Express ☺ your view, expression on this post, via Facebook comment in the below box… (do not forget to tick Also post on facebook option)

Showing posts with label Life Changing Stories. Show all posts
Showing posts with label Life Changing Stories. Show all posts

Thursday, March 7, 2019

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایک قصہ جو آج کے مسلمانوں کے لئے بہترین سبق ہے: ضرور پڑھیں اور شیئر کریں

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایک قصہ جو آج کے مسلمانوں کے لئے بہترین سبق ہے: ضرور پڑھیں اور شیئر کریں

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایک قصہ جو آج کے مسلمانوں کے لئے بہترین سبق ہے: ضرور پڑھیں اور شیئر کریں 

حضرت ابراھیم (ع) کی عادت تھی کہ جب تک کوئی مہمان ان کے دسترخوان پر نہ بیٹھتا تو وہ کھانا نہیں کھاتے تھے۔ایک دن ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا اور کہا کہ 





ایک ماں کی دل کو چھونے والی کہانی، اگر اپنی ماں سے پیار ہے تو شیئر ضرور کریں

ایک ماں کی دل کو چھونے والی کہانی، اگر اپنی ماں سے پیار ہے تو شیئر ضرور کریں

ایک ماں کی دل کو چھونے والی کہانی، اگر اپنی ماں سے پیار ہے تو شیئر ضرور کریں

ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت اپنے بیٹے کے ساتھ پارک میں بیٹھی ہو ئی تھی۔ پاس ہی ایک کوا بھی بیٹھا تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟؟




Thursday, January 31, 2019

محبت یا فتنہ؟

محبت یا فتنہ؟

محبت یا فتنہ؟

کالج میں ایک لڑکے نے مجھ سے اظہار محبت کیا۔ اسے میں نے بہت سمجھایا لیکن اُسے ذرا اثر نہیں ہوا وہ کٹر ٹھرکی تھا یا پھر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کوشش جاری رکھو، ایک نہ ایک دن مان ہی جائے گی۔ میں اُس کی باتیں سن کر ہنستی تھی، وہ دل میں خوش ہوتا تھا کہ ہنسی تو پھنسی، پر اُسے یہ کہاں معلوم تھا میری ہنسی کا مطلب ہے کہ ہنسوں تو کبھی نہ پھنسوں۔ آج پھر وہ چلا آیا تھا اچھا تو تمھارا یہ دعوی ہے کہ تم محبت کرتے ہو مجھ سے، کیا ہے محبت؟ کچھ معلوم ہے اس کے بارے میں جس سے محبت ہو اس کے حقوق کا علم ہے تمھیں۔ یہ فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تم۔ اُس کے چہرے پے حیرانیوں کے سائے لہرانے لگے اُسے ان گہری باتوں کا علم ہی کہاں تھا وہ تو بس فلموں، ڈراموں کی آغوش میں جوان ہو کر ہزاروں نوجوانوں کی طرح اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا نام اپنی روح میں سمو چکا تھا

سچ میں جب سے تمھیں دیکھا ہے، میرا چین و سکون لٹ گیا ہے۔ ہر جگہ تم ہی دکھائی دیتی ہو،میں سچی محبت کرتا ہوں، پلیز مان جاؤ نا۔ کیا مان جاؤں؟ میں نے بے نیازی سے پوچھا تم بھی محبت کر لو مجھ سے، بہت خوش رکھوں گا تمھیں، ہر بات مانوں گا۔ اچھا میری ہر بات مانو گے۔ ہاں! ہر بات مانوں گا، تم نہیں جانتی تمھاری یہ عام سی آنکھیں میرے لیے کتنی خاص ہیں۔ لوگوں کو تو محبوبہ کی آنکھیں جھیل جیسی گہری لگتی ہیں، تم انھیں عام کہہ رہے ہو۔ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ بناوٹی باتیں آپ کو پسند نہیں، یہ سب جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، اس لیے سچ بتا رہا ہوں کہ چاہے یہ آنکھیں عام سی ہیں پر میرے لیے تو خاص ہیں۔ خاص کیوں ہیں؟ وجہ بتاؤ۔ کیونکہ ان سے ذہانت ٹپکتی ہے، جب آپ کے لب پھول برساتے ہیں تب یہ بھی پورا ساتھ دیتی ہیں، ایسا لگتا جیسے یہ بھی بول رہی ہوں۔۔ اوہ! تو محبت کی پہلی سیڑھی چڑھ ہی گئے ہو تم۔ اچھا بتاؤ، میری ہر بات مانو گے؟ ہاں ہر بات۔۔ تو پھر میری محبت اپنے دل سے نکال دو، اگر تم سچی محبت کرتے ہو مجھ سے تو میری یہ بات بھی مانو گے۔ اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا جسے اندر ہی اندر جذب کرنے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ٹھیک ہے آئندہ آپ نہیں دیکھو گی مجھے۔۔ یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چلا گیا۔ اس لیےکہ وہ مجھے یقین دلانا چاہتا تھا کہ واقعی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے

میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے دل میں سوچا کہ تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ کافی دن گزر گئے اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، کوئی کال نہ میسیج۔ پھر ایک دن وہ خود ہی میرے پاس چلا آیا۔ میں نے تمہاری محبت اپنے دل سے نکال دی ہے۔ اب تم میرے لیے ایک عام عورت ہو۔ لفظ عورت سن کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔ پتہ میری محبت کیوں نکلی ہے تمہارے دل سے؟ کیونکہ یہ محبت کبھی تھی ہی نہیں، محبت کبھی دل سے نہیں نکلتی بشرطیکہ سچی ہو۔ محبوب کے ساتھ حقیقی پل تو دور کی بات، کبھی خیالوں میں بھی اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہ ہو، اور نہ ہی وہ شدتوں کو جانتا ہو، پھر بھی دل سے محبت نہیں نکلتی۔ وہ شرمندہ سا ہوا۔ تمھیں کیا پتہ میں کتنا رویا ہوں؟ کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں؟ کتنا سوچا ہے؟ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ میں تمہاری بات مانوں گا، فریادی بن کر اب نہیں آؤں گا، اس لیے کہہ رہا ہوں محبت ختم ہو گئی شادی تو ویسے بھی تمہارے ساتھ نہیں ہو سکتی۔کیوں مجھے خارش ہے؟ میری رگ مزاح پھڑک اٹھی پھر ہنستے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان والے برادری سے باہر شادی نہیں کرتے۔ تو کیا تمھارے خاندان والے برادری سے باہر محبت کر لیتے ہیں؟ وہ چپ رہا، کیا جواب دیتا۔ خیر میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم بہت اچھی لڑکی ہو، اگر تم میری محبت میں گرفتار ہو جاتیں تو میری نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتیں، اور ہم لڑکے واقعی ایسی لڑکیوں سے محبت تو خوب کرتے ہیں پر شادی نہیں۔ اب کے حیران ہونے کی باری میری تھی۔میری پلاننگ کامیاب ہوئی تھی

وہ سچ مان رہا تھا۔ پر میں اس کی دوسری چال بھی سمجھ گئی۔ مرد کو بسس سیٹیسفیکشن چاہیے ہوتی ہے، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، جب اُسے یقین ہو گیا کہ میں واقعی ہاتھ آنے والی نہیں تو اُس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ وہ میرے ساتھ باتوں سے ذہنی تسکین چاہتا تھا، وقت اچھا گزارنا چاہتا تھا۔ اچھا دوستی کر کے کیا کریں گے؟ اچھے دوست کیسے ہوتے ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا۔ ہم اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کیا کریں گے، میں آپ کو گفٹ دیا کروں گا،اکھٹے شاپنگ پر جائیں گے، خوب گھومیں پھریں گے، کھابے اڑائیں گے، دکھ سکھ کے ساتھی، بالکل اچھے دوست بنیں گے ہمیشہ ساتھ رہنے والے۔ محبت کی جگہ اب دوستی کا لفظ آ گیا تھا مگر ترجیحات اور مقاصد و معاملات وہی تھے۔ ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے، ہاں کلاس فیلو ہو سکتے ہیں، جب سٹڈی ختم ہوئی رابطہ ختم۔ لیکن دوستی تو وہ ہوتی جو مستقل رہے۔ محبت تم نہیں کرتی، دوستی پر تمھیں اعتراض ہے۔ اچھا منہ بولی بہن بن جاؤ۔ میں اتنی اچھی لڑکی کھونا نہیں چاہتا۔ میں بھی اتنی اچھی لڑکی گنوانا نہیں چاہتی میں نے دل میں سوچا۔ یہ اس کا آخری حربہ تھا محبت اور دوستی میں دال نہ گلی تو منہ بولی بہن۔۔ اچھا بھائی بہن بن کر کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا دونوں ساتھ وقت گزارا کریں گے، اپنی ہر بات بتایا کریں گے، صبح صبح اکٹھے سیر کو جایا کریں گے، جاگنگ کریں گے، ٹینیس کھیلیں گے، بہت خوش رہیں گے دونوں یہ زندگی بورننگ نہیں لگتی تمھیں جو گزار رہی ہو، تھوڑا سا بدلو تم خود کو۔ دیکھنا کتنی خوشیاں ملتی ہیں، سچی بھائی بہن والا رشتہ ہوگا، کوئی نقصان نہیں اور اس دوران تم بہن لفظ کا سہارا لے کر مجھ سے اپنی ذہنی تسکین حاصل کرتے رہو، نظروں سے ہی میرے چہرے کو چھوتے رہو،ٹینس کھیلتے ہوئے میرے بدن کے اتار چڑھاؤ کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے رہو، تمھارا وقت رنگین ہو جائے گا میں خاموش نظروں سے کہہ رہی تھی، وہ کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا جواب کا منتظر تھا سوری میری خوشیاں، کھابے، سیر، جاگنگ، زندگی کے رنگ، ٹویسٹ، قہقہے، دکھ سکھ کسی غیر مرد کے محتاج نہیں۔ میں اپنے پاپا کے ساتھ سیر کو جاتی ہوں۔ باپ کی شفقت بھری گفتگو بہت لطف دیتی ہے

میری ماں میری سب سے اچھی دوست ہے، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہے۔ میری سکھیاں کھابے اُڑانے میں لاجواب ہیں،اُن کے ساتھ میرا وقت بہت اچھا گزرتا ہے۔ میرے ٹیچرز میرے رہنما ہیں۔ اپنے بھائی کے ساتھ میں گھنٹوں باتیں کرتی ہوں، معصوم شرارتیں دو منٹ میں ناراض دو منٹ میں راضی، ایک دوسرے کے بنا ذرا وقت نہیں گزرتا، اس کے پیچھے بائیک پر بیٹھے ہوئے میں آزاد فیل کرتی ہوں، اس کے ساتھ شاپنگ کا جواب نہیں۔ میں بہت خوش ہوں ایک نیا رشتہ بنا کر میں ان سب رشتوں کی مٹھاس نہیں کھونا چاہتی۔۔ پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟ خوبصورت خوابوں کے چکر میں عمر بھر کے لیے آنکھیں زخمی کروا لیتی ہیں اتنا کہہ کر میں چلی آئی۔ اس کا ری ایکشن کیسا تھا؟ میں نے دیکھا نہیں، لیکن اسے ایک سبق ضرور مل گیا تھا۔ میں نے گھر آ کر سجدہ شکر ادا کیا اور آنکھ اشکبار ہو گئی میرے اللہ تو مجھےایسے ہی ثابت قدم رکھنا، اس عہد کی پیداوار ہو کر بھی میرے قدم ذرا نہ ڈگمگائیں





سخاوت : حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور ایک سچا واقعہ: ضرور پڑھیں

سخاوت : حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور ایک سچا واقعہ: ضرور پڑھیں

سخاوت : حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور ایک سچا واقعہ: ضرور پڑھیں

یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کا واقعہ ہے کہ سارے شہر میں آگ لگ گئی۔ آگ کے بلند بالا شعلے گھروں، باغوں اور دکانوں کو سوکھی لکڑیوں کی طرح جلانے لگے۔ آگ اس قدر تیزی سے بھڑک رہی تھی کہ اس کے شعلے اونچے اونچے درختوں پر بنے ہوئے پرندوں کے گھونسلوں کو بھی جلا رہے تھے۔ آدھے شہر کو آگ کے شعلوں نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا اور آگ برابر بڑھتی جا رہی تھی، آگ بجھانے کی کوئی بھی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ پانی کی مشکیں ڈالنے سے آگ مزید بھڑک اٹھتی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ پانی آگ بجھا نہیں رہا بلکہ آگ کو تیز کر رہا ہے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے آگ کو اللہ تعالیٰ سے مدد پہنچ رہی ہو۔ اس کی لپٹیں بڑھتی جا رہی تھیں۔

جب لوگ آگ پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے تو گھبرائے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا، اے امیر المومنین! ہمارے گھروں، باغوں اور دکانوں کو لگی ہوئی آگ پانی سے نہیں بجھ رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، یہ آگ اللہ تعالیٰ کے قہر کی نشانیوں میں سے ہے یہ آگ تمہارے بخل کی آگ کا شعلہ ہے اور تمہارے بخل کے گناہ کی سزا ہے۔ تم آگ پر پانی ڈالنا چھوڑو اور غریبوں اور حاجت مندوں میں روٹیاں تقسیم کرو۔ آئندہ کے لیے بخل سے توبہ کرو۔

لوگوں نے یہ سنا تو کہنے لگے، اے امیر المومنین! غریبوں اور مسافروں کے لیے ہم نے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، تمہاری مہمان نوازی بطور عادت ہے بطور عبادت نہیں ہے۔ تم اپنی شان و شوکت اور خود نمائی کے لیے یہ کام کرتے ہو، خوف خدا اور نیاز مندی کی نیت سے نہیں کرتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات سن کر ان لوگوں نے دل کھول کر سخاوت کی اور اپنی نیتوں کو درست کر لیا۔ آئندہ کے لیے بخل اور ریاکاری سے توبہ کی۔ چناچہ شہر والے سخاوت کرنے میں مصروف تھے اور اسی وقت آگ کے شعلے آہستہ آہستہ سرد ہوتے جا رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں شہر میں لگی ہوئی آگ سرد ہو گئی۔

اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ جب کوئی برائی اجتماعی طور پر بہت زیادہ بڑھ جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہہ کے طور پر کوئی نہ کوئی آفت نازل ہو جاتی ہے۔ جو صرف اور صرف آللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے ہی ٹلتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ سخاوت کا درجہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بلند ہے۔ صدقہ و خیرات دیتے رہنے سے انسان بے شمار آفات و مصائب سے بچا رہتا ہے۔

(حکایاتِ رومی سے ماخذ)





Wednesday, January 23, 2019

لطیفہ بھی حقیقت بھی : ذہانت اور کاروبار چولی دامن کا ساتھ

لطیفہ بھی حقیقت بھی : ذہانت اور کاروبار چولی دامن کا ساتھ

لطیفہ بھی حقیقت بھی : ذہانت اور کاروبار چولی دامن کا ساتھ

ایک شیشے سے بھرا ہوا ٹرک، دوسرے ٹرک سے ٹکرا گیا، بے چارے کا سارا شیشہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا۔ قصور وار یعنی دوسرا ڈرائیور حسبِ دستور اپنا ٹرک چھوڑ کے بھاگ گیا، اور جس کا ہزاروں مالیت کا شیشہ ٹوٹ گیا، وہ بیچارا فٹ پاتھ پر سر پکڑ کے بیٹھ گیا کہ
 "اتنے بڑے نقصان کو کیسے پورا کروں گا، اور مالک کو کیا جواب دوں گا؟"
قریب سے گزرتے لوگ اس کے اردگرد کھڑے ہو گئے اور اُسے ہمدردی اور تسلی دینے لگے، اتنے میں ایک بزرگ آگے بڑھے اور سو روپے اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہنے لگے "بیٹا! اس سے تمہارا نقصان تو پورا نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی رکھ لو۔!"
بزرگ کی دیکھا دیکھی باقی لوگوں نے بھی اس کے ہاتھ پر سو پچاس کے نوٹ رکھنے شروع کر دئیے، اور کچھ ہی گھنٹوں میں شیشے کی قیمت پوری ہو گئی۔ اس نے وہاں پر موجود سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا تو ایک شخص بولا "بھئی! شکریہ ادا کرنا ہے تو اُس بزرگ کا ادا کرو، جنہوں نے اِس نیک کام کا آغاز کیا اور آہستہ آہستہ تمہارا نقصان پورا ہوگیا۔!"
ڈرائیور بولا "آپ نے ٹھیک کہا، ان کا شکریہ تو میں فیکٹری پہنچ کر ہی ادا کروں گا، کیونکہ وہی تو میرے مالک ہیں۔۔!





Wednesday, January 16, 2019

ایک بہت ہی سبق آموز کہائی۔ اسے ضرور پڑھیں اور پڑھ کر شیئر کریں

ایک بہت ہی سبق آموز کہائی۔ اسے ضرور پڑھیں اور پڑھ کر شیئر کریں

استاد نے کلاس میں داخل ہوتے ہی اپنے سب اسٹوڈنٹس سے پوچھا....
آپ سب کی نظروں میں کونسی چیز انسان کو خوبصورت بناتی ہے؟
سب شاگردوں نے مختلف جواب دیئے
کسی نے کہا : خوبصورت آنکھیں
کسی نے کہا : خوبصورت چہرہ
کسی نے کہا : بڑا قد
کسی نے کہا : سفید رنگ
سب کے جواب سن کے استاد نے بیگ سے دو گلاس نکالے
ایک شیشے کا نہایت خوبصورت اور نفیس گلاس
ایک مٹی کا گلاس
استاد نے دونوں گلاسوں میں کوئی الگ الگ چیزیں ڈال دی اور کہا
میں نے شیشے کے گلاس میں زہر ڈالا ہے
اور مٹی کے گلاس پینے کا پانی
آپ کونسا گلاس پینا چاہتے ہیں؟
سب شاگردوں نے یک زبان ہو کر کہا:مٹی کا گلاس
استاد نے کہا
جب آپکو ان گلاسوں کی اندر کی حقیقت معلوم ہوئی تو پھر آپکی نظروں میں ان کی ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہی
اسی طرح
ہمیں بھی انسان کی اندر سے حقیقت معلوم کرنی چاہیئے
کیونکہ بہت سے خوبصورت لباس ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتے
بہت سے خوبصورت چہرے اور جسم ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر دل حیوانات سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔






Tuesday, January 1, 2019

This man feeds hungry street kids in a restaurant, when he gets the bill he has been much surprised – must read

This man feeds hungry street kids in a restaurant, when he gets the bill he has been much surprised – must read

بھوکے بچوں کو کھانا کھلانے والے شخص کو جب ہوٹل نے بل دیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

اخیلش کمار ، دبئی میں ایک پاور سلوشن انڈسٹریز میں سینئر ٹیکنیکل سیلز انجینئر  کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جب کمار اپنے گھر جاتے ہیں ایک ہوٹل میں کھانا کھانے پہنچا تو یہ واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا۔  

وہ ڈنر کے لئے  ہوٹل سبرینا میں  گئے ، جوکہ سی نارایا نان کا ہے اور کیرالہ کے مالاپ پورم میں واقع ہے۔  ہوٹل پہنچ کر اس نے کھان آرڈر کیا جوں ہی کھان اس کے سامنے میز پر رکھا گیا تو اس نے دیکھا کہ شیشے کی کھڑکی کے باہر دو انتہائی غریب بچے حسرت کی نگاہ سے اس کھانے کو تک رہے ہیں کہ گویا ان کا بھی ایسا ہی کھانا کھانے کو دل چاہتا ہو۔  کمار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے کھانا نہیں کھایا گیا اور اس نے بچوں کو اندر بلایا اور پوچھا کیا کھائیں گے بچوں نے ٹیبل پر رکھے کھانے کی جانب اشارہ کرکے کہا یہی کھائیں گے۔ کما ر نے بچوں کے لئے بھی کھانا آرڈر  کیا اور جب تک کھانا نہیں آیا اس نے بھی اپنا کھانا نہیں کھایا۔ جب بچوں کا کھانا آیا تو بچوں کے ساتھ کھانا کھایا۔

 جب ہوٹل نے کمار کو بل دیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بل تھاہی ایسا کہ آپ بھی جانیں گے تو جذباتی ہو جائیں گے۔بھارتی ویب سائٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس واقعے میں یہ ہے کہ ایک شخص ملپ پورم کے ایک ریستوران میں کھانا کھانے گیا۔ جب کھانا آ گیا تو اس کی پلیٹ کو باہر سے دو بچے حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اس نے اشارہ کر کے انہیں اندر

بلا لیا۔بچوں سے اس شخص نے پوچھا کہ کیا کھاو گے تو بچوں نے اس پلیٹ میں لگی چیزوں کو کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ وہ بچے بھائی بہن تھے اور پاس ہی کسی جھگی میں رہتے تھے۔اس شخص نے دونوں کے لئے کھانے کا آرڈر دیا اور ان کے کھانے تک اس نے خود کچھ نہیں کھایا۔ دونوں بچے کھا کر اور ہاتھ دھو جب چلے گئے تو اس نے اپنا کھانا کھایا اور جب کھانے کا بل مانگا تو بل دیکھ کر وہ رو پڑاکیونکہ بل پر اماﺅنٹ نہیں لکھا تھا صرف ایک تبصرہ تھا "ہمارے پاس ایسی کوئی مشین نہیں جو انسانیت کا بل بنا سکے "۔







Friday, May 25, 2018

حضور ﷺ کا نور مبارک : حضور ﷺ کے کمرے میں روشنی ہی روشنی تھی، حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے کیا فرماتی ہیں: ضرور پڑھیں

حضور ﷺ کا نور مبارک : حضور ﷺ کے کمرے میں روشنی ہی روشنی تھی، حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے کیا فرماتی ہیں: ضرور پڑھیں

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں جب مکہ معظمہ میں پہنچی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر آئی تو میں نے دیکھا کہ جس کمرہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے وہ کمرہ سارا چمک رہا تھا میں نے حضرت آمنہ رضی عنہا سے پوچھا کیا آپؓ نے اس کمرہ میں بہت سے چراغ جلا رکھے ہیں تو حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا نہیں بلکہ یہ ساری روشنی میرے لخت جگر پیارے بچہ کے چہرے کی ہے حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اندر گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ سیدھے لیٹے ہوۓ سو رہے ہیں اور اپنی مبارک ننھی انگلیاں چوس رہے ہیں 

میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن جمال دیکھا تو فریفتہ ہو گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میرے بال بال میں رچ گئی پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرانور مبارک کے پاس بیٹھ گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چشمان مبارک کھول دیں اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے اللہ اکبر میں نے دیکھا کہ اس نور بھرے منہ سے ایک ایسا نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا پھر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر بہت پیار کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر واپس چلنے لگی تو حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے زاد راہ کے لیے کچھ دینا چاہا تو میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پا لینے کے بعد اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں

 حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب میں اس نعمت عظمی کو گود میں لے کر باہر نکلی تو مجھے ہر چیز سے مبارک باد کی آوازیں آنے لگیں کہ اے حلیمہ رضی للہ عنہا رضاعت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجھے مبارک ہو پھر جب میں اپنی سواری پر بیٹھی تو میری کمزور سواری میں بجلی جیسی طاقت پیدا ہو گئی کہ وہ بڑی بڑی توانا اونٹنیوں کو پیچھے چھوڑنے لگی سب حیران رہ گۓ کہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کی سواری میں یک دم یہ طاقت کیسے آ گئی؟ تو سواری خود بولی میری پشت پر اولین و آخرین کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہیں انہیؐ کی برکت سے میری کمزوری جاتی رہی اور میرا حال اچھا ہو گیا۔

جامع المعجزات ص 86




Thursday, March 15, 2018

پڑھنا ضروری ہے : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا ... ایمان تروتازہ کرنے والا مضمون ضرور پڑھیں

پڑھنا ضروری ہے : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا ... ایمان تروتازہ کرنے والا مضمون ضرور پڑھیں

پڑھنا ضروری ہے : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا ... ایمان تروتازہ کرنے والا مضمون ضرور پڑھیں 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا تھا۔ ایک مزدود بلڈنگ کے نیچے اپنے کام میں مصروف تھا۔ انجینئر کو مزدور سے کام تھا۔ بہت زیادہ اس کو آواز دی ، لیکن اس نے نہیں سنی۔

انجینئر نے جیب سے 10 ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا تاکہ مزدور اوپر کی طرف متوجہ ہو جائے۔ لیکن مزدور نے نوٹ اٹھا کر جیب میں ڈالا اور اوپر دیکھے بغیر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔

دوسری دفعہ انجینئر نے 50 ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا کہ شاید اب کی بار مزدور اوپر کی طرف متوجہ ہو جائے۔ مزدور نے پھر سے اوپر دیکھے بغیر نوٹ جیب میں ڈال دیا۔

اب تیسری دفعہ انجینئر نے ایک چھوٹی سی کنکری اٹھائی اور اسے نیچے پھینک دیا۔ کنکر کا مزدور کے سر پر لگنا تھا اس نے فورا اوپر کی طرف نگاہ کی۔ انجینئر نے اسے اپنےکام کے بارے بتایا۔

یہ در حقیقت ہماری زندگی کی کہانی ہے۔ ہمارا مہربان خدا ہمیشہ ہم پر نعمتوں کی بارش کرتا ہے کہ شاید ہم سر اٹھا کر اس کا شکریہ ادا کریں۔ اس کی باتیں سنیں۔ لیکن ہم اس طرح اس کی بات نہیں سنتے۔

لیکن جونہی کوئی چھوٹی سی مشکل، پریشانی یا مصیبت ہماری زندگی میں آتی ہے ہم فورا اس ذات کی طرف متوجہ ہوتےہیں۔ ہمیں صرف مشکلا ت میں خدا یاد آتا ہے۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہر وقت ، جب بھی پروردگار کی طرفسے کوئی نعمت ہم تک پہنچے فورا اس کا شکریہ ادا کریں۔ شکریہ ادا کرنے اور خدا کی بات سننے کے لیے سر پر پتھر لگنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

کاپی




Saturday, March 10, 2018

پڑھ کر اگر شیئر نہ کیا تو آپ سے بڑا کنجوس نہیں

پڑھ کر اگر شیئر نہ کیا تو آپ سے بڑا کنجوس نہیں

پڑھ کر اگر شیئر نہ کیا تو آپ سے بڑا کنجوس نہیں 

 قبرستان میں ایک قبر پر اپنا بستہ پھینک کر ایک بچہ قبر کے پاس بیٹھ کر روتے ہوئے شکایت کرنے لگا اٹھو نا ابّو، ٹیچر نے کہا ہے کہ فیس لے کر آنا نہیں تو اپنے ابّو کو لے کر آنا !!



Monday, February 26, 2018

حکایات شیخ سعدی ؒ  -  عقل مند چرواہا، کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک شکار کھیلتے ہوئے….

حکایات شیخ سعدی ؒ - عقل مند چرواہا، کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک شکار کھیلتے ہوئے….

حکایات شیخ سعدی ؒ  -  عقل مند چرواہا، کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک شکار کھیلتے ہوئے….

کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک دن شکار کھیلتے ہوئے چراگاہ پہنچ گیا جہاں اس کے گھوڑے چرا کرتے تھے۔ 
بادشاہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر سے بہت آگے نکل آیا۔
شاہی گھوڑوں کے چرواہے نے بادشاہ کی صورت دیکھی تو قدم بوسی کے لیے جلدی سے آگے بڑھا۔ بادشاہ نے اسے اپنا کوئی دشمن سمجھا اور فوراً ترکش سے تیر کھینچا۔ بادشاہ جب کمان میں جوڑ کر تیر چلانے لگا تو چرواہا چلایا۔
’’عالم پناہ! میں دشمن نہیں ۔ شاہی گھوڑوں کی نگرانی کرنے والا گلہ بان ہوں۔ شاہی چراگاہ کاچرواہا ہوں۔‘‘
بادشاہ نے کمان سے ہاتھ کھینچ لیا اور تیر ترکش میں رکھتے ہوئے کہا:
’’ تُو خوش قسمت ہے کہ بچ گیا ہے۔ ہم نے تو کمان کاچلہ چڑھا لیا تھا۔ اگر تو ایک پل اور خاموش رہتا تو تیرا کام تمام ہوچکا ہوتا۔ خاک اور خون میں تیری لاش تڑپ رہی ہوتی۔‘‘

چرواہے نے ادب سے جھکتے ہوئے عرض کیا:
’’عالم پناہ! اچنبھے کی بات ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے غلام کو نہ پہچاناجب کہ میں کئی بار قدم بوسی کے لیے شاہی دربار میں حاضر ہوچکا ہوں۔ میں ایک معمولی چرواہا ہوں مگر اپنے گلے کے ایک ایک گھوڑے کو پہچانتا ہوں۔ حضورِ والا! جس گھوڑے کو طلب فرمائیں لاکھ گھوڑوں سے نکال لاؤں۔ بادشاہ کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ہر بندے کو جانتا پہچانتا ہو۔‘‘

تلقین:
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ حکمران اور رعایا،رہنما اور کارکن کے درمیان گہرا رابطہ ہونا چاہئے۔کسی بھی ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری سے آشنا ہونا چاہیے۔ اگر راعی رعایا کو نہ جانے پہچانے گا تو رعایا بھی اسے نہیں جانے پہچانے گی۔



حکایات شیخ سعدی ؒ  - جرم کی سزا، ایران کے مشہور بادشاہ عمرولیث کا ایک غلام موقع پاکر…

حکایات شیخ سعدی ؒ - جرم کی سزا، ایران کے مشہور بادشاہ عمرولیث کا ایک غلام موقع پاکر…

حکایات شیخ سعدی ؒ  - جرم کی سزا، ایران کے مشہور بادشاہ عمرولیث کا ایک غلام موقع پاکر

ایران کے مشہور بادشاہ عمر ولیث کا ایک غلام موقع پاکر بھاگ گیا لیکن فوراً ہی گرفتار کرکے واپس لایا گیا۔ اس زمانے میں یہ دستور تھا کہ بھگوڑے غلام کو پکڑے جانے کے بعد قتل کردیا جاتا تھا۔ بادشاہ نے اسے قتل کردینے کا حکم دیا تو بندہ مسکین نے اپنا سر عمر ولیث کے آگے زمین پر رکھ دیا اور کہا: ’’عالم پناہ! میں نے حضور کا نمک کھایا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ قیامت کے دن خدا کی عدالت میں میرے قتل کے جرم میں ملزم بنے کھڑے ہوں۔ مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر آپ نے غلام کو قتل ہی کرنا ہے تو پہلے اس کا شرعی جواز پیدا کرلیں۔‘‘

’’وہ شرعی جواز کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ بادشاہ نے پوچھا۔
اُس غلام کی بادشاہ کے وزیر سے پہلے لاگ ڈانٹ چلی آتی تھی لہٰذا وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بولا: ’’میں بادشاہ کے وزیر کو قتل کردوں پھر اس کے قصاص میں آپ مجھ کو قتل کروادیں۔ اس طرح میرا خون آپ کی گردن پر نہ ہوگا۔‘‘

بادشاہ یہ سن کر بے اختیار ہنسنے لگا اور وزیر سے پوچھا: ’’اب کیا مصلحت دیکھتے ہو تم؟‘‘

وزیر نے عرض کیا: ’’بادشاہ سلامت! واسطے خدا کے اس شوخ چشم کو آزاد کریں ورنہ یہ مجھے کسی بلا میں گرفتار کرادے گا۔‘‘
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں دو باتیں سمجھائی ہیں، اول تو جرأت اور ہوش مندی کے فائدے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انتہائی خوف کی حالت میں بھی حواس بحال رہیں تو مصیبت سر سے ٹل جاتی ہے۔ دوم یہ کہ دشمن ہر لحاظ سے بُری شے ہے۔ حتیٰ کے ادنیٰ ترین غلام کو بھی دشمن نہ بناؤ ورنہ وقت آنے پر تمھاری جان لے کر رہے گا۔




Friday, February 23, 2018

سبق آموز کہانیاں  : امیر خسروؒ کا بیٹی کو عصمت و عفت کا درس

سبق آموز کہانیاں : امیر خسروؒ کا بیٹی کو عصمت و عفت کا درس


سبق آموز کہانیاں  : امیر خسروؒ کا بیٹی کو عصمت و عفت کا درس


یہ مکتوب اشعار کی شکل میں ہے جن کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

"اے بیٹی تیرا وجود میرے دل کا چشم و چراغ ہے اور میرے دل کے باغ میں کوئی اور میوہ تجھ سے بہتر نہیں۔ اگرچہ تیرے بھائی بھی تیری طرح خوش بخت ہیں مگر جہاں تک میری نظر کا تعلق ہے وہ تجھ سے بہتر نہیں۔

باغبان جب باغ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو اس کے نزدیک سرو کی بھی وہی قدر ہوتی ہے جو سوسن کی ہوتی ہے۔ تیرا نصیب جس نے تجھے نیک فال بتایا، اسی نے تیرا نام مستورہ میمون (نیک بخت و عصمت مآب خاتون) رکھ دیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے تیرے انداز طبیعت کو پہلے سے دیکھا تو میری شرم و حیا اور پاکدامنی کو زیادہ سے زیادہ پایا۔ مجھے امید ہے کہ اس خوش بختی و نیک فالی کے باعث تیرے نام کو تیرے کردار سے چار چاند لگ جائیں گے۔

لیکن تجھے بھی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے نیک انجام سے اپنے اس نام کی بنیاد کو صحیح ثابت کرے۔ عمر کے اعتبار سے تیرا یہ ساتواں سال ہے جب تو سترہ سال کی ہوجائے گی تو ان باتوں کو سمجھ سکے گی۔

جب تو اس عمر کو پہنچے گی تو میری ان نصیحتوں پر عمل کرکے اپنی نیک نامی سے مجھے بھی سر بلند کرے گی۔ اس طرح زندگی بسر کر کہ تیرے شاندار کارناموں سے تیرے قرابت داروں کا نام بھی روشن ہو۔

جس موتی کی طرف بزرگ توجہ مبذول کرتے ہیں، اس کے طفیل میں اس کے والدین یعنی سیپی کو بھی یاد کر لیتے ہیں۔ بہتر ہے کہ اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لیے تو اپنی نقل و حرکت کو اپنے دامن کی حدود میں منحصر کر دے۔

تاکہ تیرا دامن شکوہ و وقار بھی جگہ سے اسی طرح نہ ہلے جس طرح دامن کوہ پتھر سے جدا نہیں ہوتا۔ اگر تیرا وقار ایک بھاری پتھر کی طرح تیرے دامن کا لنگر ہے تو یقیناً تیرا دامن تیری عصمت کا محافظ ہے۔

وہ عورت جس کا گھر سے نکلنا آسان ہو جاتا ہے وہ گھر کے اندر سب سے خوف زدہ رہتی ہے۔ جو عورت گلستان و لالہ زار میں ٹہلتی پھرتی ہے وہ اپنا گریبان گل کی نذر کر دیتی ہے اور دامن خار کو بخش دیتی ہے۔

جب اس کی نظر گل سرخ پر پڑتی ہے تو پھول کی ہنسی یہ تقاضا کرتی ہے کہ شراب پینی چاہیے۔ تو اپنے چہرہ سے نمائش باطل کا غازہ دھو ڈال اور یہ کوشش کر کہ تو غازہ ہی کے بغیر سرخرو ہو جائے۔

تاکہ صدق و صواب کی شہرت عامہ، تیری اس سرخروہی کی وجہ سے، تجھے حمیرا (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لقب کا مخفف) کا خطاب عطا کر دے۔ جو عورت راحت و آرام سے بے پروا رہی اس کا ویران گھر آباد ہو گیا۔

جو عورت لذت شراب کی رو میں بہہ کر پستی کے اندر چلی گئی، اس کا گھر خرابات بن گیا اور وہ خود بھی خراب ہوئی۔ جب اس کی شریف ذات شراب سے آلودہ ہو گئی تو درودیوار سے دشمن اندر گھس آئے گا۔

اگر بند کمرے میں بھی شراب کا دور چلے تو اس کی بو پڑوسیوں کو یہ پیغام پہنچا دیتی ہے کہ یہاں شراب پی جا رہی ہے۔ کسی عورت کا ایک چھوٹا سا آنچل جو وہ اپنی نشت گاہ میں بیٹھ کر بطور نقاب ڈال دیتی ہے ان فقہیوں کی پوری دو پگڑیوں سے بہتر ہے جو فسق و فجور میں مست ہیں۔

جلوہ گری یہ نہیں کہ ایک پری چہرہ حسینہ زن و شوہر کے تعلقات میں جلوہ گر ہو۔ جلوہ گری اس عورت کا حصہ ہے جو شرم و حیا اور خوف خدا کے باعث لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہونے کے باوجود اپنے اعلیٰ کردار کے لیے مشہور ہے۔

تو سورج کی طرح اپنے آپ کو اجالوں میں چھپا لے اور شرم و حیا کو رخسار کا پردہ بنا۔ جس نے حیا کا نقاب اتار کر پھینک دیا اس سے کوئی امید نہ رکھو کیونکہ اس کی عزت و آبرو پر پانی پھر گیا۔

جو مرد اس کی عریانی کے لیے کوشش کرتا ہے، وہ اس کو برہنہ کرنے کے بعد پھر اس کی پردہ پوشی کیا کرے گا؟ وہ آوارہ گرد جو بغیر کچھ کیے ہوئے ڈینگیں مارتا ہے، جب کوئی گناہ کر لے گا تو اسے کس طرح ظاہر نہ کرے گا۔

برے لوگوں کی یہ رسم ہے کہ جب کوئی برا کام کرتے ہیں تو اس کی شہرت کو اپنے لیے بڑائی سمجھتے ہیں۔ ہر بننے ٹھننے والی عورت جو نمائش حسن کے درپے ہوتی ہے، دس پردوں کے اندر بھی اپنی رسوائی کا سامان مہیا کر لیتی ہے۔

جب کوئی بری عورت تباہی کی طرف رخ ملتی ہے تو اس کی صورت اس کے فسق و فجور کی گواہی دینے لگتی ہے۔ عورت کے لیے فراخ حوصلگی و سخاوت زیب نہیں دیتی، البتہ اگر مرد میں یہ اوصاف نہ ہوں تو وہ عورت بن جاتا ہے۔

لیکن اتنی بد مزاج بھی نہ بن کہ تیری خادمائیں تجھ سے بھاگ کر باہر گلی میں چلی جائیں۔ ایسا گھر جس میں آرام و آسائش کم میسر ہو اگر اپنے ساز و سامان کے اعتبار سے بہشت بھی ہو تو جہنم کے مترادف ہو جاتا ہے۔

اس شوہر کو جس کی بیوی دراز ہو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک وحشی کتے کے ساتھ بند کر دیا گیا ہے۔ جو شوہر دولت و ثروت رکھتا ہے، اس کی بیوی خود گھر کے اندر سونے میں پیلی ہوتی ہے۔

لیکن جب کسی شوہر کے پاس پونجی نہ ہو تو اس کی بیوی کے لیے قناعت سے بہتر کوئی زیور نہیں ہے۔ نفس، جو انسان کے قالب میں سرایت کیے ہوئے ہے، انسان دشمن ہونے کے باوجود اس کے تن بدن میں موجود ہے۔

یہ نفس نہیں چاہتا کہ جس دل کو دنیا کا عیش حاصل ہے، وہ عقبیٰ کی فکر میں پڑ جائے اس لیے جہاں تک ہو سکے اس نفس کی رسی دراز نہ ہونے دے۔ یہ ساری مصیبت جو تن پر آتی ہے اس نظر کی بدولت آتی ہے جو توبہ کو توڑ کر گناہ پر مائل کرتی ہے۔

جس طرح موتی سیپ کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے اسی طرح اپنی آنکھ کو شرم و حیا میں چھپا لے تاکہ تو تیر بلا کا نشانہ نہ بنے۔ جب آنکھ مائل ہوتی ہے تو دل قابو سے باہر ہو جاتا ہے اور نظر کا ہاتھ دل کے ڈورے کھینچنے لگتا ہے۔

وہ عورت، جسے حق تعالیٰ نے خودداری کا جذبہ دیا ہے، جان دے دیتی ہے مگر تن کو فسق و فجور میں مبتلا نہیں ہونے دیتی۔

ایک بادشاہ اپنے اونچے محل کی چھت پر کھڑا ہوا، ادھر ادھر نظر ڈال رہا تھا۔ اس نے محل کے دیوار کے پیچھے ایک حسینہ کو دیکھا جو اپنے حسن سے اس زمانہ کے تمام حسینوں کو مات کرتی تھی۔

جیسے ہی بادشاہ نے اسے دیکھا، بے چین ہو گیا اور اس کے صبر و قرار کی بنیاد اپنی جگہ سے مل گئی۔ فوراً ایک پیغامبر کو اس کے پاس بھیجا تاکہ اسے بلا کر اس پر دست درازی کرے۔

اس حسینہ نے اپنی پاک دامنی کی بنا پر اپنے وقار کو عصمت کا پردہ بنا لیا اور چھپ گئی۔ پہلے تو ایک عرصہ تک در پردہ گفتگو ہوتی رہی مگر چاہنے والے کی مقصد براری نہ ہوئی۔

جب بادشاہ کا دل ہوس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو اس نے کھل کر بات کی اور یہ خوف دلایا کہ میں جان سے مار ڈالوں گا۔ خادم کو حکم دیا کہ اسے اپنے گھر سے باہر گھسیٹ کر، بالوں سے کھینچتا ہوا، بادشاہ کی خواب گاہ میں لے آئے۔

(جب وہ حسینہ آئی تو) اس نے کہا کہ " اے فرمانروائے وقت، بادشاہوں کو فقیروں سے کیا واسطہ ہے۔ میرے جسم میں ایسی کون سی چیز ہے جو تیری آنکھوں کو بھا گئی ہے اور جسے تونے اپنے جذبہ دل سے مجبور ہو کر عزیز بنا لیا ہے۔

بادشاہ نے اپنی آرزو مند آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔" تیری دونوں آنکھوں نے مجھ سے میری نیند چھین لی ہے۔"

وہ خوش جمال حسینہ اندر کی طرف ایک کونے میں چلی گئی اور انگلی سے اپنی دونوں آنکھیں باہر نکال لیں۔ اور خادم کو وہ دونوں آنکھیں دے کر کہا۔" جا انہیں لے جا اور امیر سے کہہ دے کہ میری جو چیز تجھے عزیز تھی اسے تھام۔"

خادم نے جو یہ کیفیت بادشاہ پر ظاہر کی تو اس کے دل میں آگ لگ گئی اور اس کی سوزش سے دھواں بھر گیا۔ اپنے کرتوت پر شرمندہ ہو کر بیٹھ رہا اور اس حسینہ کا پاک دامن اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔

اے بیٹی تو خسرو کی آنکھ کا نور ہے تو بھی اسی طرح اپنی عصمت پر صابر و مستقیم رہ۔




Tuesday, December 12, 2017

یہ تحریر پڑھ کر رونگھٹے نہ کھڑے ہوں تو۔ حاتم طائی کی بیٹی قید ہوکر بارگاہ رسالت ﷺ میں آئی اور تھوڑا سا سر پر دو پٹہ … تفصیل پڑھیں لنک پر

یہ تحریر پڑھ کر رونگھٹے نہ کھڑے ہوں تو۔ حاتم طائی کی بیٹی قید ہوکر بارگاہ رسالت ﷺ میں آئی اور تھوڑا سا سر پر دو پٹہ … تفصیل پڑھیں لنک پر

ﺣﺎﺗﻢ طائی ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻗﯿﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺳﺮ ﺳﮯ ﺩﻭﭘﭩﮧ ..... ﺳﺮ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﻝ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ ﻧﻈﺮ ﺍ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ...
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻋﻤﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﮯ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺩﻭ .
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎفر ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ .

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻋﻤﺮ ﺑﯿﭩﯽ، ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯽ .
ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺩﺭ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺭﮨﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ..

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﯽ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﮎ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ .

ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﻃﻌﯽ ﺑﻦ ﺣﺎﺗﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﯾﺎ ﺟﺐ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻏﺼﮧ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ ﭘﮩﻼ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮩﻦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺒﯽ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟
 ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻏﻠﻂ ﻟﻔﻆ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﻋﺮﺑﯽ ﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﮯ .

ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ . ؟

 ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﭨﺎﺋﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ .

ﻏﺼﮧ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺒﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ .

ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﮧ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﺁﺅ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﮐﺮ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺭﯾﮟ ﻧﮧ ﻟﻮﭦ ﻟﯿﮟ؟

 ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌتا ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺒﯽ ﺗﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻋﺰﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﻗﺖ ﭘﺎﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﻞ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ کے ﻧﺎﻧﺎ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭ ﮔﮯ .

ﻭﮦ ﮐﻤﻠﯽ ﻭﺍﻻ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﺎ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮨﻮ .

ﻭﮦ ﮐﺎﻟﯽ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﺳﻮﮨﻨﺎ ﻧﺒﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺩﻭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﻮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻡ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﻦ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺴﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﮔﻨﺪﯼ ﻟﻮﻣﮍﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ .

ﺟﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﮨﻮﮞ۔۔۔۔ ذرا سوچیئے

کاپی پیسٹ


Thursday, November 23, 2017

میرے فیس کے پیسے ؟  طالبہ زور زور سے رونے لگی۔ ٹیچر بھاگم بھاگ اس کے پاس پہنچی تو.. آگے پڑھیں

میرے فیس کے پیسے ؟ طالبہ زور زور سے رونے لگی۔ ٹیچر بھاگم بھاگ اس کے پاس پہنچی تو.. آگے پڑھیں

وہ لڑکی اپنے بیگ کی تلاشی نہیں دے رہی تھی ایک رلا دینے والا واقعہ

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو۔ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا‘۔

کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں ”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو ”نہیں ۔۔کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی ۔۔۔ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگ گئی‘۔

ٹیچر پھر آگے بڑھی ابھی اس نے طالبہ کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ۔۔۔رک جاو ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔انہوں نے طالبہ اورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔پرنسپل نے پوچھا کیا معاملہ ہے ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔”نہیں اس نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔ کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔پرنسپل متانت سے بولیں تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟ کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔۔ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔ اس میں کیا راز ہے ؟ وہ سوچنے لگی اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔۔۔پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔

مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔ ۔۔سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ۔۔ وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔۔۔۔ کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں۔۔۔دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھالیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا ندیدوںکی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی‘۔جاری ہے۔وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میںنے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں۔۔۔۔یہ چھوٹی سی سچی کہانی کسی بھی درد ِ دل رکھنے والے کو جنجھوڑ کر رکھ سکتی ہے ہم غور کریں تھوڑی سی توجہ دیں تو ہمارے اردگرد بہت سی ایسی کہی ان کہی کہانیوں کے کردار بکھرے پڑے ہیں اس سفید پوشوں کیلئے کوئی بھی جمہوری حکومت کچھ نہیں کرتی ایسے پسے، کچلے سسکتے اور بلکتے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان میں کوئی ڈکٹیٹر راج کررہا ہے یا جمہوریت کا بول بالا ہے۔نہ جانے کتنے لاکھوں اورکروڑوں عوام کا ایک ہی مسئلہ ہے دو وقت کی روٹی جو بلک بلک کر تھک گئے ہیں اے پاکستان کے حکمرانوں………خدا کے واسطے رحم کرو۔۔۔غریبوں سے ہمدردی کرو ۔۔۔ان کو حکومت یا شہرت نہیں دو وقت کی روٹی چاہیے حکمران غربت کے خاتمہ کیلئے اناج سستا کر دیں تو نہ جانے کتنے لوگ خودکشی کرنے سے بچ جائیں۔۔۔یقینا ہم میں سے کسی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں اور کتنے لوگ بھوک ،افلاس کے باعث دانے دانے کیلئے محتاج ہیں -رزق کی حرمت اور بھوکے ہم وطنوں کا احساس کرنا ہوگا‘۔

حکمران کچھ نہیں کرتے نہ کریں ہم ایک دوسرے کا خیال کریں ایک دوسرے کے دل میں احساس اجاگر کریں یہی اخوت کا تقاضا ہے اسی طریقے سے ہم ایک دوسرے میں خوشیاں بانٹ سکتے ہیں آزمائش شرط ہے۔



بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی مسجد میں چوری کرنے والے کردی، کیوں ؟ جاننے کے لئے پڑھیں

بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی مسجد میں چوری کرنے والے کردی، کیوں ؟ جاننے کے لئے پڑھیں

بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی مسجد میں چوری کرنے والے کردی، کیوں ؟ جاننے کے لئے پڑھیں 

عربی حکایت ہے کہ ایک بادشاہ اپنی جواں سالہ بیٹی کی شادی کے لیے بہت فکر مند تھا۔ وہ برسوں سے......


Thursday, October 12, 2017

’’اگر علیؓ یہاں موجود نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوچکا تھا‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ کب اور کیونکر کہا تھا

’’اگر علیؓ یہاں موجود نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوچکا تھا‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ کب اور کیونکر کہا تھا



حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دو اثر انگیز واقعات

حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا میری شادی کو آج چھٹا مہینہ ہے، لیکن اسی مہینے میری عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا عورت کو سنگسار کردو۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ کہا یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: حملہ و فصالہ ثلثون شہرا: بچے کا حمل اور اس کے دودھ پینے کا زمانہ تیس مہینے ہوتا ہے، ممکن ہے دو سال دودھ پینے کا زمانہ ہو اور چھ مہینے حمل کا۔
امیر المومنین عمرؓ نے یہ سن کر اپنا حکم واپس لیا اور فرمایا 

’’لولا علیؓ لہلک عمر یعنی اگر علیؓ یہاں موجود نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوچکا تھا‘‘

اسی طرح ایک عورت حاضر ہوئی، جس کے پیٹ میں ولد الزنا تھا۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے عورت کی سنگساری کا حکم دیا۔ حضرت علیؓ پھر نہ رہ سکے، فرمایا اگر گناہ کیا ہے تو اس عورت نے کیا، مگر اس بچہ نے کیا قصور کیا ہے جو ابھی پیٹ ہی میں ہے۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا بہت بہتر، سزا وضع حمل تک ملتوی رکھی جائے۔ اس موقعہ پر بھی حضرت عمرؓ نے فرمایا: لولا علیؓ لہلک عمر: اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو چکا ہوتا۔


Monday, October 2, 2017

مولانا رومی، پیر شمس تبریز کے مرید بن گئے: تفصیل پڑھیں

مولانا رومی، پیر شمس تبریز کے مرید بن گئے: تفصیل پڑھیں


مولانا رومی، پیر شمس تبریز کے مرید بن گئے: تفصیل پڑھیں


شاہ شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ مولانا جلال الدین رومی کے پیر و مرشد تھے.. یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب مولانا رومی شاہ شمس سے واقف کار نہ تھے..

ایک دن شاہ شمس تبریز مولانا رومی کے مکتب جا پہنچے.. کتابوں کا انبار لگا ہوا تھا اور مولانا رومی بیٹھے کچھ کتابوں کا مطالعہ کررہے تھے تو شاہ شمس نے ان سے پوچھا.. 

"ایں چیست..؟" (یہ کیا ہیں..؟) مولانا رومی نے ان کو کوئی عام ملنگ سمجھ کر جواب دیا.. " 

ایں آں علم است کہ تو نمی دانی.." ( یہ وہ علم ہے جسکو تو نہیں جانتا..)

شاہ شمس یہ جواب سن کر چپ ہو رہے..

تھوڑی دیر بعد مولانا رومی کسی کام سے اندر کسی جگہ گئے.. واپس آۓ تو اپنی وہ نادر و نایاب کتابیں غائب پائیں.. 

چونکہ شاہ شمس وہیں بیٹھے تھے تو ان سے پوچھا.. شاہ شمس نے مکتب کے اندر کے پانی کے تالاب کی طرف اشارہ کیا اور کہا.. 

"میں نے اس میں ڈال دیں.. " یہ سن کر مولانا رومی حیران و پریشان رہ گئے.. سن ہوگئے جیسے بدن میں لہو نہیں.. اتنی قیمتی کتابوں کے ضائع ہونے کا احساس انکو مارے جارہا تھا.. ( تب کتابیں کچی سیاھی سے ھاتھ سے لکھی جاتی تھیں.. پانی میں ڈلنے سے ان کی سب سیاھی دھل جاتی تھی.. ) شاہ شمس سے دکھ زدہ لہجے میں بولے.. 

"میرے اتنے قیمتی نسخے ضائع کردیے.. "

شاہ شمس انکی حالت دیکھ کر مسکراۓ اور بولے.. " اتنا کیوں گبھرا گئے ہو.. ابھی نکال دیتا ہوں.. "یہ کہہ کر شاہ شمس اٹھے اور تالاب سے ساری کتابیں نکال کر مولانا رومی کے آگے ڈھیر کردیں.. یہ دیکھ کر مولانا رومی کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سب کتابیں بالکل خشک ہیں.. اور ایک ورق تک ضائع نہ ہوا ہے نہ انک پھیلی ہے۔

مولانا رومی چلا اٹھے.. "ایں چیست..؟ " (یہ کیا ہے..؟)

پیرشاہ شمس نے اطمینان سے جواب دیا.. " ایں آں علم است کہ تو نمی دانی.." ( یہ وہ علم ہے جسکو تو نہیں جانتا..)

یہ کہہ کر پیرشمس وہاں سے چل پڑے.. ادھر مولانا رومی کے اندر کی دنیا جیسے الٹ پلٹ چکی تھی.. اپنی دستار پھینک کر شاہ شمس تبریز کے پیچھے بھاگے اور جا کر ان کے پاؤں میں گرپڑے کہ خدا کے لیے مجھے معاف کردیجیے اور مجھے اپنے قدموں میں جگہ دیجیے.. "

شاہ شمس نے انہیں اٹھا کر سینے سے لگایا اور کہا.. "میں تو خود ایک عرصے سے تیری تلاش میں تھا..!! "



Follow us on social media to get instent updates....

|Twitter| |Facebook| |Pinterst| |Myvoicetv.com|
Example

Send your news/prs to us at myvoicetv.outlook.com..

Note: The views, comments and opinions expressed on this news story/article do not necessarily reflect the official policy or position of the management of the website. Companies, Political Parties, NGOs can send their PRs to us at myvoicetv@outlook.com

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________
loading...