انکشاف بھی کیا‘ آصف علی زرداری کا کراچی میں ان کے ہوٹل کے ڈسکو میں کسی سے جھگڑا ہو گیا‘ ہوٹل کی انتظامیہ نے زرداری صاحب کو ہوٹل سے باہر پھینک دیا‘ آصف علی زرداری نے یہ بات دل میں رکھ لی‘ یہ بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر بن گئے تو پیپلز پارٹی کے دونوں ادوار میں انہیں بے تہاشہ تنگ کیا گیا‘ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور اقتدار میں انہیں اغواء اور قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا‘ جنرل آصف نواز جنجوعہ اس وقت کراچی کے کور کمانڈر تھے‘

انہوں نے ان کی مدد کی اور یوں یہ لندن میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے‘یہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں بھی کبھی ملک کے اندر اور کبھی ملک سے باہر بھاگتے رہے‘ آصف علی زرداری 2008ء میں صدر بنے تو میریٹ اسلام آباد پر حملہ ہو گیا‘ یہ حملہ انہیں اور ان کے خاندان کو مروانے کیلئے کیا گیا تھا‘ حکومت نے حملے کے بعد ان پر دباؤ ڈالا‘آپ میڈیا کو بیان جاری کریں آصف علی زرداری ہوٹل میں مدعو تھے اور یہ حملہ انہیں مارنے کیلئے ہوا تھا‘ ہاشوانی صاحب نے انکار کر دیا اور یوں یہ ایک بار پھر عتاب کا شکار ہو گئے اور انہیں جان بچانے کیلئے دوبئی شفٹ ہونا پڑ گیا‘ یہ پانچ سال دوبئی رہے‘ ہاشوانی صاحب نے انکشاف کیا‘ میاں نواز شریف بھی انہیں بے نظیر بھٹو کا آدمی سمجھتے تھے اور یہ میاں صاحب کے دونوں ادوار میں بھی حکومتی انتقام کا نشانہ بنتے رہے‘

میاں صاحب بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی کراتے رہے۔ہاشوانی صاحب کی کتاب کا چوتھا حصہ ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق ہے‘ ان کا دعویٰ ہے حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملکی سرمایہ کاروں پر فوقیت دیتی ہے‘ یہ ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کر رہے تھے لیکن حکومتیں ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر تی رہیں یہاں تک کہ یہ آئل اور گیس کا کاروبار بیرون ملک شفٹ کرنے پر مجبور ہو گئے‘ ہاشوانی صاحب کا کہنا ہے حکومت اگر پاکستانی سرمایہ کاروں پر اعتماد کرے تو ملک بہت ترقی کر سکتا ہے‘ ہاشوانی صاحب نے ہوٹل انڈسٹری کے بارے میں بھی انکشافات کئے‘

انہوں نے بتایا‘ یہ کس طرح ہوٹل انڈسٹری میں آئے اور انہوں نے کس طرح ملک میں فائیو سٹار ہوٹل بنائے۔یہ کتاب کتاب نہیں‘ یہ پاکستانی نظام کا نوحہ ہے‘ میری میاں نواز شریف سے درخواست ہے‘ آپ یہ کتاب ضرور پڑھیں کیونکہ آپ کو اس کتاب میں ملک کی وہ تمام خامیاں ملیں گی جن کی وجہ سے ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے اور آپ کو ان خامیوں کے وہ حل بھی ملیں گے جن پر عمل کر کے آپ پرانے پاکستان کو نیا بنا سکتے ہیں۔۔زیروپوائنٹ/ جاوید چودھری


Tuesday, July 4, 2017

ریمنڈ ڈیوس۔ پس منظر :- پڑھئے جاوید چوہدری کا کالم

ریمنڈ ڈیوس۔ پس منظر :- پڑھئے جاوید چوہدری کا کالم

ریمنڈ ڈیوس۔ پس منظر :- پڑھئے جاوید چوہدری کا کالم 

میری جنرل احمد شجاع پاشا کے ساتھ چار ملاقاتیں ہیں‘ پہلی ملاقات 27 نومبر 2008ءکو ہوئی‘ یہ اس وقت تازہ تازہ ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے‘ 26 نومبر کو ممبئی حملے ہوئے‘ اجمل قصاب گرفتار ہوا اور بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف الزامات کی توپوں کے دہانے کھول دیئے‘ جنرل پاشا نے چھ صحافیوں کو اپنے دفتر دعوت دی‘ میں بھی ان صحافیوں میں شامل تھا‘


مجھے اس ملاقات میں جنرل پاشا کی تین خوبیوں نےانسپائر کیا‘ یہ جواب دیتے ہوئے ہر صحافی کو اس کے نام سے مخاطب کرتے تھے‘ یہ ثابت کرتا تھا وہ ہم میں سے ہر شخص کو ذاتی طور پر جانتے ہیں‘ دوسری ان کی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی مسکراہٹ تھی‘ یہ ہونٹوں کی بجائے آنکھوں سے مسکراتے تھے اور تیسری‘ یہ کوئی بات چھپا نہیں رہے تھے‘ ہم نے ان سے جو پوچھا جنرل پاشا نے وہ سچ سچ بتا دیا چنانچہ میں ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا‘ دوسری ملاقات ایبٹ آباد آپریشن کے بعد ہوئی‘ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل پاشا نے جی ایچ کیو میں صحافیوں کو دعوت دی‘ ملاقات میں میرے ایک تکنیکی قسم کے سوال نے پاشا صاحب کے ساتھ تعلقات کے دروازے کھول دیئے‘ تیسری ملاقات مارچ 2014ءمیں ہوئی‘ یہ ریٹائر ہو چکے تھے‘ عمران خان کا دھرنا منصوبہ بندی کے عمل سے گزر رہا تھا‘ میں نے جنرل پاشا سے رابطہ کیا اور انہوں نے مجھے لنچ کی دعوت دے دی‘ ہم اسلام آباد کے ایک ریستوران میں ملے‘ اڑھائی گھنٹے گفتگو کی‘ میں ان سے سوال پوچھتا رہا اور یہ ایمانداری سے جواب دیتے رہے‘ میں نے بعد ازاں مختلف لوگوں سے ان معلومات کی تصدیق کی‘ وہ تمام معلومات درست نکلیں اور میرے دل میں ان کا احترام بڑھ گیا‘ جنرل پاشا نے اس وقت عمران خان کے دھرنے کا انکشاف کیا تھا اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا ”یہ منصوبہ ناقص ہے اور یہ لوگ ناکام

ہو جائیں گے“ میں نے وجہ پوچھی تھی تو جنرل پاشا نے جواب دیا تھا ”جنرل راحیل شریف میرے ماتحت رہے ہیں‘ میں جانتا ہوں یہ عین وقت پر ذمہ داری سے بھاگ جائیں گے اور بدنامی کی کرچیاں جنرل ظہیر الاسلام کو سمیٹنا پڑ جائیں گی“ جنرل پاشا کی یہ پیشن گوئی بعد ازاں سو فیصد سچ ثابت ہوئی اور جنرل پاشا سے میری چوتھی ملاقات 31 مارچ 2017ءکو لاہور

ائیر پورٹ پر ہوئی‘ ہماری فلائیٹ لیٹ ہو گئی چنانچہ ہمیں تین گھنٹے گفتگو کا موقع مل گیا‘

لاﺅنج میں ایک صاحب دور بیٹھ کر موبائل فون پر ہماری ملاقات کی فلم بناتے رہے اور ہم دونوں ان کی اس بچگانہ حرکت پر قہقہے لگاتے رہے۔یہ چاروں ملاقاتیں معلومات کا خزانہ تھیں‘ میں ہر ملاقات کے بعد جنرل پاشا کا پہلے سے زیادہ فین ہوگیا‘ بالخصوص یہ دوسری اور تیسری ملاقات میں کھل کر سامنے آ گئے‘ یہ وسیع المطالعہ ہیں‘ ملک اور فوج دونوں کے بارے میں سیریس ہیں اور یہ سیاستدانوں کے کردار سے خوش نہیں ہیں تاہم یہ جمہوریت کو ملک کی بقا سمجھتے ہیں‘

یہ سمجھتے ہیں نظام جیسا بھی ہے اسے چلتا رہنا چاہیے یہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا‘ یہ اعتراف کرتے ہیں جنرل کیانی اور انہوں نے فیصلہ کیا تھا پیپلز پارٹی کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور یہ سیاست میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے‘ یہ اعتراف کرتے ہیں جنرل کیانی درمیان میں مایوس ہو گئے تھے لیکن یہ انہیں ان کا وعدہ یاد کرا کے واپس لے آئے‘ یہ میاں شہباز شریف کو پسند کرتے ہیں‘ یہ اعتراف کرتے ہیں یہ میاں نواز شریف سے کبھی نہیں ملے‘

میاں شہباز شریف نے ملاقات کرانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا‘ ان کا خیال تھا یہ ملاقات تعلقات کو مزید بگاڑ دے گی‘ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں یہ جنرل کیانی سے اجازت لے کر زمان پارک لاہور اور بنی گالہ میں عمران خان سے ملے تھے‘ یہ شفقت محمود اور جہانگیر ترین کے ساتھ اپنے تعلقات سے بھی انکار نہیں کرتے اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں یہ صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر ایم کیو ایم کو دوبار اقتدار میں لائے تھے‘ الطاف بھائی صرف ”ٹیلی فون“ پر مان گئے تھے‘

یہ ان تمام معاملات میں کلیئر ہیں‘ مجھے یہ جرا ¿ت مند اور ایماندار بھی لگے۔میں نے جنرل پاشا سے دوسری ملاقات میں ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں دو درجن سوال کئے تھے‘ جنرل پاشا نے تمام سوالوں کے سیدھے سادے جواب دیئے تھے‘ یہ جواب بعد ازاں سچ ثابت ہوئے‘ میں نے تمام کرداروں سے بھی تصدیق کی اور اب ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے بھی ان معلومات کی تصدیق کر دی‘ مثلاً جنرل پاشا نے2014ءمیں تسلیم کیا تھا مجھے لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو جوانوں کے قتل کی اطلاع ملی تو میں نے سی آئی اے کی ڈائریکٹر لیون پنیٹا کو فون کر کے پوچھا ”یہ آپ کا آدمی تو نہیں“

ہمارے امریکا کے ساتھ ان دنوں بہت اچھے تعلقات تھے‘ میرا خیال تھا لیون پنیٹا اگر ریمنڈ ڈیوس کو اپنا بندہ تسلیم کر لے تو ہم اسے سفارت خانے کے حوالے کر دیں گے لیکن لیون پنیٹا نے مجھ سے جھوٹ بولا اور اسے بعد ازاں اس جھوٹ کا نقصان اٹھانا پڑا‘ جنرل پاشا نے تسلیم کیا ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے کا فیصلہ صدر آصف علی زرداری نے کیا تھا‘ میں نے جنرل پاشا کو بتایا سینیٹر جان کیری پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے ساتھ15 فروری 2011ءکو پاکستان آئے ‘ حسین حقانی نے صدر زرداری کو تیار کیا تھا اور جان کیری نے میاں نواز شریف کو‘ حکومت کو دیت کا فارمولہ بھی حسین حقانی نے دیا تھا‘

مقتولین کو دیت پر تیار کرنے کا فیصلہ بھی جان کیری کے دورے کے دوران ہو گیا تھا‘ جنرل پاشا نے جواب دیا ”یہ بات میرے نوٹس میں نہیں ہاں البتہ یہ درست ہے ریمنڈ ڈیوس کو دیت کے بدلے رہا کرنے کا فیصلہ صدر زرداری نے ایوان صدر میں اعلیٰ سطحی میٹنگ میں کیا تھا‘ میٹنگ میں صدر‘ وزیراعظم‘ وزیرداخلہ‘ آرمی چیف اور میں شامل تھا‘ صدر زرداری اور جنرل کیانی نے مجھے ”مدد“ کا حکم دیا تھا“ میں نے ان سے پوچھا ”میاں برادران کو کس نے تیار کیا تھا“ جنرل پاشا نے جواب دیا‘

میری میاں نواز شریف سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی‘ یہ کام شاید جان کیری نے کیا تھا تاہم میں میاں شہباز شریف سے ضرور ملا تھا‘ یہ خود بھی ریمنڈ ڈیوس سے جان چھڑانا چاہتے تھے‘ پنجاب حکومت کی اطلاعات تھیں ریمنڈ ڈیوس قتل ہو جائے گا اور بدنامی ان کے گلے پڑ جائے گی‘ میں نے ان سے پوچھا میری اطلاع کے مطابق دیت کے پیسے صدر زرداری کے حکم پر ملک ریاض نے دیئے تھے‘ جنرل پاشا نے صاف انکار کر دیا‘ ان کا کہنا تھا یہ رقم وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے صوابدیدی فنڈ سے دی تھی‘ لواحقین نے جتنی رقم وصول کی وزیراعظم نے اتنی ہی رقم ریلیز کی‘

میں نے پوچھا‘ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں رحمن ملک کا کیا کردار تھا‘ جنرل پاشا نے جواب دیا ”یہ ڈیل وہ کرانا چاہتے تھے لیکن صدر نے انہیں جھڑک دیا“ میں نے ان سے پوچھا ”چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کس نے راضی کیا تھا“ جنرل نے جواب دیا ”صدر نے یہ ذمہ داری بھی مجھے سونپی تھی“ میں نے ان سے پوچھا تھا ”کیا یہ درست ہے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا فیصلہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے عمان میں کیا تھا‘ ‘

جنر پاشا اس معاملے میں یقین سے کچھ نہ کہہ سکے‘ ان کا خیال تھا حکومت نے ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑنے کا فیصلہ جنرل کیانی اور مائیک مولن کی ملاقات سے پہلے کر لیا تھا‘ میں نے ان سے پوچھا‘ کیا آپ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کےلئے خود لاہور گئے تھے‘ جنرل پاشا نے جواب دیا‘ جی نہیں‘ میں اسلام آباد میں تھا‘ امریکی سفیر کیمرون منٹر جہاز لے کر لاہور گئے تھے تاہم میں ایس ایم ایس کے ذریعے سفیر کے ساتھ رابطے میں تھا‘ میں نے ان سے پوچھا‘ آپ نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیوں کیا تھا‘

آپ کو اسے سزا دینی چاہیے تھی‘ جنرل پاشا کا جواب تھا یہ فیصلہ سیاسی حکومت نے کیا تھا‘ ہم نے صدر کے احکامات پر عمل کیا تھا‘ اگر صدر آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف نہ چاہتے تو ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے‘ ریمنڈ ڈیوس حکومت اور عدلیہ کے پاس تھا‘ وہ ہمارے پاس نہیں تھا‘ دوسرا لواحقین نے باقاعدہ دیت کی رقم لے کر ریمنڈ ڈیوس کو معاف کیا تھا‘ حکومت اگر چاہتی تو یہ لواحقین کو رقم ادا کئے بغیر ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ دیتی لیکن حکومت نے اپنی جیب سے لواحقین کو رقم ادا کی‘

وہ لوگ بھی اگر نہ مانتے تو ہم مجبور ہو جاتے‘ یہ درست ہے ہم نے انہیں دیت کےلئے رضا مند کیا تھا لیکن یہ زبردستی نہیں تھی‘ لواحقین خود رضا مند ہوئے تھے‘ آخری بات‘ ملکوں کے ملکوں سے تعلقات ایسے واقعات سے بلند ہوتے ہیں‘ پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس کے ایشو پر امریکا کی ناک رگڑ دی تھی‘ ہم نے انہیں مجبور کر دیا تھا لیکن ہم اس سے آگے نہیں جا سکتے تھے‘ ہم آگے جاتے تو تعلقات مزید خراب ہو جاتے اور یہ پاکستان کےلئے مناسب نہیں تھا‘ میں نے ان سے پوچھا ”آپ یہ تمام حقائق دنیا کے سامنے کیوں نہیں رکھتے‘ آپ یہ معلومات عام کر دیں“

جنرل پاشا نے جواب دیا” ہم ریمنڈ ڈیوس جیسے کانٹریکٹرز کو اتنی اہمیت کیوں دیں‘ سی آئی اے کے پاس ایسے ہزاروں پرزے ہیں‘ ہم ایسے پرزوں کو اہمیت دے کر اپنے ملک کی توہین کریں گے‘ میں کم از کم یہ توہین نہیں کروں گا“۔ نوٹ: میں نے جنرل پاشا سے یہ تمام سوال مارچ 2014ءمیں کئے تھے‘ میں نے ان معلومات پر18 اپریل 2014ءکو ”ریمنڈ ڈیوس۔اصل حقائق“ کے عنوان سے کالم بھی تحریر کیاتھا۔


Thursday, October 13, 2016

Thursday, June 4, 2015

Kaatte pehlay hain, gintay baad main - by JavedChaudhry read full >>

Kaatte pehlay hain, gintay baad main - by JavedChaudhry read full >>

آپ نے اردو پوائنٹ کا نام یقیناً سنا ہوگا یہ پاکسان کی پرانی اور بڑی نیوز ویب سائیٹ ہے، یہ سائیٹ لاہور کے نوجوان علی چوہدری نے پندرہ سال قبل بنائی ، علی اس زمانے مین دن کے وقت نوکری کرتے تھے اور شام کو ویب سائیٹ چلاتے تھے۔۔۔۔علی ملک کے سب سے بڑے ویب سائیٹ انٹرپرینیور بن گئے اور یہ ملک کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے جو یر سال یونیو رسٹی سے نکلتے ہیں اور پنا کام کرنا چاہتے ہیں۔۔ میں علی چوہدری کا فین ہوں۔۔۔۔



Wednesday, May 20, 2015

Hum ghadhay kha rehe hain – by Javed Chaudhry  – read full>>>

Hum ghadhay kha rehe hain – by Javed Chaudhry – read full>>>

ہم گدھے کھا رہے ہیں: جاوید چوہدری  منگل 19 مئ 2015

آپ اگر کسی قصاب کی دکان سے قیمہ خرید رہے ہیں یا آپ نے کسی ریستوران میں کڑاہی گوشت کا آرڈر دے دیا یا آپ باربی کیو سے لطف اندوز ہورہے ہیں یا پھر آپ چپلی کباب کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو آپ فوراً اپنا ارادہ بدل لیں، آپ قیمہ خریدنے کے فیصلے سے بھی منحرف ہو جائیں اور اگر ممکن ہو تو آپ چند ماہ کے لیے گوشت کی خریداری سے بھی تائب ہوجائیں، آپ کی صحت اور ایمان دونوں کے لیے بہتر ہو گا، یہ فیصلہ صرف آپ اور مجھے نہیں کرنا چاہیے بلکہ ملک کے تمام پارلیمنٹیرینز، تمام بیورو کریٹس، تمام فوجی افسروں، تمام وزراء، تمام وزراء اعلیٰ، گورنر صاحبان، وزیراعظم اور صدر صاحب کو بھی یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کیونکہ یہ لوگ بھی یقینا ان گوشت فروشوں کا نشانہ ہیں جو اس وقت معمولی سے مالی فائدے کے لیے عوام اور خواص دونوں کو گدھے کا گوشت کھلا رہے ہیں اور ہم عوام سمیت ملک بھر کے خواص 2013 سے اس حرام خوری کے مرتکب ہیں۔



یہ معاملہ کیا ہے؟ ہمیں یہ جاننے کے لیے ذرا سا ماضی میں جانا ہو گا، ہمارے ملک میں چمڑا اور چمڑے کی مصنوعات تیسری بڑی ایکسپورٹ ہے، پاکستان نے 2014میں 957 ملین ڈالر کی چمڑے کی مصنوعات ایکسپورٹ کیں، ملک میں چمڑا صاف کرنے والی آٹھ سو بڑی ٹینریز ہیں جب کہ پانچ لاکھ لوگ اس صنعت سے وابستہ ہیں،پاکستان میں نیوزی لینڈ کے بعد دنیا کی شاندار ترین کھالیں پیدا ہوتی ہیں، پاکستان کی 2010 تک اس شعبے میں مناپلی تھی لیکن پھر چین اس شعبے میں آگیا، اس نے دنیا بھر سے کھالیں جمع کرنا شروع کر دیں، چین نے پاکستان کی چمڑے کی صنعت پر بھی دستک دی، چینی کارخانہ دار پاکستان سے بھاری مقدار میں کھالیں خریدنے لگے، چینی تاجر پاکستان آئے تو انھوں نے دیکھا ملک میں بکرے، گائے اور بھینس کا چمڑا مہنگا جب کہ گدھوں اور خچروں کی کھالیں سستی ہیں۔

تحقیق کی، پتہ چلا، پاکستان مسلمان ملک ہے، مسلمان گدھوں اور خچروں کا گوشت نہیں کھاتے،پاکستان میں جب گدھے اور خچر بیمار ہوتے ہیں تو انھیں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ ویرانوں میں سسک سسک کر مر جاتے ہیں، گدھوں کے مرنے کے بعد شہروں کے انتہائی غریب لوگ ان کی کھال اتار لیتے ہیں اور گوشت چیلوں اور مردار خور جانوروں کے لیے چھوڑ دیا جاتاہے، یہ کھال بازار میں آٹھ سو سے بارہ سو روپے میں فروخت ہوتی تھی، یہ چینی تاجروں کے لیے بڑی خبر تھی کیونکہ گدھے اور خچر کی کھال گائے اور بھینس کی کھال سے زیادہ مضبوط اور خوبصورت ہوتی ہے، آپ اس کھال کو معمولی سا ’’فنش‘‘ کر کے گھوڑے کی کھال بنا لیتے ہیں اور گھوڑے کی کھال کا صوفہ 5 ہزار ڈالر سے شروع ہوتا ہے، چینی تاجروں نے ٹیکس اور ڈیوٹی دیکھی تو یہ بھی گائے کی کھال سے بہت کم تھی،گدھے کی پوری کھال پر صرف 8 ڈالر کسٹم ڈیوٹی اور 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی تھی جب کہ اس کے مقابلے میں گائے کی کھال پر مربع فٹ کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے چنانچہ چینی تاجروں نے پاکستان سے گدھوں اور خچروں کی کھالیں خریدنا شروع کر دیں۔

کھالوں کی ڈیمانڈ پیدا ہوئی تو قیمت میں بھی اضافہ ہو گیا، ملک میں اس وقت گدھے کی وہ کھال جو 2013 تک صرف آٹھ سو روپے میں ملتی تھی اس کی قیمت آج بارہ ہزار سے 20 ہزار روپے ہے جب کہ اس کے مقابلے میں گائے کی کھال تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار اور بھینس کی کھال چار ہزار سے ساڑھے چار ہزار روپے میں دستیاب ہے، پاکستان میں دو سمندری پورٹس اور 13 ڈرائی پورٹس ہیں، آپ پچھلے دو سال میں ان 15 پورٹس سے گدھوں اور خچروں کی کھالوں کی ایکسپورٹس کا ڈیٹا نکلوا کر دیکھ لیں، آپ کے 14 طبق روشن ہو جائیں گے، میں صرف کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کا ڈیٹا آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں، کراچی پورٹ سے جنوری 2013سے اپریل 2015 تک گدھوں کی 96 ہزار 8 سو 13 کھالیں جب کہ پورٹ قاسم سے 89 ہزار کھالیں ایکسپورٹ ہوئیں، یہ کل ایک لاکھ 85 ہزار 8 سو 13 گدھے بنتے ہیں، آپ باقی 13ڈرائی پورٹس سے بک ہونے والی کھالوں کی تعداد صرف ایک لاکھ 15 ہزار لگا لیجیے تو یہ تین لاکھ بن جائیں گے گویا پاکستان میں دو برسوں میں تین لاکھ گدھے انتقال فرما گئے۔

یہ تعداد انتہائی الارمنگ ہے کیونکہ 2013 سے قبل ملک سے گدھوں کی سالانہ صرف چار ہزار کھالیں برآمد ہوتی تھیں، اب سوال یہ ہے گدھوں کی کھالوں میں اچانک 30 گنا اضافہ کیسے ہو گیا؟ جواب بہت واضح اور سیدھا ہے، سندھ میں چالیس سے پچاس ہزار روپے میں صحت مند گدھا مل جاتا ہے، پنجاب میں اس کی قیمت 25 سے 30 ہزار روپے ہے، قصاب گدھا خریدتے ہیں، اس کا گلا کاٹتے ہیں، اس کی کھال اتارتے ہیں، یہ کھال 12 سے 20 ہزار روپے میں فروخت ہو جاتی ہے، گدھے کا وزن 150 سے 200 کلو گرام تک ہوتا ہے، کھال کے بغیر گدھے کا وزن 135 کلو رہ جاتا ہے، یہ لوگ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بناتے ہیں اور یہ گوشت 300 روپے کلو کے حساب سے مارکیٹ میں بیچ دیا جاتا ہے،یہ گوشت چالیس سے پچاس ہزار روپے میں فروخت ہو جاتا ہے، یوں ان لوگوں کو ہر گدھے سے دس ہزار سے 20 ہزار روپے بچ جاتے ہیں۔ یہ گوشت کہاں جاتا ہے؟

اس گوشت کا 80 فیصد حصہ ان سرکاری محکموں کے ’’میس‘‘ میں چلا جاتا ہے جو ’’بلک‘‘ میں گوشت خریدتے ہیں یا وہ بڑے ہوٹل، بڑے ریستوران اور گوشت کی وہ بڑی چینز جو روزانہ سیکڑوں من گوشت خریدتی ہیں، یہ گوشت انھیں سپلائی ہو جاتا ہے،باقی بیس فیصد گوشت مارکیٹوں میں پہنچ جاتا ہے، گدھا اگر کٹا ہوا ہو، اس کی کھال اتری ہوئی ہو اور یہ قصاب کی دکان پر الٹا لٹکا ہو تو آپ خواہ کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں آپ گدھے کو پہچان نہیں سکیں گے ، آپ کو وہ گدھا قصاب کی دکان پر بکرا، گائے کا بچھڑا یا پھر بھینس کا بچہ ہی محسوس ہو گا، کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے چند کاریگر قصاب مزید فنکاری کرتے ہوئے گدھے کی ننگی گردن کے ساتھ بچھڑے کی سری لٹکا دیتے ہیں، یوں مرحوم گدھا دیکھنے والوں کو گدھا محسوس نہیں ہوتا، یہ بچھڑا لگتا ہے۔یہ معلومات کس حد تک درست ہیں، ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں، مجھے ابتدائی معلومات اس مکروہ دھندے سے وابستہ ایک شخص نے دیں، یہ شخص توبہ تائب ہوگیا، اس نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور مجھ سے رابطہ کیا۔

اس کا دعویٰ تھا ملک کے تمام مقتدر عہدیدار اس وقت تک گدھے کا گوشت کھا چکے ہیں کیونکہ مکروہ کاروبار سے وابستہ لوگ جان بوجھ کر ان ایوانوں میں گوشت پہنچا رہے ہیں جو ملکی پالیسیاں بناتے ہیں، اس صاحب کا دعویٰ تھا یہ لوگ اس سلوک کے حق دار ہیں کیونکہ ملک میں اچانک گدھوں کی کھال کی ڈیمانڈ بڑھ گئی، ملک سے گدھے کم ہونے لگے اور گوشت کی قیمتوں میں کمی ہوگئی لیکن یہ لوگ خواب غفلت کے مزے لوٹتے رہے، ان میں سے کسی نے کسی سے نہ پوچھا ’’گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟ اور اس اضافے کے عوام پر کیا اثرات ہوں گے؟‘‘چنانچہ یہ لوگ دو برسوں سے اس بے حسی کا نقصان اٹھا رہے ہیں، یہ جانتے ہی نہیں ان کی ڈائننگ ٹیبل اور ان کے کچن میں کیا ہو رہا ہے اور انھیں گوشت سپلائی کرنے والے ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

یہ سطریں اگر وزیراعظم، صدر مملکت، وزیرخزانہ، سیکریٹری خزانہ، وزیر داخلہ، وزراء اعلیٰ اور ایف بی آر کے حکام تک پہنچ جائیں تو میری ان سے درخواست ہے، آپ فوری طور پر گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ کا ڈیٹا منگوائیں، اس ڈیٹا کا تجزیہ کریں اور اس کے بعد گدھوں کی کھال کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا دیں، آپ اس کے بعد حرام جانوروں کی کھالوں کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی بنائیں، میری عام شہریوں سے بھی درخواست ہے آپ گوشت خود خریدا کریں، آپ قصاب کی دکان پر خود جائیں اور اپنی نظروں کے سامنے گوشت کٹوائیں، میرے چند دوستوں نے گوشت کے سلسلے میں باقاعدہ ’’مافیا‘‘ بھی بنا رکھا ہے، یہ چار لوگ مل کر بکرا خریدتے ہیں، اسے اپنے سامنے ذبح کراتے ہیں، گوشت بنواتے ہیں اور گوشت کے چار حصے کر لیتے ہیں، یہ پانچ دس لوگ مل کر گائے بھی خرید لیتے ہیں، یہ اس کا گوشت بھی آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، یہ لوگ قیمہ گھر پر اپنی مشین پر بناتے ہیں، یہ بھی اچھا فارمولا ہے کیونکہ صحت اور ایمان انسان کے قیمتی ترین اثاثے ہوتے ہیں، انسانوں کو ان اثاثوں کی حفاظت کرنی چاہیے، میری وزیراعظم اور وزیرخزانہ سے درخواست ہے آپ ایک لمحے کے لیے اپنے سالن کے ڈونگے میں جھانک لیں، مجھے یقین ہے آپ گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ پر پابندی لگانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اشاعت بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Tuesday, April 14, 2015

Hum inkaar nahi kar saken gay – by JavedChaudhry  – read full >>>

Hum inkaar nahi kar saken gay – by JavedChaudhry – read full >>>

ہم انکار نہیں کر سکیں گے: بائی جاوید چوہدری


آپ کو یمن سعودی عرب ایشو اور پاکستان کی مجبوری سمجھنے کے لیے تھوڑا سا ماضی میں جانا ہو گا، آپ چند لمحوں کے لیے 1999ء میں آ جائیے۔

8مئی 1999ء کو کارگل کی پہاڑیوں پر قبضہ ہوا جس کے بعد پاک فوج اور بھارتی فوج میں لڑائی شروع ہوگئی، جنگ میں ایک ایسا موقع آیا جب امریکی مصنوعی سیاروں نے سی آئی اے اور پینٹا گان کو اطلاع دی، پاکستان اپنے جوہری ہتھیار اور میزائل سرحد پر منتقل کر رہا ہے، امریکا نے اس اطلاع کے بعد خطے میں براہ راست مداخلت کا فیصلہ کر لیا، امریکی صدر بل کلنٹن اور میاں نواز شریف کے درمیان رابطہ ہوا اور میاں نواز شریف 4 جولائی 1999ء کو واشنگٹن روانہ ہو گئے۔

میاں صاحب امریکا پہنچے تو بروس ریڈل اسٹوری میں داخل ہوا، بروس ریڈل 1999ء میں ساؤتھ ایشیا ایشوز پر بل کلنٹن کے معاون خصوصی تھے، یہ نیشنل سیکیورٹی کونسل میں ساؤتھ ایشیا کے سینئر ڈائریکٹر بھی تھے۔ میاں نواز شریف اور بل کلنٹن کے درمیان وہائٹ ہاؤس کے بلیئرہاؤس میں ملاقات ہوئی، بروس ریڈل ملاقات کے دوران وہاں موجود رہا، یہ ملاقات کے نوٹس بھی لیتا رہا، امریکی صدر نے ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو جگایا، پاکستان اور بھارت کے وزراء اعظم کے درمیان بات چیت کرائی اور پاکستان سے کارگل سے فوجیں ہٹانے کا وعدہ لیا، بروس ریڈل نے 2002ء میں بل کلنٹن اور میاں نواز شریف کی اس ملاقات کے بارے میں American Diplomacy and the 1999 Kargil Summit at Blair House کے ٹائٹل سے ایک طویل مضمون لکھا، یہ مضمون آج بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

یہ چشم کشا مضمون تھا، آپ کو اس مضمون میں اپنی قیادت کے اعصاب اور معیار کا اندازہ ہوتا ہے، میں مضمون میں درج بروس ریڈل کے تین تاثرات آپ کے سامنے رکھتا ہوں، بروس ریڈل نے مضمون کے آٹھویں صفحے پر لکھا ’’نواز شریف اپنی بیگم اور بچوں کو واشنگٹن ساتھ لائے تھے، یہ وزیراعظم کی پریشانی کا اشارہ تھا، ان کا خیال تھا یہ اس ملاقات کے بعد شاید پاکستان واپس نہ جا سکیں یا پھر فوج نے انھیں ملک چھوڑنے کا اشارہ دے دیا تھا‘‘ بروس ریڈل نے صفحہ 9 پر انکشاف کیا ’’ مجھے امریکا میں سعودی عرب کے سفیر پرنس بندر بن سلطان نے بتایا، نواز شریف نے ان سے ملاقات بھی کی۔

نواز شریف دو معاملات پر بہت پریشان تھے، ایک ،اپنے اقتدار اور دوسرے آرمی چیف کی طرف سے دھمکی۔ آرمی چیف وزیراعظم کو کارگل پر سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کر رہے تھے‘‘۔ بروس ریڈل نے صفحہ 15 پر لکھا ’’ میاں نواز شریف نے ستمبر 1999ء میں اپنے بھائی شہباز شریف کو واشنگٹن بھیجا، ہم ملاقات کے دوران شہباز شریف سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے وزیراعظم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہم سے کیا چاہتے ہیں جب کہ میاں شہباز شریف صرف یہ ڈسکس کررہے تھے، امریکا ان کے بھائی کو اقتدار میں رکھنے کے لیے کیا مدد کر سکتا ہے‘‘۔

آپ میاں نواز شریف کے صرف اس امریکی دورے کا تجزیہ کریں تو آپ کو پاکستانی سیاست میں امریکا اور سعودی عرب کے موجودہ عمل دخل کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا، کارگل پر میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا، میاں صاحب واشنگٹن گئے، صدر بل کلنٹن اور سعودی سفیر بندر بن سلطان سے ملاقات کی اور بل کلنٹن اور پرنس بندر بن سلطان نے انھیں جان اور خاندان کی سلامتی کی یقین دہانی کرائی۔

جنرل مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو ’’ٹیک اوور‘‘ لیا، میاں نواز شریف خاندان سمیت گرفتار ہوئے، مقدمات قائم ہوئے اور یہ بڑی تیزی سے بھٹو جیسے انجام کی طرف بڑھنے لگے لیکن پھر میاں نواز شریف کے ضامن آگے بڑھے، بل کلنٹن نے اپنی بائیو گرافی میں لکھا ’’میں نواز شریف کو بچانے کے لیے پاکستان گیا اور جنرل مشرف سے ملاقات کی‘‘ جب کہ بروس ریڈل نے ایک دوسرے مضمون میں لکھا، میں نے شریف کی جان بخشی کے لیے پرنس بندر بن سلطان کی مدد لی۔

سعودی عرب کے شاہ فہد نے زور لگایا اور جنرل پرویز مشرف مان گئے، تحریری معاہدے کا وقت آیا تو سعودی عرب نے لبنان کی حریری فیملی کو آگے کر دیا، ہوا بازی پر وزیراعظم کے موجودہ خصوصی مشیر شجاعت عظیم اس وقت حریری خاندان کے ذاتی پائلٹ تھے، شجاعت عظیم نے خصوصی کردار ادا کیا۔

جنرل پرویز مشرف اور میاں نواز شریف کے درمیان دس سال کا معاہدہ طے پایا اور میاں نواز شریف 10دسمبر 2000ء کو سعودی شاہ کے خصوصی طیارے پر حجاز مقدس چلے گئے اور سات سال سعودی میزبانی کا لطف اٹھاتے رہے، بل کلنٹن کی جنوری 2001ء میں صدارتی مدت ختم ہوئی، یہ آکسفورڈ میں لیکچر دینے گئے، بل کلنٹن نے وہاں تقریر کے دوران انکشاف کیا ’’ میں نے نواز شریف سے وعدہ کیا تھا اور میں نے صدارتی مدت ختم ہونے سے پہلے یہ وعدہ پورا کر دیا‘‘۔

آپ یہ کہانی چند لمحوں کے لیے یہاں روکیں اور متحدہ عرب امارات اور بے نظیر بھٹو کے تعلقات کی نوعیت ملاحظہ کریں، محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1999ء میں ملک چھوڑا، پاکستان میں ان کے خلاف کرپشن، منی لانڈرنگ اور اختیارات سے تجاوز کے درجنوں مقدمات قائم تھے، یہ پاکستان سے نکلیں اور دوبئی کو اپنا مستقل گھر بنا لیا، یہ 8 سال دوبئی میں مقیم رہیں۔

میاں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف محترمہ کے لیے یو اے ای پردباؤ ڈالتے رہے لیکن یو اے ای کا حکمران محترمہ کو سپورٹ کرتا رہا، جنرل مشرف کو 2007ء میںفارغ کرنے اور محترمہ کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ ہوا توجنرل مشرف اور محترمہ کے درمیان یو اے ای کے ذریعے این آر او کروایا گیا،  جنرل مشرف خصوصی طیارے پر ابوظہبی آئے اورمحترمہ سے ملاقات ہوئی، متحدہ عرب امارات اس معاہدے کا ضامن تھا، آصف علی زرداری بھی 2004ء میں جیل سے رہا ہو کر دوبئی آ چکے تھے، محترمہ پاکستان آئیں اور 27 دسمبر 2007ء کو شہید کر دی گئیں۔

آصف علی زرداری پاکستان آئے اور عنان اقتدار سنبھال لی، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے جنرل مشرف کے خلاف مواخذے کا فیصلہ کیا، جنرل مشرف نے زرداری اور نواز شریف کے ضامنوں سے رابطہ کیا، امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور یو اے ای ایکٹو ہوئے، جنرل مشرف کا میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سے معاہدہ ہوا، جنرل مشرف نے صدارت سے استعفیٰ دیا اور یہ بھی دوبئی اور لندن کے باسی ہو گئے، سعودی شاہی خاندان ان کا کیئر ٹیکر ہو گیا۔

جنرل مشرف نے لندن میں 1.3 ملین پاؤنڈ کا فلیٹ خریدا، فلیٹ کی قیمت یو اے ای کے ایک شہزادے نے ادا کی، شاہ عبداللہ آخری وقت تک جنرل مشرف کے سپورٹر رہے، حکومت نے 2008ء میں جنرل کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا تو شاہ عبداللہ نے جنرل کیانی کو ریاض طلب کیا اور ان سے کہا ’’ مشرف میرا صدر ہے اسے کوئی تکلیف ہوئی تو میں اپنا ذاتی جہاز بھجوا کر اسے اسی محل میں رکھوں گا جہاں میں نے نواز شریف کو رکھا تھا‘‘ یہ پیغام صدر زرداری صاحب کو بھی دیا گیا، آپ کو یاد ہو گا۔

چوہدری نثار نے 2009ء میں قومی اسمبلی میں جیب سے ایک کاغذ نکالا اور لہراکر کہا ’’ یہ ہے آرٹیکل سکس کا وہ مسودہ جس کے تحت ہم جنرل مشرف کے خلاف کارروائی کریں گے‘‘۔ یہ کاغذ لہرانے کے چند دن بعد برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ پاکستان آئے،لاہور میں جاتی عمرہ میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور میاں نوازشریف جنرل مشرف ایشو پر خاموش ہو گئے۔

پاکستان میں تین مضبوط ترین سفیر ہوتے ہیں، امریکی سفیر، برطانوی سفیر اور سعودی سفیر، آپ کو یقین نہ آئے تو آپ انٹرنیٹ پر سعودی سفیر کی دعوت کی تصویریں نکال کر دیکھ لیں، سعودی سفیر عبدالعزیز الغدیر نے27 اگست 2009ء کو پاکستانی سیاستدانوں کو افطار ڈنر پرمدعو کیا، اس دعوت میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت وہ تمام لوگ موجود تھے جو عام حالات میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی مناسب نہیں سمجھتے، نواز شریف بھی وہاں تھے اور چوہدری شجاعت بھی، آج بھی سعودی عرب، امریکا اور یو اے ای جنرل مشرف کے ضامن ہیں اور یہ اس ضمانت کا کمال ہے ۔

جنرل مشرف آرٹیکل سکس کی کارروائی کے باوجود کراچی میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں اور میاں نوازشریف کوشش کے باوجود ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے۔آپ پاکستانی معاشرے پر بھی سعودی عرب کی نوازشات فراموش نہیں کر سکتے، ہم نے افغان جہاد سعودی عرب کے پیسے سے لڑا تھا، ہمارے نیو کلیئر پروگرام میں سعودی عرب کی معاونت تھی، سعودی عرب نے ایٹمی دھماکوں کے بعد تین سال تک پاکستان کو مفت پٹرول دیا، سعودی عرب سے زکوٰۃ اور صدقات بھی آتے ہیں اور یہ مدارس میں تقسیم ہوتے ہیں۔

ہمارا سعودی عرب سے فوجی تعاون بھی چل رہا ہے، پاکستان کے سیاستدانوں بزنس مینوں، بیوروکریٹس اور سابق فوجی افسروں نے یو اے ای میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، پاکستان میں دوبئی سے روزانہ 29فلائٹس آتی اور جاتی ہیں، کراچی میں ایسے بزنس مین بھی ہیں جو صبح پاکستان آتے ہیں اور رات کو واپس دوبئی چلے جاتے ہیں اور ہمارے 30 لاکھ ہنرمند عرب ممالک میں کام کر رہے ہیں۔

یہ ساری مجبوریاں مل کر کیا بتاتی ہیں، یہ بتاتی ہیں، ہم چوں کریں یا چاں کریں ہمیں بہر حال سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا، ہمارے حکمران زیادہ دیر تک سعودی عرب کے سامنے انکار نہیں کر سکیں گے، آج مولانا فضل الرحمن جو فرما رہے ہیں کل ملک کے تمام سیاستدان یہی فرمائیں گے۔

ہم سعودی عرب کی بات مانیں گے، ہم اپنی فوج گلف بھجوائیں گے اور ہم نے اگر انکار کیا تو پھر ہمیں واقعی بھاری قیمت چکانا ہو گی اور اس قیمت کا آغاز نواز شریف،آصف علی زرداری اور جنرل مشرف سے ہو گا، کیا ہم یہ سزا بھگت لیں گے، ہم عوام شاید یہ بھگت لیں لیکن ہمارے حکمران نہیں بھگت سکیں گے،کیوں؟ کیونکہ یہ دوبئی اور سعودی عرب کے محلات کے دروازے بند نہیں ہونے دیں گے۔

یہ امریکا اور برطانیہ کے ائیر پورٹس پر اپنی انٹری بھی ’’بین،، نہیں ہونے دیں گے لہٰذا ہو گا کیا؟ ہو گا یہ حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مدینہ پر حملے کا ایک جعلی بیان آئے گا اور پاکستانی حکومت کو سعودی عرب کی مدد کا جواز مل جائے گا، ہم سعودی عرب کی مدد کریں گے اوریوں ہمارا تیسرا ہمسایہ ایران بھی ہم سے ناراض ہو جائے گا، ہم ایک اور جنگ میں گر جائیں گے، آخری جنگ میں، ہمیں یہ جنگ بالآخر لڑنا ہو گی کیونکہ بھکاری قوموں کے پاس کبھی دوسرا آپشن نہیں ہوا کرتا، ہمارے پاس بھی دوسرا آپشن نہیں۔



✓❀شیئر کریں✓ ٹیگ کریں✓کومنٹ کریں ❀

Tuesday, April 7, 2015

Wah Subhan Allah (by Javed Chaudhry)

Wah Subhan Allah (by Javed Chaudhry)


واہ سبحان اللہ
ہم بہت با کمال لوگ ہیں،ہمیں اٹھارہ کروڑ لوگوں کے اس ملک میں دو سال سے ایک وزیرخارجہ نہیں ملا،ہماری وزارت خارجہ 22 ماہ سے دو مشیروں کے درمیان میدان جنگ ہے،طارق فاطمی باس ہیں یا سرتاج عزیز پوری وزارت اور دنیا کے 110 ممالک میں قائم پاکستانی مشن کنفوژن میں ہیں مگر ہم خارجہ امور میں پوری دنیا کی رہنمائی کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

ہم عراقی امور کے بھی ماہر ہیں،ہم شام،اردن اور مصر کی صورتحال کے بھی ایکسپرٹ ہیں اور ہم نے یمن کے حالات ٹھیک کرنے کا بیڑا بھی اٹھا لیا ہے،ہم کتنے با کمال لوگ ہیں؟ہمارے وزیراعظم آج تک بلوچستان کے ناراض رہنماؤں کو منانے کوئٹہ نہیں گئے،یہ پشاور بھی تشریف نہیں لے جاتے،خیبر پختونخواکے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے 8 ماہ وزیراعظم ہاؤس میں قدم نہیں رکھا اور پی ٹی آئی نے 8 ماہ قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیے رکھا،یہ استعفے دے کر گھر بیٹھے رہے لیکن وزیراعظم یمن اور سعودی عرب کے ایشو پر ترکی تشریف لے جاتے ہیں۔

یہ ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو اور صدر طیب اردگان سے ملاقات کرتے ہیں یہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کی حامی بھی بھرتے ہیں،وزیراعظم نے آج تک اپنا وفد بنی گالہ نہیں بھجوایا لیکن یہ وزیردفاع،مشیر خارجہ اور افواج پاکستان کے سنیئر افسروں کا وفد سعودی عرب بھجواتے دیر نہیں لگاتے،ہم آج تک پاکستان کے متحارب گروپوں میں صلح نہیں کرا سکے مگر خلیج میں ثالثی کے لیے تیار بیٹھے ہیں،ہم کتنے باکمال لوگ ہیں،طالبان نے 10 اکتوبر 2009ء کو جی ایچ کیو پر حملہ کر دیا۔

ہمیں طالبان کو پسپا کرنے کے لیے 12گھنٹے لڑنا پڑ گیا اور آخر میں ہم طالبان سے مذاکرات کے لیے ملک اسحاق کو جیل سے نکال کر راولپنڈی لانے پر مجبور ہو گئے،ہم مہران بیس بچا سکے،پریڈ لین مسجد کی حفاظت کر سکے اور نہ ہی کامرہ ائیر بیس،واہ آرڈیننس فیکٹری،ایف آئی اے،اسپیشل برانچ،آئی بی اور آئی ایس آئی کے دفاتر بچا سکے،ہم پولیس ٹریننگ سینٹروں کی حفاظت کر سکے اور ہم ائیر پورٹس،مسجدوں،امام بارگاہوں اور بازاروں کو بھی نہیں بچا سکے۔

ہم آرمی پبلک اسکول کی حفاظت بھی نہیں کر سکے،ہمارے ملک میں افطاری کے وقت اسلام آباد کا ایک فائیو اسٹار ہوٹل اڑا دیا گیا،ہم اس کی حفاظت نہ کر سکے،ہمارے ملک میں اسامہ بن لادن چھ سال چھاؤنی ایریا کے قریب چھپا رہا،ہمیں خبر نہ ہوئی،امریکی ہیلی کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد پہنچ گئے لیکن ہمیں کانوں کان خبر نہ ہوئی،ہم اسلام آباد کو دھرنے سے بھی نہیں بچا سکے،عمران خان اور علامہ طاہر القادری پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے،پارلیمنٹ ہاؤس کا جنگلہ ٹوٹا،ایوان صدر کا گیٹ توڑا گیا،پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ ہوا،سپریم کورٹ کی دیواروں پر شلواریں لٹکائی گئیں۔

عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کیا،بجلی کے بل پھاڑے،وفاقی دارالحکومت میں مظاہرین کیمروں کے سامنے پولیس اہلکاروں کی تلاشی لیتے رہے،مظاہرین نے ایس ایس پی کو ڈنڈوں اور ٹھڈوں سے مارا،لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں 14 لوگوں کو گولی مار دی گئی،یوحنا آباد میں دو بے گناہوں کو قتل کیا گیا،سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور لاشوں کو آگ لگا دی گئی اور کراچی میں 258 لوگوں کو فیکٹری کے دروازے بند کر کے زندہ جلا دیا گیا،ہم ان میں سے کسی کی حفاظت نہ کر سکے لیکن ہم سعودی عرب کی حفاظت کے لیے تیار بیٹھے ہیں،ہم بار بار اعلان کر رہے ہیں ہم سعودی عرب پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

ہمارے ملک میں بچے مر رہے ہیں،خواتین پامال ہو رہی ہیں،بوڑھوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے اور اندھوں تک پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں،ہمارے پاس ان کے لیے وقت نہیں ہوتا،ہم آج تک عمران خان سے حکومتی رٹ نہیں منوا سکے لیکن ہم یمن کی دستوری حکومت کو منوانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں،ہم یمن کے باغیوں سے نبٹنے کے لیے کمر کس رہے ہیں،ہم سے اپنی حفاظت ہوتی نہیں مگر ہم سعودی عرب کی حفاظت ضرور کریں گے،واہ کیا بات ہے ہم کتنے با کمال لوگ ہیں۔

ہم کتنے با کمال لوگ ہیں،ہم آج تک میاں نواز شریف،عمران خان،الطاف حسین اور مولانا فضل الرحمٰن کو اکٹھا نہیں بٹھا سکے،وزیراعظم 6 اپریل کے جوائنٹ سیشن سے ’’بچنے‘،کی کوشش کرتے ہیں،اپوزیشن کے احتجاج پر جوائنٹ سیشن کی کارروائی پانچ بجے تک موخر کر دی جاتی ہے لیکن ہم یمن کے ایشو پر سعودی عرب اور ایران کو اکٹھا بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں،وزیراعظم ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات کرتے ہیں،ہم انقرہ تشریف لے جاتے ہیں۔

ہم یمن کے باغیوں سے رابطہ کر لیتے ہیں ،ہم ایران کو سمجھا لیتے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان کو سمجھا پاتے ہیں اور نہ ہی الطاف حسین سے رابطہ کر پاتے ہیں،ہم کتنے باکمال لوگ ہیں،ملک میں ستمبر 2014ء میں سیلاب آئے عمران خان دھرنے میں ڈٹے رہے،16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا،عمران خان اے پی سی میں شریک ہوئے،21 ویں ترمیم کی حمایت کی مگر قومی اسمبلی نہیں آئے لیکن آپ یمن اور سعودی عرب کی محبت ملاحظہ کیجیے عمران خان جوڈیشل کمیشن کے بغیر اپنے ارکان کے ساتھ 6 اپریل کے جوائنٹ سیشن میں تشریف لے گئے۔

ہم کتنے با کمال لوگ ہیں ہمارے ملک میں بارہ برسوں میں ساڑھے سات ہزار دھماکے،حملے اور خودکش حملے ہوئے،60 ہزار بے گناہ اور معصوم لوگ مارے گئے،کراچی کے حالات کس سے پوشیدہ ہیں،ایک تہائی شہر نو گو ایریا بن چکا ہے،ملک میں کرپشن،بے روزگاری اور لاقانونیت آسمان کو چھو رہی ہے،ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی نکل آتی ہیں،ہم روڈ ایکسیڈنٹ میں دنیا کے پانچ بڑے ملکوں میں شمار ہوتے ہیں،ملک میں پوری پوری بس مسافروں سمیت جل کر راکھ ہو جاتی ہے اور پٹرول کا بحران بھی کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن قوم آج تک ان ایشوز پر اکٹھی نہیں ہوئی۔

ہمارے علماء کرام،سول سوسائٹی اور لبرل طبقے کسی ایشو پر باہر نہیں آئے ،ہم نے 60 ہزار لاشیں تک فراموش کر دیں لیکن سعودی عرب اور یمن کے معاملے میں ملک کا بچہ بچہ بول رہا ہے،ہمارے لوگ فوج کو سعودی عرب بھجوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہم کتنے با کمال لوگ ہیں،ہم نے آج تک کسی عوامی ایشو پر کوئی اے پی سی بلوائی اور نہ ہی پارلیمنٹ کا کوئی جوائنٹ سیشن بلایا،آپ پندرہ سال کی پارلیمانی تاریخ نکال کر دیکھ لیجئے۔

کیا لوڈ شیڈنگ،تعلیم،بیوروکریسی،پولیس،بے روزگاری اور لا اینڈ آرڈر پر کوئی اجلاس ہوا؟ کیا کسی نے پارلیمنٹ کا کوئی مشترکہ اجلاس بلایا؟ نہیں بلایا،کسی نے تکلیف گوارہ نہیں کی لیکن یمن اور سعودی عرب کے ایشو پر ہم نے جوائنٹ سیشن بھی بلا لیا اور عمران خان روزہ توڑ کر قومی اسمبلی بھی پہنچ گئے واہ کیا بات ہے۔

یہ کیا ہے؟ یہ ہمارا نیشنل کریکٹر ہے،ہم سے اپنا پرنالہ سیدھا نہیں ہوتا لیکن ہم دنیا کے سمندروں کا راستہ بدلنا چاہتے ہیں ہم سے کراچی،کوئٹہ اور پشاور سنبھالا نہیں جاتا،ہمیں ساری رات ماڈل ٹاؤن میں چلنے والی گولیاں سنائی نہیں دیتیں،ہم ریڈزون کو مظاہرین سے بچا نہیں سکتے،ہم سے سرکاری عمارتوں کی حفاظت ہوتی نہیں،ہم نیکٹا کو فعال نہیں کر پاتے ،ہم ضرورت کے مطابق بجلی پیدا نہیں کر پا رہے۔

ہم سے کراچی شہر کے پانچ لاکھ کنڈے اتارے نہیں جاتے،ہم عوام کو ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے سے نہیں روک پاتے،ہم سے بارش کی پیش گوئی ہوتی نہیں،ہم چار مہینے خشک سالی سے مرتے ہیں اور چار مہینے سیلابوں میں ڈبکیاں کھاتے ہیں،ہم سے ریلوے اور پی آئی اے چلائی نہیں جاتی،ہم سے سرکاری زمین سے قبضے نہیں چھڑائے جاتے،ہم سے پولیس کا ایک ایس ایس پی سنبھالا نہیں جاتا،ہم دھرنوں کے پیچھے چھپے خفیہ ہاتھوں کی نشاندہی نہیں کر پاتے،ہم آج تک ملک میں موجود مدارس اور مساجد کا ڈیٹا جمع نہیں کر سکے۔

آج بھی نادرا کے پاس چھ کروڑ شہریوں کا ریکارڈ موجود نہیں،ہم آج تک لوگوں سے ممنوعہ بور کا اسلحہ واپس نہیں لے سکے،ہم آج بھی جناح گراؤنڈ اور کریم آباد میں ایک دوسرے کے گریبان پھاڑتے ہیں،ہم آج تک کتوں اور گدھوں کے گوشت کی خریدوفروخت نہیں روک سکتے،ہم آج تک عوام کو میٹرو بسوں کی افادیت نہیں سمجھا سکے،ہم آج تک ملک میں موٹر سائیکل کا ضابطہ اخلاق طے نہیں کرپائے،ہم آج تک انتخابی اصلاحات نہیں کر سکے۔

ہم آج تک یونیورسٹی کے امتحانات کو صاف اور شفاف نہیں بنا سکے،ہم آج تک ملک میں جعلی مصنوعات نہیں روک سکے اور ہم آج تک ’’ون ویلنگ‘،پر پابندی نہیں لگا سکے،ہمارا حال یہ ہے ہمیں محرم،23 مارچ کی پریڈ اور 14 اگست کی تقریبات بچانے کے لیے موبائل فون بند کرنا پڑتے ہیں،ہمارے ملک میں آج بھی گورنر،و زیراعلیٰ،وزیراعظم،صدر اور دیگر وی وی آئی پیز کا قافلہ گزارنے کے لیے ایمبولینس روک دی جاتی ہے،ہم آج بھی سلیوٹ کو ایفی شینسی سمجھتے ہیں۔

ہم ملک میں گیس پوری نہیں کر پائے اور ہمیں زرعی ملک ہونے کے باوجود دوسرے ممالک سے خوراک امپورٹ کرنی پڑتی ہے لیکن آپ اپنے ’’پنگے‘،ملاحظہ کیجیے ہم نے 1980ء میں اس وقت اپنا سر افغانستان کے بیلنے میں دے دیا،اور نائین الیون کے بعد جب ترکی اور لبنان جیسے ملکوں نے غیر جانبداری کا اعلان کر دیا،ہم نے اس وقت دہشت گردی کے امریکی بھانبڑ میں چھلانگ لگا دی اور اب جب ہمیں بجٹ بنانے کے لیے بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے کشکول پھیلانا پڑتا ہے ہم اس وقت یمن کے دہکتے انگارے منہ میں ڈالنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

امریکا سعودی عرب کا دیرینہ دوست ہے امریکا نے سعودی عرب سے ٹریلین ڈالر کمائے،یہ آج سعودی عرب کو فوج دینے کے لیے تیار نہیں مگر ہم اعلان کررہے ہیں ’’ہم سعودی عرب پر آنچ نہیں آنے دیں گے‘،واہ ہم کتنے با کمال لوگ ہیں ہمیں ناک صاف کرناآتا نہیں اور ہم چاند کو پالش کرنے کے لیے گھر سے نکل رہے ہیں،واہ سبحان اللہ۔

کالم بحوالہ  ایکسپریس





✓ #Like ✓ #Share ✓ #Tag ✓ #Comment ✓ #Jokes ✓#UrduJokes ✓ #Pakistan #Karachi »»

Monday, December 1, 2014

Thursday, October 2, 2014

ميں اگر عمران خان ہوتاـ جاوید چوہدری کا ایکسپریس میں شائع شدہ کالم: Main agar Imran Khan hota - by Javed C.

ميں اگر عمران خان ہوتاـ جاوید چوہدری کا ایکسپریس میں شائع شدہ کالم: Main agar Imran Khan hota - by Javed C.

نیویارک کے ایک پولیس آفیسر کے بارے میں مشہور تھا‘ وہ جس کیس کو ہاتھ ڈالتا تھا‘ مجرم پکڑے جاتے تھے‘ وہ کیسوں کی ننانوے فیصد گتھیاں سلجھا لیتا تھا‘ وہ ریٹائر ہوا تو پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ’’فیئر ویل‘‘ کا بندوبست کیا‘ پولیس آفیسر کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور آخر میں اس سے کامیابی کا گر پوچھا گیا‘ وہ مائیک پر آیا‘ مسکرایا اور پولیس سروس کے لوگوں سے مخاطب ہوا ’’میں جب بھی کوئی کیس لیتا تھا‘ میں پولیس مین کے بجائے مجرم بن کر سوچتا تھا اور کیس کا سرا میرے ہاتھ آ جاتا تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’پولیس کے زیادہ تر آفیسر کرائم سین پر پولیس مین بن کر جاتے ہیں۔ یہ قانون کی کتاب سر پر رکھ کر مجرم تلاش کرتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں جب کہ میں جب بھی کرائم سین پر جاتا تھا‘ میں اپنے آپ کو چور سمجھتا تھا‘ میں ڈاکو‘ قاتل اور ریپسٹ بن جاتا تھا‘ چند لمحوں کے لیے سائیڈ پر کھڑا ہو کر یہ سوچتا تھا میں نے اگر یہ واردات کی ہوتی تو میں یہ جرم کیسے کرتا‘ میں اس کرائم سین پر کیا کیا غلطیاں کرتا‘ میں جوں ہی مجرم بن کر کرائم سین کو دیکھتا ‘ میرے ذہن میں واردات کی پرتیں کھل جاتیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’آپ اگر کوئی کیس حل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کبھی پولیس آفیسر بن کر نہ جائیں‘ آپ خود کو مجرم کی جگہ رکھ کر دیکھیں‘ آپ کو سارا معاملہ سمجھ آ جائے گا‘‘۔

دنیا کے معاملات دیکھنے کے درجنوں طریقے ہیں اور ان درجنوں طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے‘ آپ ایشو کو لکیر‘ میز اور میدان کے دوسری طرف کھڑے لوگوں کی نظر سے دیکھیں‘ آپ اپنی پوزیشن سے اٹھ کر چند لمحوں کے لیے مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں‘ آپ کو معاملہ بھی سمجھ آ جائے گا اور آپ حل پر بھی پہنچ جائیں گے‘ میاں نواز شریف‘ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے درمیان معاملات کے الجھاؤ کی بڑی وجہ یہ بھی ہے‘ یہ تینوں اپنی اپنی پوزیشن سے دوسرے کو دیکھ رہے ہیں چنانچہ انھیں یہ ضدی‘ انا پرست‘ سپائلر‘ مجرم اور غیر جمہوری نظر آ رہا ہے‘ علامہ طاہر القادری اور عمران خان میاں نواز شریف کو اپنے اعتراضات اور مطالبات کی عینک سے دیکھتے ہیں لہٰذا میاں نواز شریف انھیں بدعنوان‘ کرپٹ‘ دھاندلی کی پیداوار اور اسٹیٹ رسک دکھائی دیتے ہیں۔

میاں نواز شریف ان دونوں کو اپنے زاویئے سے دیکھتے ہیں لہٰذا یہ انھیں نادان اور ظالم لگتے ہیں‘ یہ تینوں اگر پوزیشن بدل لیں‘ یہ ایک‘ دوسرے اور تیسرے کی جگہ بیٹھ کر معاملات کو دیکھیں تو مجھے یقین ہے‘ یہ معاملات کو سمجھ بھی جائیں گے اور یہ حل بھی نکال لیں گے‘ میاں نواز شریف کسی دن عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے تمام مطالبات منگوائیں‘ وزیراعظم چند لمحوں کے لیے عام پاکستانی بنیں اور تمام مطالبات کا مطالعہ کریں‘ مجھے یقین ہے یہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے خیالات سے اتفاق پر مجبور ہو جائیں گے‘ ملک میں واقعی کسی شہری کو انصاف نہیں مل رہا‘ عوام کو ایف آئی آر کے لیے دھرنے دینے پڑتے ہیں یا پھر نعشیں سڑک پر رکھ کر ٹریفک بلاک کرنی پڑتی ہے‘ مقتول کے لواحقین انصاف تک پہنچنے کے لیے ساری زمین جائیداد سے محروم ہو جاتے ہیں‘ ملک میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے‘ آپ جتنے طاقتور ہوتے جاتے ہیں آپ اس ملک میں اتنے ہی ظالم‘ اتنے ہی چور بن جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں تقریروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور حقیقتاً ملک کے اٹھارہ انیس کروڑ بے بس لوگوں کا کوئی وارث نہیں‘ میاں صاحب عام آدمی بن کر چند لمحوں کے لیے دھرنے والوں کی بات سن لیں‘ یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا‘ میاں صاحب چند لمحوں کے لیے ’’میں اگر عمران خان ہوتا‘‘ بن جائیں‘ یہ معاملات کو سلجھا لیں گے‘۔

میرا مشورہ ہے حکومت اعلان کر دے‘ پاکستان میں ایک سال کے اندر ایف آئی آر آن لائن ہو جائے گی‘ ملک کا کوئی بھی شہری کسی بھی وقت کوئی بھی ایف آئی آر کروا سکے گا‘ پولیس ابتدائی تفتیش میں اس ایف آئی آر کے جینوئن یا نان جینوئن ہونے کا فیصلہ کرے‘ ایف آئی آر اگر غلط ہوئی تو درج کروانے والے کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر یہ درست ہو تو پولیس تفتیش کرے‘حکومت پولیس سے صرف تفتیش کا کام لے یہ اسے سیکیورٹی ڈیوٹیوں اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال سے باہر نکالے‘ سیکیورٹی ڈیوٹی رینجرز‘ ایف سی اور فوج سے کروائی جائے۔ حکومت عدلیہ کے ساتھ مل کرجوڈیشل ریفارمز کرے‘ قانون بنائے ملک میں کوئی بھی کیس سال سے زیادہ نہیں چلے گا‘ جج سال کے اندر فیصلے کا پابند ہوگا‘ ڈاکہ‘ زنا اور قتل ریاست کے خلاف جرم سمجھا جائے گا اور مقدمہ مقتول کے بجائے ریاست لڑے گی‘ حکومت مان لے ہم پرانے اداروں کو ٹھیک نہیں کرسکتے‘ ہمیں موٹرویز پولیس کی طرح نئے ادارے بنانے چاہئیں‘ پنجاب گیارہ کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے‘ ایک آئی جی اور ایک پولیس پورے صوبے کوکنٹرول نہیں کرسکتی‘ آپ پولیس کو تیس چالیس یونٹوں میں تقسیم کردیں‘ اسلام آباد کی پولیس کو صوبوں میں تقسیم کر دیں اور وفاق کے لیے نئی اور جدید کیپیٹل پولیس بنائیں‘ یہ پولیس بین الاقوامی سطح کی ہو‘لاہور کے لیے لاہور پولیس‘ ملتان کے لیے ملتان پولیس اور فیصل آباد‘ سیالکوٹ اور ڈی جی خان کے لیے بھی الگ فورس بنائی جائے اور یہ فورسز خودمختار اور آزاد ہوں‘۔

سندھ‘ بلوچستان اور کے پی کے میں بھی علاقوں کے مطابق الگ الگ فورس بنائی جائے۔ ریلوے اور پی آئی اے بھی ٹھیک نہیں ہو سکیں گے‘ آپ پرانے ریلوے کے ساتھ نیا ریلوے بنائیں‘ پرانی پی آئی اے کے ساتھ ماڈرن پی آئی اے بنائیں‘ پرانے اداروں میں نئی بھرتیاں نہ کریں‘ نئے اداروں میں نئے لوگ بھرتی کرتے رہیں‘ پرانے اداروں کے لوگ آہستہ آہستہ ریٹائر ہو جائیں گے اور نئے ادارے پرانے اداروں کو ’’ٹیک اوور‘‘ کرتے رہیں گے‘ ٹیکس کا نظام بھی فرسودہ ہوچکا ہے‘ ایف بی آر کے لوگ کام نہیں کرتے‘ آپ انکم ٹیکس کی پوری اسٹیبلشمنٹ نئی بنا دیں‘ اس میں تمام لوگ نئے ہوں‘ یہ لوگ خود مختار بھی ہوں اور آزاد بھی اور یہ ملک کے کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت گرفت میں لے سکتے ہوں اور کوئی شخص یا کوئی ادارہ ان کا راستہ نہ روک سکے‘۔

پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پرمشتمل ہے‘ یہ نوجوان آگ کا گولہ ہیں‘ یہ ہر وقت تخریبی کارروائی کے لیے تیار رہتے ہیں‘ یہ تین مسائل کا شکار ہیں۔ ملک میں ان کے لیے گراؤنڈز اور جم نہیں ہیں‘ ان کے لیے کوئی انٹرٹینمنٹ نہیں اور ملک میں نوکریوں کی شرح بھی بڑی تیزی سے گر رہی ہے‘ آپ فوری طور پر ان تینوں معاملات کے لیے پالیسی بنائیں‘ آپ ملک بھر میں اسپورٹس کو فروغ دیں‘ کھیل کے میدان اور جم بنوائیں‘ ملک میں فلم سازی کی صنعت دوبارہ سر اٹھا رہی ہے‘ آپ اسے گود لے لیں‘ پاکستان میں سال میں کم از کم 50 بڑی فلمیں بنیں‘ پاکستان میں سینما اور موسیقی کی واپسی بہت ضروری ہے‘ آپ اس کے لیے کام کریں‘ آپ روزگار کے لیے ایسی پالیسیاں بنائیں جن سے ملک میں سرمایہ کاری ہو‘ لوگ کمپنیاں‘ فرمیں اور ادارے بنائیں‘ کارخانے لگیں‘ تجارت شروع ہو‘ آئی ٹی کی فرمیں بنیں‘ سروسز کا سیکٹر مضبوط ہو‘ نئی مارکیٹیں بنیں‘ بینک نوجوانوں کو بزنس لون دیں‘ اس سے نوکریاں پیدا ہوں گی‘ نوجوانوں کو کام ملے گا‘ یہ ایکسرسائز بھی کریں گے اور ہلہ گلہ کر کے خوش بھی ہوں گے اور یہ تخریبی کارروائیوں کے بجائے تعمیری سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہوں گے‘اس کے نتیجے میں یہ دھرنوں اور کنٹینرز کا پیچھا چھوڑ دیں گے‘ یہ ڈنڈوں پر کیل لگانا بند کر دیں گے اور یہ شیشے اور گاڑیاں بھی نہیں توڑیں گے‘ یہ ملک بچ جائے گا۔

میاں نواز شریف اگر چند لمحوں کے لیے عمران خان اور علامہ طاہر القادری بن کر سوچیں تو مجھے یقین ہے یہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کرتے دیر نہیں لگائیں گے‘ یہ لندن میں موجود ذاتی پراپرٹی بھی فروخت کر کے پیسے پاکستان لے آئیں گے‘ یہ رائے ونڈ کے سفید محل کے بجائے کسی چھوٹی رہائش گاہ میں بھی شفٹ ہو جائیں گے‘ یہ ہفتے میں تین دن لاہور میں رہنے کی روٹین بھی بدل دیں گے‘ یہ سادگی اختیار کریں گے‘ سرکاری جہاز لے کر دوروں پر نہیں جائیں گے‘ یہ وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کے اخراجات بھی کم کر دیں گے اور یہ عوام کو وقت بھی دیں گے‘ حکومت کے وزراء بھی دفتروں اور لاجز کے بجائے عوام میں دکھائی دیں گے‘ یہ محکموں کی ازسر نو تعمیر شروع کریں گے‘یہ مہنگائی کا کوئی مستقل حل تلاش کریں گے‘ یہ صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتوں پر توجہ دیں گے۔ یہ کرپشن روکنے کا مضبوط سسٹم بھی بنائیں گے اور یہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے دھرنوں کی ناکامی کو اپنی فتح نہیں سمجھیں گے‘ یہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت قرار دیں گے اور گہری نیند سے جاگ کرعوام کی خدمت میں جت جائیں گے‘ میاں صاحب اگر چند لمحوں کے لیے عمران خان اور علامہ طاہر القادری بن جائیں تو یہ دل سے مان لیں گے.

علامہ اور خان صاحب حکومت کے پیندے میں سوراخ کر چکے ہیں‘ حکومت کے بدن سے اب اختیار اور اقتدار تھوڑا تھوڑا زمین پر گرتا رہے گا‘ عمران خان اور علامہ طاہر القادری نظام کو کمزور اور بدعنوان بھی ثابت کر چکے ہیں‘ یہ نظام اب زیادہ دیر اپنے قدموں پر کھڑا نہیں رہ سکے گا چنانچہ میاں صاحب کو آگے بڑھ کر نیا نظام بنانا ہوگا یا پھر اس فرسودہ نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہو گا‘ میاں صاحب نے اگر یہ نہ کیا‘ یہ اگر چند لمحوں کے لیے ’’میں اگرعمران خان ہوتا‘‘ نہ بنے تو پھر میاں صاحب اور ملک دونوں خدا حافظ ہو جائیں گے۔

میری عمران خان اور علامہ صاحب سے بھی درخواست ہے‘ آپ بھی چند لمحوں کے لیے ’’میں اگر نواز شریف ہوتا‘‘ بن جائیں‘ مجھے یقین ہے آپ کو بھی چیزیں اتنی خراب نہیں لگیں گی جتنی آپ کو یہ کنٹینروں کی چھت سے دکھائی دے رہی ہیں۔

اشاعت ڈیلی ایکسپریس 02 اکتوبر 2014

Tuesday, July 1, 2014

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مخترمہ فاطمہ جناح کو 2 لاکھ 63 ہزار774 روپے کا بل بھیج دیا۔۔ ☺ جاوید چوہدری کا کالم

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مخترمہ فاطمہ جناح کو 2 لاکھ 63 ہزار774 روپے کا بل بھیج دیا۔۔ ☺ جاوید چوہدری کا کالم


















































پاکستان بننے سے قبل کراچی شہر میں ایک سڑک ہوتی تھی‘ اسٹاف لائینز۔ یہ کراچی کی مہنگی اور خوبصورت ترین روڈ تھی‘ اسٹاف لائینز پر برطانوی فوج کے اعلیٰ افسروں کے سرکاری گھر تھے‘ اس سڑک پر 1865ء میں دس ہزار دو سو 14 مربع گز کا ایک خوبصورت بنگلہ بنایا گیا‘ یہ بنگلہ اس دور کے مشہور آرکیٹیکٹ موسس سوماکی نے ڈیزائن کیا تھا‘ یہ بنگلہ بعد ازاں فلیگ اسٹاف ہائوس کہلایا اور سندھ کے جنرل کمانڈنگ آفیسر کی سرکاری رہائش گاہ بنا۔

فلیگ اسٹاف ہائوس میں جنرل ڈگلس گریسی جیسے لوگ بھی رہائش پذیر رہے‘ یہ اُس وقت بریگیڈیئر کمانڈر تھے‘ یہ بنگلہ بعد ازاں مختلف ہاتھوں میں فروخت ہوتا رہا یہاں تک کہ یہ 1940ء میں کراچی کے مشہور بزنس مین سہراب کائوس جی کی ملکیت ہو گیا‘ سہراب کائوس جی پارسی تھے اور یہ اپنے دور کے بزنس ٹائیکون تھے‘ کائوس جی نے 1942ء میں یہ بنگلہ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا‘ کراچی کے پراپرٹی ڈیلرز نے گاہکوں کو بنگلہ دکھانا شروع کیا‘ بنگلہ مہنگا بھی تھا اور بڑا بھی۔

گاہک ملنا مشکل تھا‘ قائداعظم 1943ء میں کراچی آئے‘ قیام پاکستان کی تحریک اس وقت تک آخری فیز میں داخل ہو چکی تھی‘ قائداعظم جانتے تھے پاکستان چند برسوں میں بن جائے گا اور کراچی نئے ملک کا دارالحکومت ہو گا‘ قائداعظم کراچی میں اپنی رہائش کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے‘ کراچی کے ایک وکیل نے قائداعظم کو فلیگ اسٹاف ہائوس دکھایا‘ قائد کو یہ عمارت پہلی نظر میں پسند آ گئی‘ آپ نے سہراب کاؤس جی سے ملاقات کی اور بنگلہ خرید لیا‘ فلیگ اسٹاف ہائوس 1944ء میں قائداعظم کے نام منتقل ہوگیا‘ قائداعظم کے پاس اس وقت بمبئی اور دہلی میں شاندار رہائش گاہیں تھیں‘ کراچی کی رہائش گاہ بھی دہلی اور بمبئی کے گھروں کی طرح شاندار اور خوبصورت تھی۔



قائداعظم اگست 1947ء میں کراچی شفٹ ہوگئے‘ آپ نے بمبئی اور دہلی کے گھروں سے اپنا سامان منگوا لیا‘ یہ سامان فلیگ اسٹاف ہائوس میں لگا دیا گیا‘ قائداعظم زیادہ مدت کے لیے گورنر جنرل نہیں رہنا چاہتے تھے‘ وہ ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد فلیگ اسٹاف ہائوس میں شفٹ ہونا چاہتے تھے لیکن قدرت نے آپ کو ریٹائر ہونے اور فلیگ اسٹاف ہائوس میں شفٹ ہونے کی مہلت نہ دی‘ قائداعظم 11 ستمبر 1948ء کو انتقال کرگئے۔

فاطمہ جناح قائداعظم کے انتقال تک پاکستان کی خاتون اول اور مادر ملت تھیں‘ یہ قائداعظم کے ساتھ گورنر جنرل ہائوس میں رہتی تھیں‘ قائداعظم کے انتقال کے بعد خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل بنا دیے گئے‘ محترمہ فاطمہ جناح نے گورنر جنرل ہائوس خالی کیا اور وہ فلیگ اسٹاف ہائوس میں شفٹ ہو گئیں‘ آپ کے شفٹ ہونے کے بعد حکومت نے اسٹاف لائینز کا نام فاطمہ جناح روڈ رکھ دیا‘ محترمہ فاطمہ جناح اپنے انتقال9 جولائی 1967ء تک اسی عمارت میں رہائش پذیر رہیں‘ لوگ آپ سے ملاقات کے لیے روز یہاں آتے تھے۔

ملک میں 7 اکتوبر 1958ء کو پہلا مارشل لاء لگا‘ آئین توڑ دیا گیا اور جنرل ایوب خان کو ملک کا صدر بنا دیا گیا‘ فاطمہ جناح کیونکہ عملی سیاست سے الگ ہو چکی تھیں چنانچہ وہ خاموش رہیں‘ ایوب خان نے 1964ء میں صدارتی الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا‘ ملک میں اس وقت پانچ اپوزیشن جماعتیں تھیں‘ یہ جماعتیں ایوب خان کے مقابلے کے لیے صدارتی امیدوار تلاش کر رہی تھیں‘ جماعتوں نے طویل غور و غوض کے بعد فیصلہ کیا یہ محترمہ فاطمہ جناح کو جنرل ایوب خان کے خلاف متفقہ امیدوار بنائیں گی‘ فیصلے کے بعد اپوزیشن کی پانچوں جماعتوں کے سربراہ فلیگ اسٹاف ہائوس پہنچے‘ محترمہ فاطمہ جناح سے ملاقات کی اور اس وقت تک وہاں بیٹھے رہے جب تک مادر ملت نے ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان نہیں کر دیا۔

فاطمہ جناح کا الیکشن لڑنے کا اعلان ملکی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ تھا‘ یہ ملک کا پہلا واقعہ تھا جب حکومت نے ریاستی مشینری کو سیاست کے تنور میں جھونک دیا‘ ایوب خان نے الیکشن جیتنے کے لیے جہاں ہر قسم کی دھاندلی کروائی وہاں انھوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی کردار کشی اور اثاثوں کی پڑتال بھی شروع کرا دی‘ ذوالفقار علی بھٹو اس وقت ایوب خان کے چہیتے وزیر اور منہ بولے بیٹے تھے‘ بھٹو صاحب نے ملتان کے جلسے میں محترمہ پر ایسا گھنائونا الزام لگایا کہ مؤرخین نے اس الزام کو لکھنے تک کی جرأت نہ کی۔

صدر ایوب خان کی ہدایت پر کراچی کی انتظامیہ نے اس دور میں محترمہ فاطمہ جناح کو مختلف قسم کے نوٹس دینا شروع کر دیے‘ ان نوٹس میں پراپرٹی ٹیکس کے نوٹس بھی تھے‘ انکم ٹیکس کے نوٹس بھی تھے اور جائیداد کی تفصیل بتانے کے نوٹس بھی تھے‘ کراچی کی انتظامیہ نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑنے کے جرم میں فاطمہ جناح کے نام فلیگ اسٹاف ہائوس کے پانی اور سیوریج کے بقایا جات بھی نکال دیے‘ فاطمہ جناح اپنے بل مقررہ وقت پر جمع کرواتی رہی تھیں لیکن میونسپل کمیٹی نے اس کے باوجود بقایا جات کا نوٹس بھجوا دیا۔

حکومت شاید بقایا جات کی بنیاد پر محترمہ کو الیکشن سے ’’ڈس کوالی فائی‘‘ کرنا چاہتی تھی‘ محترمہ نے ادا شدہ بلوں کی تفصیل میونسپل کمیٹی کو بھجوا دی‘ محکمہ خاموش ہوگیا مگر مقدمہ بند نہیں ہوا‘ یہ کیس سرکاری فائلوں میں چلتا رہا‘ ایوب خان الیکشن جیت گئے‘ محترمہ فاطمہ جناح ہار گئیں‘ یہ اسی فلیگ اسٹاف ہائوس میں 9 جولائی 1967ء کو انتقال فرما گئیں‘ پاکستان میں اس دور میں قائداعظم کی پراپرٹی کا کوئی وارث نہیں تھا چنانچہ فلیگ اسٹاف ہائوس ٹرسٹ کی تحویل میں چلا گیا‘ 1980ء کی دہائی آئی۔

کراچی میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا‘ قبضہ مافیا سرگرم ہو گیا‘ فلیگ اسٹاف ہائوس انتہائی مہنگی اور کمرشل جگہ پر واقع تھا‘ قبضہ گروپوں نے قائداعظم کی رہائش گاہ پر قبضے کی کوششیں شروع کر دیں‘ محمد خان جونیجو ان کوششوں سے واقف تھے‘ یہ 24 مارچ 1985ء کو وزیراعظم بنے تو انھوں نے فوری طور پر فلیگ اسٹاف ہائوس کوٹرسٹ سے خریدا اور اسے قائداعظم میوزیم بنا دیا اور یوں 1865ء کا فلیگ اسٹاف ہائوس قائداعظم کے استعمال کی ذاتی اشیاء کا عجائب گھر بن گیا‘ یہ گھر 1985ء سے وفاقی حکومت کی تحویل میں ہے لیکن محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف پانی اور سیوریج کے بقایاجات آج تک قائم ہیں۔

محترمہ کے خلاف ایوب خان دور میں قائم کردہ مقدمہ ختم نہیں ہوا‘ آپ اس کیس کا آخری ٹرننگ پوائنٹ ملاحظہ کیجیے‘ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مارچ‘ اپریل 2014ء میں ڈیفالٹرز کو حتمی نوٹس جاری کیے‘ بورڈ نے وصولیوں کی اس مہم کے دوران محترمہ فاطمہ جناح کو بھی نوٹس جاری کر دیا‘ محترمہ کو نوٹس میں حکم دیا گیا‘ آپ کے ذمے پانی اور سیوریج کے دو لاکھ 63 ہزار 774 روپے واجب الادا ہیں۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے آپ یہ رقم 28 مئی تک جمع کروادیں ورنہ دوسری صورت میں آپ کی رہائش گاہ آر۔ اے 241 (یعنی فلیگ اسٹاف ہائوس) کے پانی اور سیوریج کے کنکشن بھی کاٹ دیے جائیں گے ‘آپ کو لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت سزا بھی ہو سکتی ہے اور اس سزا میں آپ کی جائیداد قرقی‘ آپ کی جائیداد کی نیلامی اور بھاری جرمانہ شامل ہے‘ نوٹس پر محترمہ فاطمہ جناح کا صارف نمبر0 A060039000 درج ہے محترمہ فاطمہ جناح کو یہ نوٹس ان کے انتقال کے 47 سال بعد جاری ہوا ‘یہ نوٹس ہماری سرکاری کارکردگی کا تازہ ترین شاہکار ہے۔

میں اس نوٹس پر حکومت‘ بیوروکریسی اور ملک کے بیوروکریٹک سسٹم کی سرزنش نہیں کرنا چاہتا‘ میں اس نظام میں موجود دو خامیوں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں‘ ہمارے ملک میں پیدائش اور انتقال کو غیر اہم سمجھا جاتا ہے جب کہ پوری دنیا اسے سنجیدہ سمجھتی ہے‘ آپ نیویارک جائیے‘ نیویارک میں ایلس آئی لینڈ ہے‘ امریکی مجسمہ آزادی اسی جزیرے کے ایک کونے میں نصب ہے‘ ایلس آئی لینڈ میں امریکا آنے والے مہاجرین سے متعلق ایک میوزیم قائم ہے‘ آپ کواس عجائب گھر میں مہاجرین کا پورا ڈیٹا بیس ملتا ہے۔

آپ اگر امریکی ہیں توآپ کمپیوٹر میں اپنا‘ اپنی والدہ اور اپنے والد کا نام ٹائپ کریں آپ کو کمپیوٹر فوراً بتا دے گا آپ کے آبائو اجداد کس سن میں کس ملک سے امریکا آئے تھے اور آپ کے کون کون سے رشتے دار امریکا کے کس کس حصے میں رہتے ہیں؟ دنیا کے ہر ملک میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو سرکاری سسٹم میں اس کا نام درج کیا جاتا ہے اور یہ بچہ جہاں بھی جاتا ہے سرکاری سسٹم اس کا پیچھا کرتا ہے لیکن ہمارے ملک میں آج بھی ایک تہائی بچوں کا اندراج نہیں ہوتا‘ ہم لوگ اسی طرح ’’ڈیتھ سر ٹیفکیٹ‘‘ لینا یا انتقال کا اندراج کروانا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

میرا خیال ہے ہم اگر قائد اعظم‘ لیاقت علی خان‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو یا میاں محمد شریف کے بارے میں بھی تحقیقات کریں تو یہ بھی سرکار کی کسی نہ کسی فائل میں زندہ نکل آئیں گے‘ میری حکومت سے درخواست ہے یہ 2014ء میں یہ قانون بنا دے‘ یکم جنوری 2015ء سے ملک میں جو بچہ پیدا ہو گا ہر صورت اس کا اندراج ہو گا اور پاکستان کا جو شہری انتقال کرے گا سرکاری کاغذوں میں وہ نہ صرف فوت شدہ لکھا جائے گا بلکہ اس کے قبرستان اور قبر کا حدوداربعہ بھی درج کیا جائے گا‘ یہ کام نادرا کرے گا اور دوم ہمارے ملک میں مقدمات کی ’’ایکسپائری ڈیٹ‘‘ نہیں ‘ سرکاری محکموں کی فائلیں پچاس پچاس سال چلتی رہتی ہیں۔

یہ محترمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے 47 سال بعد بھی نوٹس جاری کر دیتے ہیں‘ یہ وقت اور وسائل دونوں کا ضیاع ہے‘ حکومت اس سال سے تمام سرکاری نوٹس‘ کیسز‘ درخواستوں اور مقدمات کی ’’ ایکسپائری ڈیٹ‘‘ طے کردے‘ سرکاری محکموں اور عدالتوں کو پانچ سال دے دیے جائیں یہ اگر پانچ برسوں میں فیصلہ نہیں کرتے تو فائل خود بخود بند ہو جائے گی اور ملزم یورپ کی طرح محکمے پر مقدمہ کر سکے گا یہ فیصلہ محترمہ فاطمہ جناح جیسی شخصیات کی روحوں کو سکون بخشے گا ورنہ دوسری صورت میں ہمارے محکمے کسی دن حضرت نوح علیہ السلام کو بھی پانی کا بل بھجوا دیں گے۔

اشاعت روزنامہ ایکسپریس 30 جون 2014

Saturday, May 17, 2014

ﻣﯿﺎﮞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﮔﺮ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ! ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ‘ ﯾﮧ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ جاوید چوہدری کا کالم ضرور پڑھیئے

ﻣﯿﺎﮞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﮔﺮ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ! ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ‘ ﯾﮧ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ جاوید چوہدری کا کالم ضرور پڑھیئے



ﻣﺠﮭﮯ ﻓﺮﻧﭻ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ
ﭼﮭﭙﮯ ﺍﻋﺪﺍﺩ ﻭ ﺷﻤﺎﺭ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﻧﭻ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ
7 ﻣﺌﯽ 2012ﺀ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ‘ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﺍﺭﺗﯽ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺋﮯ ‘
ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﻟﻨﮓ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﭼﮭﭙﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ %17 ۔
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ 17 ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﻭﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ؟ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﺮﺍﺩﺭﻡ ﻋﻘﯿﻞ ﻧﻘﻮﯼ ﮨﯿﮟ ‘
ﻋﻘﯿﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ۔۔


ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺳﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﮐﺎﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﯿﻨﺎﺕ ﮨﻮﺍ ‘ ﯾﮧ ﺍﯾﻤﺒﯿﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﺒﻠﮏ
ﺍﻓﯿﺌﺮﺯ ﮈﯾﭙﺎﺭﭨﻤﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﺳﮯ
ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻋﻘﯿﻞ ﻧﻘﻮﯼ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﺍ ﺩﯼ ‘ ﮔﻔﺘﮕﻮ
ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮨﻮ
ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﭨﺮﻥ ﺁﺅﭦ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﭘﯿﻨﺘﯿﺲ ﺳﮯ
ﭼﺎﻟﯿﺲ ﻓﯿﺼﺪ ‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺳﮯ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ’’ ﺍﮔﺮ 60 ﻓﯿﺼﺪ
ﻟﻮﮒ ﻭﻭﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﺘﺤﮑﻢ
ﮨﻮ ﮔﯽ ‘‘ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﯿﺎ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ
ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺮﺧﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ
ﮐﺘﻨﮯ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻭﻭﭦ ﺩﯾﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺮﺧﯿﺎﮞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﮐﺘﻨﮯ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻭﻭﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮨﺮ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻭﻭﭦ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﮩﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﺑﻨﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ‘ ﮨﻢ ﺍﮔﻠﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﮐﻮﻭﻭﭦ ﮐﺎﺳﭧ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﮯ
ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ؟ ‘‘ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ 17 ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﻧﮯ ﻭﻭﭦ ﮐﺎﺳﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔۔

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻭﻭﭦ ‘ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺎﺱ
ﮨﯿﮟ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﻋﻮﺍﻡ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺳﺎﺯﯼ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ
ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺍﻭﺭ
ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ
ﺣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ
ﺳﺎﺯﯼ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ۔ ﮨﻢ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ‘
ﻭﻭﭨﺮ ﺍﻭﺭ ﻭﻭﭦ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ؟ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮩﺖ
ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ‘ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺁﻣﺮﺍﻧﮧ ﺫﮨﻦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ
ﺍﺻﻼﺣﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﻣﺮﺍﻧﮧ ﺳﻮﭺ ‘ ﺁﻣﺮﺍﻧﮧ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﺁﻣﺮﺍﻧﮧ
ﻟﯿﮉﺭ ﺷﭗ ﮐﺎ ﺑﺴﺘﺮ ﮔﻮﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﻮﺝ ﺁ ﺳﮑﮯ
ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ’’ﺑﺎﺭﯾﺎﮞ ‘‘ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ
ﺭﯾﺎﺳﺘﯽ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ’’ ﻭﺍﺭﮦ ‘‘ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺷﻤﺸﯿﺮ ﺍﺑﻦ ﺷﻤﺸﯿﺮ ﺍﺑﻦ
ﺷﻤﺸﯿﺮ ﻟﯿﮉﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺍﺻﻼﺣﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮﺟﮧ
ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻣﺎﮦ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﻮﺍ ‘ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺩﻧﯿﺎ
ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﮨﮯ۔۔

ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ 81 ﮐﺮﻭﮌ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﻭﻭﭨﺮ ﮨﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖ ﺭﺍﺋﮯﺩﮨﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﺴﭩﻢ ﺧﺎﺻﺎ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﻦ ﮨﮯ ‘ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻧﭻ ‘ ﺑﺮﭨﺶ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﻦ ﯾﺎ ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﻦ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﺎﻓﺬﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﭼﯿﺰﯾﮟﺳﯿﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺧﻮﺩﻣﺨﺘﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺑﮭﯽ۔ ﯾﮧ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﺸﯿﻨﺮﯼ ﺍﺱ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻠﺪﺭﺁﻣﺪ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﺑﮭﺎﺭﺕﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻧﮕﺮﺍﻥ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ ‘ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭼﻠﺘﯽﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ‘ ﺻﺪﺭ ‘ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﺭﮨﺘﮯﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻓﯿﺼﺪﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﮯ ‘ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﻣﯿﮟ 28 ﺭﯾﺎﺳﺘﯿﮟ ( ﺻﻮﺑﮯ ) ﮨﯿﮟ ‘ ﻭﻓﺎﻗﯽﺍﺳﻤﺒﻠﯽ (ﻟﻮﮎ ﺳﺒﮭﺎ ) ﮐﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺭﯾﺎﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻭﻗﺎﺕﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﻣﺮﺣﻠﮧ 7 ﺍﭘﺮﯾﻞ ﮐﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﮐﻞ 12 ﻣﺌﯽ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺍ ‘ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ 16 ﻣﺌﯽ ﮐﻮﻧﺘﺎﺋﺞ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔۔

81 ﮐﺮﻭﮌ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﻥﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﮯ ﮈﯾﭩﺎ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ‘ ﻭﻭﭨﺮ ﭘﻮﻟﻨﮓ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﭘﺮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﻣﺸﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﻭﭦ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﭘﺮ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ ﻧﺸﺎﻥ ﮐﻮ ﭨﭻ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﻭﭦﮐﺎﺳﭧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦﻭﻭﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺳﮑﺘﺎ ‘ ﻣﺸﯿﻦ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﻭﭦ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ‘ﮐﺴﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﻮ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﯿﺲ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍ ﮐﺮﭘﻮﺭﺍ ﮈﯾﭩﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ‘ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻭﻭﭦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﺟﺎﺗﺎﮨﮯ ‘ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﺣﻠﻘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﺮ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﭘﻮﺳﭩﺮﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﭼﺎﮐﻨﮓ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟﮔﯿﺎ ‘ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻮﺭﮈ ‘ ﺟﮭﻨﮉﺍ ‘ ﺑﯿﻨﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺳﭩﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ‘ﭘﺘﮧ ﮐﯿﺎ ‘ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ‘ ﺟﻮ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﯾﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔

ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ‘ ﺟﻠﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ
ﺳﮑﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﻠﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ‘ ﯾﮧ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﺻﺮﻑ ﺳﯿﺎﺳﯽ
ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ
ﺟﻠﺴﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺣﻠﻘﮯ ﮐﺎ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﺍﺱ
ﺧﻄﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﮐﯽ
ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺗﺸﮩﯿﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ
ﮐﺎﻡ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﭼﯿﻨﻠﺰ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﯾﺎﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﻘﺎﻣﯽ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﭼﯿﻨﻠﺰ ﮨﯿﮟ ‘ ﭘﺎﺭﭨﯿﺎﮞ ﺍﻥ ﭼﯿﻨﻠﺰ ﭘﺮ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ‘
ﻗﻮﻣﯽ ﺳﻄﺢ ﮐﮯ ﭼﯿﻨﻠﺰ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﺩﯾﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﻥ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ
ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺪﻏﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﺱ
ﺳﮩﻮﻟﺖ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﺍﮔﺮ ﭘﺮﯾﺲ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺗﻮ
ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﺳﺮﮐﭧ ﮨﺎﺅﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﺸﻮﺭ ﺑﺘﺎﻧﮯ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﻠﻘﮯ ﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﮔﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔۔

ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ
ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﯾﮏ ‘ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺭﯾﺎﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻭﻗﺎﺕ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﻮ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺳﮩﻮﻟﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﺣﻠﮯ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﻮﮞ ﻋﻤﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﺎﺋﻞ ﺑﮭﯽ
ﮐﻢ ﺧﺮﭺ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺩﻭ ‘ ﺑﺎﺋﯿﻮ ﻣﯿﭩﺮﮎ ﺳﺴﭩﻢ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﮬﺎﻧﺪﻟﯽ ﮐﮯ
ﺍﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﯿﮟ ‘ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻭﭦ ﺑﮭﮕﺖ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ‘ ﭘﻮﻟﻨﮓ ﺍﺳﭩﯿﺸﻨﺰ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﺍٓﺯﻣﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻮﻧﺲ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮﺗﮯ ‘ ﭘﻮﻟﻨﮓ ﺍﺳﭩﯿﺸﻨﺰ ﭘﺮ ﻭﻭﭨﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﻨﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ‘ ﻭﻭﭦ ﺳﯿﻨﭩﺮﻝ ﮈﯾﭩﺎ
ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺎﺅﻧﭩﻨﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﻮﮞ ﭘﻮﻟﻨﮓ
ﺍﺳﭩﯿﺸﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﯿﺮﺍ ﭘﮭﯿﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔۔
ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺮ ﺣﺘﻤﯽ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ‘ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ
ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﺣﺘﻤﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺍﺱ ﺣﺘﻤﯽ ﺍﻋﻼﻥ ﺳﮯ
ﻗﺒﻞ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﻏﯿﺮ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﻦ ﺍﻣﯿﺪ ﻭﺍﺭ ﭘﻮﺳﭩﺮﻭﮞ ‘
ﺑﯿﻨﺮﻭﮞ ‘ ﺟﻠﻮﺳﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ‘ ﯾﮧ
ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ’’ ﻣﯿﻦ ﭨﻮ ﻣﯿﻦ ‘‘ ﺭﯾﻠﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﻭﻭﭦ ﻣﺎﻧﮓ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ
ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻗﺒﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ ﻣﮩﻢ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ
ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﻭﭨﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ
ﻃﺮﺡ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻭﻭﭨﺮ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﮉ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻀﺒﻮﻁ
ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﮐﻮ ﻭﻭﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ‘ ﯾﮧ ﭘﺎﺭﭨﯽ
ﮐﻮ ﻭﻭﭦ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﺸﻮﺭ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺩﺭﺍٓﻣﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ
ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔۔

ﮨﻤﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺠﯿﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺍﺻﻼﺣﺎﺕ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ
ﮨﮯ ‘ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً
ﺩﺭﺟﻨﻮﮞ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﻣﯿﻨﮉﯾﭧ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍﻥ ﺳﻮﺭﺍﺧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﺮ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﯾﮧ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺳﻄﺤﯽ ﮐﻤﯿﺸﻦ
ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺍﺻﻼﺣﺎﺕ ﮐﺮﮮ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺎﺩﺭﺍ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻓﭧ ﻭﯾﺌﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ‘ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﮍﯼ ﺍٓﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ
ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﺴﭩﻢ ﮐﻮ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮﺍﺋﺰﮈ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ‘ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ
ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺷﮑﻨﯽ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ
ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍٓﺯﺍﺩ
ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮔﮭﻮﮌﮮ
ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﮐﺮﭘﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔

ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ ﻣﮩﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﭼﯿﻨﻠﺰ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻠﮏ ﺑﻮﺭﮈﻭﮞ ‘ ﺟﻠﻮﺳﻮﮞ، ﺟﻠﺴﻮﮞ، ﺭﯾﻠﯿﻮﮞ، ﭼﺎﮐﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻨﺮﻭﮞ ﮐﯽ
ﭘﻠﻮﺷﻦ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﺭﮨﮯ ‘ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺗﯿﺲ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ
ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ‘ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎﻕ ﮐﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ‘ ﻭﻭﭦ
ﮐﺎﺳﭧ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺮﻣﺎﻧﮧ ﻃﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﭘﭽﺎﺱ ﻓﯿﺼﺪ ﻭﻭﭨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺪ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ‘ 2013 ﺀ
ﮐﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻞ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 8 ﮐﺮﻭﮌ 61 ﻻﮐﮫ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻭﮌ 48 ﻻﮐﮫ ﻭﻭﭦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﮯ ‘ ﯾﮧ ﮐﻞ ﻭﻭﭨﻮﮞ ﮐﺎ
32 ﻓﯿﺼﺪ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﮨﻢ 32 ﻓﯿﺼﺪ ﮐﻮ ﮨﯿﻮﯼ ﻣﯿﻨﮉﯾﭧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﮐﮧ 68
ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍٓﺝ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﯽ ﺻﺪﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﻓﯿﺼﺪ ﻭﻭﭦ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ 32
ﻓﯿﺼﺪ ﻭﻭﭦ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﯿﻮﯼ ﻣﯿﻨﮉﯾﭧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ
ﺩﮮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﭘﺮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺮ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺩﮬﺎﻧﺪﻟﯽ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺩﮬﺮﻧﻮﮞ ‘
ﺭﯾﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﻮﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔۔

ﻣﯿﺎﮞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﮔﺮ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ! ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ‘ ﯾﮧ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔

Follow us on social media to get instent updates....

|Twitter| |Facebook| |Pinterst| |Myvoicetv.com|
Example

Send your news/prs to us at myvoicetv.outlook.com..

Note: The views, comments and opinions expressed on this news story/article do not necessarily reflect the official policy or position of the management of the website. Companies, Political Parties, NGOs can send their PRs to us at myvoicetv@outlook.com

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________
loading...