Express ☺ your view, expression on this post, via Facebook comment in the below box… (do not forget to tick Also post on facebook option)

Showing posts with label Poetry. Show all posts
Showing posts with label Poetry. Show all posts

Thursday, July 18, 2019

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ​، لنک پر مکمل شاعری پڑھیں مزہ آئے گا

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ​، لنک پر مکمل شاعری پڑھیں مزہ آئے گا

شاعر - مومن خاں مومن​

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ​
ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو ​

اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا ​
اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو ​

چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح ​
طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو ​

ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے ​
کم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو ​

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ ​
بدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو ​

محفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سے ​
منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو ​

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک ​
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو ​

دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو ​
اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو ​

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے​







Monday, July 8, 2019

زبردست شاعری : مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

زبردست شاعری : مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند

دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند

میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند

دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند

اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند

کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند

اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند

شاعر محسن نقوی






Wednesday, July 3, 2019

پروین شاکر شاعری : عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی

پروین شاکر شاعری : عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی

عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اُٹھتی ہوں یہی سوچ کہ تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب میرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ نہیں
دِل کی گلیاں بڑی سنساں ہیں آئے کوئی

پروین شاکر




Wednesday, June 19, 2019

جس نے بھی آج تک یہ نہیں پڑھا ہے وہ آج پڑھ لے، مزہ آئے گا : دردِ دل کوئی نہ سمجھے تو پھر اس داد پہ تھو

جس نے بھی آج تک یہ نہیں پڑھا ہے وہ آج پڑھ لے، مزہ آئے گا : دردِ دل کوئی نہ سمجھے تو پھر اس داد پہ تھو

دردِ دل کوئی نہ سمجھے تو پھر اس داد پہ تھو 
مطلبی حلقہِ احباب کی تعداد پہ تھو

حاکمِ وقت ترے دستِ لہو رنگ پہ تف 
تو کہ حاکم نہیں جلاد ہے جلاد پہ تھو

تو کہ اے زود فراموش ہمیں بھول گیا 
تیری یادوں میں تڑپتے دلِ ناشاد پہ تھو

دیکھ کر جبہ و دستار ترا فیصلہ بدلا 
محتسب تیرے اسی دوغلے ارشاد پہ تھو

تم کہ اک بہن کو اغیار سے چھڑوا نہ سکے 
ایسی طاقت پہ بھی ، کثرتِ افراد پہ تھو

تو نے افرنگ کی تہذیب سے دل شاد کیا 
تیری اس سوچ پہ اس نقطہِ آزاد پہ تھو

کتنے معصوم یہاں دولتِ دل ہار گئے 
عشقِ ناکام ترے کوچہِ آباد پہ تھو

جو ستم سہ کے بھی شاہوں کے قصیدے لکھے 
ایسے فنکار تری قسمتِ برباد پہ تھو

تو نے پہرے دیے شاہوں کے شبستانوں پہ 
غازیِ وقت ترے سینہِ فولاد پہ تھو

تو نے مجبور فقیروں کو گداگر سمجھا 
ایسے کم ظرف سخی تیری ہر امداد پہ تھو

اک قصیدے کے طلبگار نے دی داد صفی 
دولتِ شہر کے وارث تری اس داد پہ تھو

صفی ربانی




Saturday, June 15, 2019

صوفی تبسم کی یہ خوبصورت شاعری مکمل پڑھیں لنک پر : نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

صوفی تبسم کی یہ خوبصورت شاعری مکمل پڑھیں لنک پر : نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے 
یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے 

وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں 
بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے 

یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ 
فسردہ میکدے والے اداس مے خانے 

مرے ندیم تری چشم التفات کی خیر 
بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے 

یہ کس کی چشم فسوں ساز کا کرشمہ ہے 
کہ ٹوٹ کر بھی سلامت ہیں دل کے بت خانے 

نگاہ ناز میں دل سوزیٔ نیاز کہاں 
یہ آشنائے نظر ہیں دلوں کے بیگانے 

صوفی تبسم




Saturday, June 8, 2019

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا  : یہ خوبصورت شاعری مکمل پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا : یہ خوبصورت شاعری مکمل پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا 
محبتوں کا شجر بے ثمر نہیں ہوتا 

پھر اس کے بعد کئی لوگ مل کے بچھڑے ہیں 
کسی جدائی کا دل پر اثر نہیں ہوتا 

ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک منزل ہے 
کوئی کسی کا یہاں ہم سفر نہیں ہوتا 

تمام عمر گزر جاتی ہے کبھی پل میں 
کبھی تو ایک ہی لمحہ بسر نہیں ہوتا 

یہ اور بات ہے وہ اپنا حال دل نہ کہے 
کوئی بھی شخص یہاں بے خبر نہیں ہوتا 

عجیب لوگ ہیں یہ اہل عشق بھی اخترؔ 
کہ دل تو ہوتا ہے پر ان کا سر نہیں ہوتا 

شاعر اختر امان




اردو اسلامک شاعری : علیؓ عروج ہے، جس کو کبھی زوال نہیں

اردو اسلامک شاعری : علیؓ عروج ہے، جس کو کبھی زوال نہیں

علیؓ عروج ہے، جس کو کبھی زوال نہیں
زباں پہ ذکرِ علیؓ ذات کا کمال نہیں

علیؓ ہے نجمِ درخشاں بہ آسمانِ ہُدیٰ
مریضِ بغضِ علیؓ مؤمنوں کی آل نہیں

علیؓ کے نام سے ماتھے پہ گر شکن آئے
تو جان لیجئے کہ نطفہِ حلال نہیں

علیؓ نے جن کی امامت قبول کی اُن کو
امام مانے سوا اور کوئی چال نہیں!

صدیقؓ،عمرؓ یا غنیؓ سے کریں علیؓ کو جُدا
زنادقہ کی قیامت تلک مجال نہیں!

ہوں اہلبیتِؓ نبیؐ، یا مصاحبانِ رسولﷺ 
کسی کے عشق سے محروم یہ بلالؔ نہیں

(محمد بلال خان)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
21 رمضان، یومِ شہادت 
امیرالمؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم





Saturday, May 25, 2019

دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر

دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر


دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر 
برف جب پگھلتی ہے اس کی نرم پلکوں پر 

پھر بہار کے ساتھی آ گئے ٹھکانوں پر 
سرخ سرخ گھر نکلے سبز سبز شاخوں پر 

جسم و جاں سے اترے گی گرد پچھلے موسم کی 
دھو رہی ہیں سب چڑیاں اپنے پنکھ چشموں پر 

ساری رات سوتے میں مسکرا رہا تھا وہ 
جیسے کوئی سپنا سا کانپتا تھا ہونٹوں پر 

تتلیاں پکڑنے میں دور تک نکل جانا 
کتنا اچھا لگتا ہے پھول جیسے بچوں پر 

لہر لہر کرنوں کو چھیڑ کر گزرتی ہے 
چاندنی اترتی ہے جب شریر جھرنوں پر

Poet: Parveen Shakir






سوچتے سوچتے ، پھر مجھ کو خیال آتا ہے ...

سوچتے سوچتے ، پھر مجھ کو خیال آتا ہے ...

وہی حساب تمنا ہے اب بھی آ جاؤ 
وہی ہے سر وہی سودا ہے ، اب بھی آ جاؤ

جسے گئے ہوے خود سے ایک زمانہ ہوا 
وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے اب بھی آ جاؤ

2

سوچتے سوچتے ، پھر مجھ کو خیال آتا ہے ...
وہ میرے رنج و مصائب کا ، مداوا تو نہ تھی ...!

رنگ افشاں تھی ، میرے دل کے خلاؤں میں مگر '
ایک عورت تھی ، علاجِ غمِ دُنیا تو نہ تھی ....!!




پوری شاعری لنک پر پڑھیں:  میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں،

پوری شاعری لنک پر پڑھیں: میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں،

میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں،
کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں

بس اتنا سوچ کر ہی اپنے پاس تم رکھ لو،
تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہو





کِس جانِ گُلِستاں سے یہ ملِنے کی گھڑی تھی

کِس جانِ گُلِستاں سے یہ ملِنے کی گھڑی تھی

دُنیا کو تو حالات سے اُمّید بڑی تھی
پر چاہنے والوں کو جُدائی کی پڑی تھی..!!

کِس جانِ گُلِستاں سے یہ ملِنے کی گھڑی تھی
خوشبوُ میں نہائی ہُوئی اِک شام کھڑی تھی....!!

میں اُس سے ملی تھی کہ خُود اپنے سے مِلی تھی
وہ جیسے مِری ذات کی گُم گشتہ کڑی تھی.......!!

یُوں دیکھنا اُس کو کہ کوئی اور نہ دیکھے 
انعام تو اچّھا تھا ، مگر شرط کڑی تھی....!!

کم مایہ تو ہم تھے مگر احساس نہ ہوتا 
آمد تِری اِس گھر کے مُقدّر سے بڑی تھی...!!

میں ڈھال لیے سمتِ عدُو دیکھ رہی تھی 
پلٹی ، تو مِری پُشت پہ تلوار گڑی تھی...!!

پروین شاکر




Tuesday, May 21, 2019

شاعری مکمل پڑھیں لنک پر :  تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے

شاعری مکمل پڑھیں لنک پر : تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے

آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے

ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے
وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے

آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے

میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی
تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے

منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پر بلا لوں گا اشارہ کر کے

راحتؔ اندوری




Wednesday, March 27, 2019

احمد فرہاد کی زبردست اردو شاعری  پوری پڑھیں لنک پر : کافر ہوں، سر پھرا ہوں مجھے ماردیجیے

احمد فرہاد کی زبردست اردو شاعری پوری پڑھیں لنک پر : کافر ہوں، سر پھرا ہوں مجھے ماردیجیے

کافر ہوں، سر پھرا ہوں مجھے ماردیجیے
میں سوچنے لگاہوں مجھے مار د یجیے
ہے احترام ِحضرت ِانسان میرا دین
بے دین ہوگیا ہوں مجھے مار دیجیے
میں پوچھنےلگا ہوں سبب اپنےقتل کا
میں حد سے بڑھ گیا ہوں مجھے ماردیجیے
کرتا ہوں اہل جبہ ودستار سے سوال
گستاخ ہوگیا ہوں مجھے مار دیجیے
خوشبو سے میرا ربط ہے جگنو سے میرا کام
کتنا بھٹک گیا ہوں مجھے مار دیجیے
معلوم ہے مجھے کہ بڑا جرم ہے یہ کام
میں خواب دیکھتا ہوں مجھے ماردیجیے
زاہد یہ زہدو تقویٰ و پرہیز کی روش
میں خوب جانتا ہوں مجھے ماردیجیے
بے دین ہوں مگر ہیں زمانے میں جیتنے دین
میں سب کو مانتا ہوں مجھے مار دیجیے
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ہُو کا شور
میں آخری صدا ہوں مجھے مار دیجیے
میں ٹھیک سوچتاہوں، کوئی حد میرے لیے
میں صاف دیکھتا ہوں،مجھے مار دیجیے
یہ ظلم ہے کہ ظلم کو کہتا ہوں صاف ظلم
کیا ظلم کر رہا ہوں مجھے مار دیجیے
میں عشق ہوں،میں امن ہوں میں علم ہوں میں خواب
اک درد لادوا ہوں مجھے مار دیجیے
زندہ رہا تو کرتا رہوں گا ہمیشہ پیار
میں صاف کہہ رہا ہوں مجھے مار دیجیے
جو زخم بانٹتے ہیں انہیں زیست پہ ہے حق
میں پھول بانٹا ہوں مجھے مار دیجیے
ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد
باغی بہت بڑا ہوں مجھے مار دیجیے
بارود کا نہیں مرا مسلک درود ہے
میں خیر مانگتا ہوں مجھے مار دیجیے
(احمد فرہاد)





Tuesday, March 26, 2019

جولیا کی زبردست شاعری، پڑھیں مزہ آئے گا : نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی

جولیا کی زبردست شاعری، پڑھیں مزہ آئے گا : نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گُماں ،گُماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی
عجب طرح رخِ آئندگی کا رنگ اُڑھا
دیارِ ذات میں از خود گزشتگی ہی رہی
حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو
حریمِ شوق میں بس شوق کی کمی رہی
پاسِ نگاہِ تغافل تھی اک نگاہ کہ رہی تھی
جو دل کے چہرۂ حسرت کی تازگی ہی رہی
بدل گیا سب ہی کچھ اس دیارِ بُودش میں
گلی تھی جو مری جان وہ تری گلی ہی رہی
تمام دل کے محلے اُجڑ چکے تھے مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی، خوشی ہی رہی
وہ داستان تمھیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی
سناؤں میں کسے افسانۂ خیالِ ملال
تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی

جون ایلیا 





Monday, March 18, 2019

یہ خوبصورت اردو شاعری لنک پر مکل پڑھیں: دشتِ تنہائی سے بڑھتا ہوا درّ و دیوارتک آپہنچا

یہ خوبصورت اردو شاعری لنک پر مکل پڑھیں: دشتِ تنہائی سے بڑھتا ہوا درّ و دیوارتک آپہنچا

دشتِ تنہائی سے بڑھتا ہوا درّ و دیوارتک آپہنچا
ہاتھ جو بالوں سے پھسـلا تورخسار تک آ پہنچا

اب تو اور بھی بڑھ گئی ہے منزل کی طلب کہ
رستہ قــدمـوں سےنکلا ہوا کوۓ یار تک آپہنچا

وہ شخص جوکبھی میرےمعیارتک نہ پہنچ پایا
وہـی شـخـص آج میـرے کـردار تکـــــ آ پہـنـچا

تم ہی بتاؤ کہ اب عاجـز بنیں یا خـوددار بنیں؟ 
معـاملہ تلـوار سے ہـوتا ہـوا اب وار تک آ پہنـچا

سخن ورو ! اسے کس نام سے موسوم کرتے ہیں؟ 
یہ جـو عشـق و محبـت اب کاروبار تکـــ آ پہنچا

اسے کیاجواب دیں کہ اب کیوں ہیں لب بستہ؟ 
میری خاموشیوں کااثر اسکےاستفسارتک آ پہنچا

اب تو محبت بھی وہ پہلےجیسی گھریلو نہ رہی
کہ دل لینے دینے کا سلسلہ اب بیوپار تک آ پہنچا

سرِورق ہمارا بھی تو نام لکھوان خریداروں میں
مثلِ یوسف جو حسن بِکتا ہـوا بازار تک آ پہنـچا

اے عشق تجھ سے تعلّق کا کوئی جواز نہیں بنتا 
کہ تیرا معیـار گـرتا ہوا درھـم و دینار تک آ پہنچا

اب تو ایک ہی تمنا ہے کہ کسی دن ہم بھی سنیں
کہ تیرا ٹوٹا پھوٹا دیوان کسی شاہکار تک آ پہنچا





یہ خوبصورت اردو شاعری لنک پر مکل پڑھیں: ساتھ اس کا سدا کر دے ، آج کچھ نیا کر دے

یہ خوبصورت اردو شاعری لنک پر مکل پڑھیں: ساتھ اس کا سدا کر دے ، آج کچھ نیا کر دے

ساتھ اس کا سدا کر دے ، آج کچھ نیا کر دے
ہو جائے وہ میرا بس ، پوری میری دعا کر دے

پھول کا گلدستہ ہے ، مجھ سے وہ وابستہ ہے
عرض ہے یہ غرض ہے ، اسے میری شفا کر دے

دل میں مجھے آنے دے اور سب کو جانے دے
ملتا ہے کوئی اس سے ، اس کو وہ منع کر دے

کسی سے منسوب ہے ،مجھ میں مگر مجذوب ہے
چاہتا ہے مجھے بھی وہ ، اسے صرف میرا کر دے

رہے چاہے جس کے ساتھ، دل ہو اس کا میرے ساتھ
تھوڑی سی محبت ہو ، بس اتنی سی وفا کر دے

آنکھ اس کی مشروب ہے، بس یہی مطلوب ہے
قرض نعمان ادا کر دے فرض وہ ادا کر دے

نعمان صدیقی






Thursday, March 14, 2019

زبردست مزاحیہ اردو شاعری : چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے

زبردست مزاحیہ اردو شاعری : چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے

امجد علی راجا


 😊😋😌 


چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے
چھ حسینوں میں گھرا امجد بڑی مشکل میں ہے


ذکر سن کر چھ حسینوں کا نہ گھبرا جانِ من
اک حسینہ کے لئے اب بھی جگہ اس دل میں ہے


ساس کے پہلو میں بیوی کو جو دیکھا، ڈر گیا
یا الٰہیٰ خیر ہو خنجر کفِ قاتل میں ہے

دے رہا تھا لیڈروں کو گالیاں جو جو بھی وہ
"میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ”


میں تو سمجھا تھا کہ جاں لیوا ہے بیماری مری
موت کا سامان لیکن ڈاکٹر کے بل میں ہے


دیکھ کر کل رات فیشن شو میں بوفے حسن کا
آ گئے ہم گھر مگر دل اب بھی اس محفل میں ہے

میری دل جوئی کو آنے لگ پڑیں ہمسائیاں
فائدہ کیا کیا مرا بیگم تری کِلکِل میں ہے

دیکھئے، رشوت نہیں لایا، سفارش بھی نہیں
ایک بھی خوبی بھلا اس کی پروفائل میں ہے ؟

آپ جو فائل دبا کر بیٹھے ہیں دو ماہ سے
آپ کا نذرانہ عالی جا! اسی فائل میں ہے

ہے غلط فہمی کہ خوش فہمی مگر لگتا ہے یہ
ذکرِ امجد اب تو اردو کی ہر اک محفل میں ہے
__________________________________





Thursday, March 7, 2019

سادہ مزاج تھے ہم مُورت پہ لٹ گئے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سادہ مزاج تھے ہم مُورت پہ لٹ گئے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سادہ مزاج تھے ہم مُورت پہ لٹ گئے
سیرت نہ دیکھ پائے صورت پہ لٹ گئے

کچھ پوچھیے نہ اجڑے گلشن کی داستاں
غنچے لٹے ہیں جتنے غربت پہ لٹ گئے

کس نے کہا کہ تیرے ہاتھوں لُٹے ہیں ہم
بس خامشی سے دل کی حسرت پہ لُٹ گئے

جھکتے ہیں آ کے سارے اہلِ خرد یہاں
اے شہرِ یار تیری نسبت پہ لٹ گئے

تُو نے ہمارے جذبے پامال کر دیئے
اے یار ہم تو تیری غیرت پہ لٹ گئے

رکھا ترے تقدس کا پاس ہم نے جو
معصوم سی اس اپنی فطرت پہ لٹ گئے

سعید احمد سجاد





Wednesday, March 6, 2019

سنو !   ‏اب ہم محبت میں   ‏بہت آگے نکل آئے :  اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سنو ! ‏اب ہم محبت میں ‏بہت آگے نکل آئے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سنو ! 
‏اب ہم محبت میں 
‏بہت آگے نکل آئے 
‏کہ ایک رستے پہ چلتے چلتے 
‏سو رستے نکل آئے 

‏محبت کی تو کوئی حد، 
‏کوئی سرحد نہیں ہوتی 
‏ہمارے درمیاں یہ فاصلے، 
‏کیسے نکل آئے

‏بہت دن تک حصار
‏ نشہ یکتائی میں رکھا 
‏پھر اس چہرے کے اندر بھی
‏ کئی چہرے نکل آئے






آکہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

آکہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

آکہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اِس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھُلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہے ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اُس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اُس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار _ وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے 

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اِس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں...





Follow us on social media to get instent updates....

|Twitter| |Facebook| |Pinterst| |Myvoicetv.com|
Example

Send your news/prs to us at myvoicetv.outlook.com..

Note: The views, comments and opinions expressed on this news story/article do not necessarily reflect the official policy or position of the management of the website. Companies, Political Parties, NGOs can send their PRs to us at myvoicetv@outlook.com

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________
loading...