Express ☺ your view, expression on this post, via Facebook comment in the below box… (do not forget to tick Also post on facebook option)

Showing posts with label Stories. Show all posts
Showing posts with label Stories. Show all posts

Thursday, March 7, 2019

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایک قصہ جو آج کے مسلمانوں کے لئے بہترین سبق ہے: ضرور پڑھیں اور شیئر کریں

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایک قصہ جو آج کے مسلمانوں کے لئے بہترین سبق ہے: ضرور پڑھیں اور شیئر کریں

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایک قصہ جو آج کے مسلمانوں کے لئے بہترین سبق ہے: ضرور پڑھیں اور شیئر کریں 

حضرت ابراھیم (ع) کی عادت تھی کہ جب تک کوئی مہمان ان کے دسترخوان پر نہ بیٹھتا تو وہ کھانا نہیں کھاتے تھے۔ایک دن ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا اور کہا کہ 





ایک ماں کی دل کو چھونے والی کہانی، اگر اپنی ماں سے پیار ہے تو شیئر ضرور کریں

ایک ماں کی دل کو چھونے والی کہانی، اگر اپنی ماں سے پیار ہے تو شیئر ضرور کریں

ایک ماں کی دل کو چھونے والی کہانی، اگر اپنی ماں سے پیار ہے تو شیئر ضرور کریں

ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت اپنے بیٹے کے ساتھ پارک میں بیٹھی ہو ئی تھی۔ پاس ہی ایک کوا بھی بیٹھا تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟؟




Tuesday, January 1, 2019

This man feeds hungry street kids in a restaurant, when he gets the bill he has been much surprised – must read

This man feeds hungry street kids in a restaurant, when he gets the bill he has been much surprised – must read

بھوکے بچوں کو کھانا کھلانے والے شخص کو جب ہوٹل نے بل دیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

اخیلش کمار ، دبئی میں ایک پاور سلوشن انڈسٹریز میں سینئر ٹیکنیکل سیلز انجینئر  کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جب کمار اپنے گھر جاتے ہیں ایک ہوٹل میں کھانا کھانے پہنچا تو یہ واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا۔  

وہ ڈنر کے لئے  ہوٹل سبرینا میں  گئے ، جوکہ سی نارایا نان کا ہے اور کیرالہ کے مالاپ پورم میں واقع ہے۔  ہوٹل پہنچ کر اس نے کھان آرڈر کیا جوں ہی کھان اس کے سامنے میز پر رکھا گیا تو اس نے دیکھا کہ شیشے کی کھڑکی کے باہر دو انتہائی غریب بچے حسرت کی نگاہ سے اس کھانے کو تک رہے ہیں کہ گویا ان کا بھی ایسا ہی کھانا کھانے کو دل چاہتا ہو۔  کمار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے کھانا نہیں کھایا گیا اور اس نے بچوں کو اندر بلایا اور پوچھا کیا کھائیں گے بچوں نے ٹیبل پر رکھے کھانے کی جانب اشارہ کرکے کہا یہی کھائیں گے۔ کما ر نے بچوں کے لئے بھی کھانا آرڈر  کیا اور جب تک کھانا نہیں آیا اس نے بھی اپنا کھانا نہیں کھایا۔ جب بچوں کا کھانا آیا تو بچوں کے ساتھ کھانا کھایا۔

 جب ہوٹل نے کمار کو بل دیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بل تھاہی ایسا کہ آپ بھی جانیں گے تو جذباتی ہو جائیں گے۔بھارتی ویب سائٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس واقعے میں یہ ہے کہ ایک شخص ملپ پورم کے ایک ریستوران میں کھانا کھانے گیا۔ جب کھانا آ گیا تو اس کی پلیٹ کو باہر سے دو بچے حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اس نے اشارہ کر کے انہیں اندر

بلا لیا۔بچوں سے اس شخص نے پوچھا کہ کیا کھاو گے تو بچوں نے اس پلیٹ میں لگی چیزوں کو کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ وہ بچے بھائی بہن تھے اور پاس ہی کسی جھگی میں رہتے تھے۔اس شخص نے دونوں کے لئے کھانے کا آرڈر دیا اور ان کے کھانے تک اس نے خود کچھ نہیں کھایا۔ دونوں بچے کھا کر اور ہاتھ دھو جب چلے گئے تو اس نے اپنا کھانا کھایا اور جب کھانے کا بل مانگا تو بل دیکھ کر وہ رو پڑاکیونکہ بل پر اماﺅنٹ نہیں لکھا تھا صرف ایک تبصرہ تھا "ہمارے پاس ایسی کوئی مشین نہیں جو انسانیت کا بل بنا سکے "۔







Sunday, August 19, 2018

ﺍﮨﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ . ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﭼﮍﯾﺎ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ۔ اس دلچسپ کہانی کو پڑھنے کے لئے لنک کھولیں

ﺍﮨﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ . ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﭼﮍﯾﺎ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ۔ اس دلچسپ کہانی کو پڑھنے کے لئے لنک کھولیں

ﺍﮨﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ . ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﭼﮍﯾﺎ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ . ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔ 

” ﮨﻢ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﮍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﮍﺍ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺁﭖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮭﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﮯ۔ “

ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ۔ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺷﻨﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﭼﮍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﮍﺍ ﺁ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﻮﮨﺮ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻨﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﭧ ﭘﮍﯼ۔ 

” ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭼﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺩﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ “ 

ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﻥ ﺟﻼﺗﯽ ﮨﻮ ﺑﯿﮕﻢ ! ﺗﻢ ﻧﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭼﮍﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﺍﺕ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﭼﮍﯾﺎ ﮨﮯ۔




Wednesday, April 18, 2018

جانوروں کے ساتھ احسان وسلوک اجر وثواب کاباعث، اور اس عمل سے اُس بدکار عوت کی بخشش ہوگئی

جانوروں کے ساتھ احسان وسلوک اجر وثواب کاباعث، اور اس عمل سے اُس بدکار عوت کی بخشش ہوگئی

جانوروں کے ساتھ احسان وسلوک اجر وثواب کاباعث، اور اس عمل سے اُس بدکار عوت کی بخشش ہوگئی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ بدکار عورت کی بخشش صرف اس وجہ سے کی گئی کہ ایک مرتبہ اس کا گذر ایک ایسے کنویں پر ہوا جس کے قریب ایک کتا کھڑا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا، اور قریب تھاکہ وہ پیاس کی شدت سے ہلاک ہوجائے ، کنویں سے پانی نکالنے کو کچھ تھا نہیں، اس عورت نے اپنا چرمی موزہ نکال کر اپنی اوڑھنی سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا، اس عورت کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوا،اور اس کی بخشش کر دی گئی۔(مسلم: باب فضل ساقی البہائم، حدیث:۵۹۹۷(





Thursday, March 15, 2018

پڑھنا ضروری ہے : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا ... ایمان تروتازہ کرنے والا مضمون ضرور پڑھیں

پڑھنا ضروری ہے : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا ... ایمان تروتازہ کرنے والا مضمون ضرور پڑھیں

پڑھنا ضروری ہے : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا ... ایمان تروتازہ کرنے والا مضمون ضرور پڑھیں 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا تھا۔ ایک مزدود بلڈنگ کے نیچے اپنے کام میں مصروف تھا۔ انجینئر کو مزدور سے کام تھا۔ بہت زیادہ اس کو آواز دی ، لیکن اس نے نہیں سنی۔

انجینئر نے جیب سے 10 ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا تاکہ مزدور اوپر کی طرف متوجہ ہو جائے۔ لیکن مزدور نے نوٹ اٹھا کر جیب میں ڈالا اور اوپر دیکھے بغیر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔

دوسری دفعہ انجینئر نے 50 ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا کہ شاید اب کی بار مزدور اوپر کی طرف متوجہ ہو جائے۔ مزدور نے پھر سے اوپر دیکھے بغیر نوٹ جیب میں ڈال دیا۔

اب تیسری دفعہ انجینئر نے ایک چھوٹی سی کنکری اٹھائی اور اسے نیچے پھینک دیا۔ کنکر کا مزدور کے سر پر لگنا تھا اس نے فورا اوپر کی طرف نگاہ کی۔ انجینئر نے اسے اپنےکام کے بارے بتایا۔

یہ در حقیقت ہماری زندگی کی کہانی ہے۔ ہمارا مہربان خدا ہمیشہ ہم پر نعمتوں کی بارش کرتا ہے کہ شاید ہم سر اٹھا کر اس کا شکریہ ادا کریں۔ اس کی باتیں سنیں۔ لیکن ہم اس طرح اس کی بات نہیں سنتے۔

لیکن جونہی کوئی چھوٹی سی مشکل، پریشانی یا مصیبت ہماری زندگی میں آتی ہے ہم فورا اس ذات کی طرف متوجہ ہوتےہیں۔ ہمیں صرف مشکلا ت میں خدا یاد آتا ہے۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہر وقت ، جب بھی پروردگار کی طرفسے کوئی نعمت ہم تک پہنچے فورا اس کا شکریہ ادا کریں۔ شکریہ ادا کرنے اور خدا کی بات سننے کے لیے سر پر پتھر لگنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

کاپی




Wednesday, March 14, 2018

بھارتی فلمی سپر سٹار کو دلی سکون میسر نہیں، دلی سکون حاصل کرنے کے لئے ایسا اسلامی طریق اپنایا ہے کہ جان کر حیران ہونگے…پڑھیں لنک پر

بھارتی فلمی سپر سٹار کو دلی سکون میسر نہیں، دلی سکون حاصل کرنے کے لئے ایسا اسلامی طریق اپنایا ہے کہ جان کر حیران ہونگے…پڑھیں لنک پر

سکون قلب کیلئے امیتابھ بچن نے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو ان کیساتھ کیا معجزہ پیش آیا ؟ جان کر ہر زبان سبحان اللہ کہہ اٹھے گی

بالی ووڈ بگ بی امیتابھ بچن دل کے سکون اور اچھائی کی تلاش میں قرآن پاک پڑھنے لگے۔ پوری دنیا کے دلوں میں گھر کرنے والے بالی ووڈبگ بی امیتابھ بچن کا دل خود بے چین ہے۔انہیں سکون دل اور حالات پرامن رکھنے کے لئے کسی نے مشورہ دیا کہ قرآن پاک پڑھیں۔

اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے جب امیتابھ بچن نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا تو حیرت انگیز طور پر انہیں قرار آیا۔ بگ بی نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر قرآن پاک کی اسپیلنگ ٹھیک کی اور آیتوں کا ترجمہ بھی لکھا کہ جو قسمت میں ہوتا ہے مل کر رہتا ہے۔ ملکی بقا اور سلامتی کے لئے قرآن پاک پڑھنا ایک اچھا نسخہ ہے۔ اس لئے اس پر عمل پیرا ہیں۔ ویب نیوز




 پڑھنا ضروری ہے، بیوی کا اپنے شوہر کو دل رُلا دینے والی چھٹی ، چھٹی پڑھ کر خاوند کا کیا ہوا ، جاننے کے لئے…. پڑھیں لنک پر

پڑھنا ضروری ہے، بیوی کا اپنے شوہر کو دل رُلا دینے والی چھٹی ، چھٹی پڑھ کر خاوند کا کیا ہوا ، جاننے کے لئے…. پڑھیں لنک پر

کل دوپہر کو بیوی میکے گئی شوہر اس وقت کام پر تھا. جب گھر پہنچا تو یہ نوٹ ٹی وی پر چسپاں ملا.
.
.
امی کے گھر جا رہی ہوں بچوں کو لے کے. نیچے کی باتوں پر احتیاط سے عمل کرنا۔
۔۔
1 - دوستوں کو گھر بلا کر كباڑخانہ مت بنا دینا. پچھلی بار بھی چھت بہت گند ی ملی تھی ۔

2 - کھانا گھر میں بنا لینا یا ہوٹل سے کھا کر آ جانا، باہر سے لا لا کر ہر کسی کو گھر میں مت کھلانا، پچھلی بار صوفے کے نیچے چار پیزوں کا بل ملا تھا۔

3 - چشمہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس رکھنا. 
پچھلی بار فرج میں ملا تھا ۔
😜 
4 - کام والی کی تنخواہ دے 
چکی ہوں...








Monday, February 26, 2018

حکایات شیخ سعدی ؒ  -  عقل مند چرواہا، کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک شکار کھیلتے ہوئے….

حکایات شیخ سعدی ؒ - عقل مند چرواہا، کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک شکار کھیلتے ہوئے….

حکایات شیخ سعدی ؒ  -  عقل مند چرواہا، کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک شکار کھیلتے ہوئے….

کہتے ہیں ایران کا بادشاہ دارا ایک دن شکار کھیلتے ہوئے چراگاہ پہنچ گیا جہاں اس کے گھوڑے چرا کرتے تھے۔ 
بادشاہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر سے بہت آگے نکل آیا۔
شاہی گھوڑوں کے چرواہے نے بادشاہ کی صورت دیکھی تو قدم بوسی کے لیے جلدی سے آگے بڑھا۔ بادشاہ نے اسے اپنا کوئی دشمن سمجھا اور فوراً ترکش سے تیر کھینچا۔ بادشاہ جب کمان میں جوڑ کر تیر چلانے لگا تو چرواہا چلایا۔
’’عالم پناہ! میں دشمن نہیں ۔ شاہی گھوڑوں کی نگرانی کرنے والا گلہ بان ہوں۔ شاہی چراگاہ کاچرواہا ہوں۔‘‘
بادشاہ نے کمان سے ہاتھ کھینچ لیا اور تیر ترکش میں رکھتے ہوئے کہا:
’’ تُو خوش قسمت ہے کہ بچ گیا ہے۔ ہم نے تو کمان کاچلہ چڑھا لیا تھا۔ اگر تو ایک پل اور خاموش رہتا تو تیرا کام تمام ہوچکا ہوتا۔ خاک اور خون میں تیری لاش تڑپ رہی ہوتی۔‘‘

چرواہے نے ادب سے جھکتے ہوئے عرض کیا:
’’عالم پناہ! اچنبھے کی بات ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے غلام کو نہ پہچاناجب کہ میں کئی بار قدم بوسی کے لیے شاہی دربار میں حاضر ہوچکا ہوں۔ میں ایک معمولی چرواہا ہوں مگر اپنے گلے کے ایک ایک گھوڑے کو پہچانتا ہوں۔ حضورِ والا! جس گھوڑے کو طلب فرمائیں لاکھ گھوڑوں سے نکال لاؤں۔ بادشاہ کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ہر بندے کو جانتا پہچانتا ہو۔‘‘

تلقین:
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ حکمران اور رعایا،رہنما اور کارکن کے درمیان گہرا رابطہ ہونا چاہئے۔کسی بھی ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری سے آشنا ہونا چاہیے۔ اگر راعی رعایا کو نہ جانے پہچانے گا تو رعایا بھی اسے نہیں جانے پہچانے گی۔



حکایات شیخ سعدی ؒ  - جرم کی سزا، ایران کے مشہور بادشاہ عمرولیث کا ایک غلام موقع پاکر…

حکایات شیخ سعدی ؒ - جرم کی سزا، ایران کے مشہور بادشاہ عمرولیث کا ایک غلام موقع پاکر…

حکایات شیخ سعدی ؒ  - جرم کی سزا، ایران کے مشہور بادشاہ عمرولیث کا ایک غلام موقع پاکر

ایران کے مشہور بادشاہ عمر ولیث کا ایک غلام موقع پاکر بھاگ گیا لیکن فوراً ہی گرفتار کرکے واپس لایا گیا۔ اس زمانے میں یہ دستور تھا کہ بھگوڑے غلام کو پکڑے جانے کے بعد قتل کردیا جاتا تھا۔ بادشاہ نے اسے قتل کردینے کا حکم دیا تو بندہ مسکین نے اپنا سر عمر ولیث کے آگے زمین پر رکھ دیا اور کہا: ’’عالم پناہ! میں نے حضور کا نمک کھایا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ قیامت کے دن خدا کی عدالت میں میرے قتل کے جرم میں ملزم بنے کھڑے ہوں۔ مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر آپ نے غلام کو قتل ہی کرنا ہے تو پہلے اس کا شرعی جواز پیدا کرلیں۔‘‘

’’وہ شرعی جواز کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ بادشاہ نے پوچھا۔
اُس غلام کی بادشاہ کے وزیر سے پہلے لاگ ڈانٹ چلی آتی تھی لہٰذا وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بولا: ’’میں بادشاہ کے وزیر کو قتل کردوں پھر اس کے قصاص میں آپ مجھ کو قتل کروادیں۔ اس طرح میرا خون آپ کی گردن پر نہ ہوگا۔‘‘

بادشاہ یہ سن کر بے اختیار ہنسنے لگا اور وزیر سے پوچھا: ’’اب کیا مصلحت دیکھتے ہو تم؟‘‘

وزیر نے عرض کیا: ’’بادشاہ سلامت! واسطے خدا کے اس شوخ چشم کو آزاد کریں ورنہ یہ مجھے کسی بلا میں گرفتار کرادے گا۔‘‘
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں دو باتیں سمجھائی ہیں، اول تو جرأت اور ہوش مندی کے فائدے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انتہائی خوف کی حالت میں بھی حواس بحال رہیں تو مصیبت سر سے ٹل جاتی ہے۔ دوم یہ کہ دشمن ہر لحاظ سے بُری شے ہے۔ حتیٰ کے ادنیٰ ترین غلام کو بھی دشمن نہ بناؤ ورنہ وقت آنے پر تمھاری جان لے کر رہے گا۔




Tuesday, December 12, 2017

 قیامت کب ہوگی؟  قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ : تفصیل پڑھیں

قیامت کب ہوگی؟ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ : تفصیل پڑھیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریبا تیس دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہو گا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا..!!

صحیح بخاری 7121


یہ تحریر پڑھ کر رونگھٹے نہ کھڑے ہوں تو۔ حاتم طائی کی بیٹی قید ہوکر بارگاہ رسالت ﷺ میں آئی اور تھوڑا سا سر پر دو پٹہ … تفصیل پڑھیں لنک پر

یہ تحریر پڑھ کر رونگھٹے نہ کھڑے ہوں تو۔ حاتم طائی کی بیٹی قید ہوکر بارگاہ رسالت ﷺ میں آئی اور تھوڑا سا سر پر دو پٹہ … تفصیل پڑھیں لنک پر

ﺣﺎﺗﻢ طائی ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻗﯿﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺳﺮ ﺳﮯ ﺩﻭﭘﭩﮧ ..... ﺳﺮ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﻝ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ ﻧﻈﺮ ﺍ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ...
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻋﻤﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﮯ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺩﻭ .
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎفر ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ .

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻋﻤﺮ ﺑﯿﭩﯽ، ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯽ .
ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺩﺭ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺭﮨﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ..

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﯽ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﮎ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ .

ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﻃﻌﯽ ﺑﻦ ﺣﺎﺗﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﯾﺎ ﺟﺐ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻏﺼﮧ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ ﭘﮩﻼ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮩﻦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺒﯽ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟
 ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻏﻠﻂ ﻟﻔﻆ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﻋﺮﺑﯽ ﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﮯ .

ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ . ؟

 ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﭨﺎﺋﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ .

ﻏﺼﮧ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺒﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ .

ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﮧ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﺁﺅ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﮐﺮ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺭﯾﮟ ﻧﮧ ﻟﻮﭦ ﻟﯿﮟ؟

 ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌتا ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺒﯽ ﺗﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻋﺰﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﻗﺖ ﭘﺎﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﻞ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ کے ﻧﺎﻧﺎ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭ ﮔﮯ .

ﻭﮦ ﮐﻤﻠﯽ ﻭﺍﻻ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﺎ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮨﻮ .

ﻭﮦ ﮐﺎﻟﯽ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﺳﻮﮨﻨﺎ ﻧﺒﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺩﻭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﻮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻡ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﻦ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺴﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﮔﻨﺪﯼ ﻟﻮﻣﮍﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ .

ﺟﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﮨﻮﮞ۔۔۔۔ ذرا سوچیئے

کاپی پیسٹ


Thursday, November 23, 2017

میرے فیس کے پیسے ؟  طالبہ زور زور سے رونے لگی۔ ٹیچر بھاگم بھاگ اس کے پاس پہنچی تو.. آگے پڑھیں

میرے فیس کے پیسے ؟ طالبہ زور زور سے رونے لگی۔ ٹیچر بھاگم بھاگ اس کے پاس پہنچی تو.. آگے پڑھیں

وہ لڑکی اپنے بیگ کی تلاشی نہیں دے رہی تھی ایک رلا دینے والا واقعہ

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو۔ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا‘۔

کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں ”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو ”نہیں ۔۔کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی ۔۔۔ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگ گئی‘۔

ٹیچر پھر آگے بڑھی ابھی اس نے طالبہ کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ۔۔۔رک جاو ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔انہوں نے طالبہ اورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔پرنسپل نے پوچھا کیا معاملہ ہے ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔”نہیں اس نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔ کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔پرنسپل متانت سے بولیں تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟ کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔۔ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔ اس میں کیا راز ہے ؟ وہ سوچنے لگی اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔۔۔پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔

مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔ ۔۔سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ۔۔ وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔۔۔۔ کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں۔۔۔دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھالیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا ندیدوںکی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی‘۔جاری ہے۔وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میںنے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں۔۔۔۔یہ چھوٹی سی سچی کہانی کسی بھی درد ِ دل رکھنے والے کو جنجھوڑ کر رکھ سکتی ہے ہم غور کریں تھوڑی سی توجہ دیں تو ہمارے اردگرد بہت سی ایسی کہی ان کہی کہانیوں کے کردار بکھرے پڑے ہیں اس سفید پوشوں کیلئے کوئی بھی جمہوری حکومت کچھ نہیں کرتی ایسے پسے، کچلے سسکتے اور بلکتے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان میں کوئی ڈکٹیٹر راج کررہا ہے یا جمہوریت کا بول بالا ہے۔نہ جانے کتنے لاکھوں اورکروڑوں عوام کا ایک ہی مسئلہ ہے دو وقت کی روٹی جو بلک بلک کر تھک گئے ہیں اے پاکستان کے حکمرانوں………خدا کے واسطے رحم کرو۔۔۔غریبوں سے ہمدردی کرو ۔۔۔ان کو حکومت یا شہرت نہیں دو وقت کی روٹی چاہیے حکمران غربت کے خاتمہ کیلئے اناج سستا کر دیں تو نہ جانے کتنے لوگ خودکشی کرنے سے بچ جائیں۔۔۔یقینا ہم میں سے کسی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں اور کتنے لوگ بھوک ،افلاس کے باعث دانے دانے کیلئے محتاج ہیں -رزق کی حرمت اور بھوکے ہم وطنوں کا احساس کرنا ہوگا‘۔

حکمران کچھ نہیں کرتے نہ کریں ہم ایک دوسرے کا خیال کریں ایک دوسرے کے دل میں احساس اجاگر کریں یہی اخوت کا تقاضا ہے اسی طریقے سے ہم ایک دوسرے میں خوشیاں بانٹ سکتے ہیں آزمائش شرط ہے۔



بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی مسجد میں چوری کرنے والے کردی، کیوں ؟ جاننے کے لئے پڑھیں

بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی مسجد میں چوری کرنے والے کردی، کیوں ؟ جاننے کے لئے پڑھیں

بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی مسجد میں چوری کرنے والے کردی، کیوں ؟ جاننے کے لئے پڑھیں 

عربی حکایت ہے کہ ایک بادشاہ اپنی جواں سالہ بیٹی کی شادی کے لیے بہت فکر مند تھا۔ وہ برسوں سے......


Tuesday, October 17, 2017

پلیز اگنور مت کرنا ۔ اس دل رلا دینے والی کہانی کو ضرور پڑھیں اور شیئر کریں

پلیز اگنور مت کرنا ۔ اس دل رلا دینے والی کہانی کو ضرور پڑھیں اور شیئر کریں


رات اڑھائی سے تین بجے کا وقت ہوگا میں تکیے پہ سر ٹکائے سو رہا تھا جب اچانک فون کی وائبریشن سے مجھے اٹھنا پڑا ۔

 تکیے کے نیچے سے موبائل نکال کر دیکھا تو سکرین پہ اُس کا نمبر نام سمیت جگمگا رہا تھا۔

 بے شک وہ زندگی سے چلی گئی تھی مگر اس کا نمبر آج بھی سیو تھا بالکل اسکی یادوں کی طرح۔


اتنی رات کو اسکی کال دیکھ کر ایک دم سے نیند چھو منتر ہو گئی اور دل کی دھڑکن بھی نجانے کیوں بڑھ سی گئی۔

 بڑی مشکل سے خود کو سنبھال کر کال ریسیو کی اور بھرم رکھنے کو بہت غصے سے ""ہیلو" کیا

دوسری طرف سے اُسکی سسکی ابھری اور رونے کی آواز آنے لگی اور میرے وجود کو پگھلانے لگی۔

 وہ جو غصے اور بیزاری کی تہہ چڑھائی تھی ایک منٹ میں کافور ہو گئی اور میں تقریباً ٹوٹے ہوئے لہجے میں بس اس ِکے نام سے اسے پکار ہی پایا اور میری منہ سے بس "مہک" نکلا اور میں بھی اس کے ساتھ مل کر رونے لگا۔

چند لمحے یونہی گزر گئے پھر وہ روتے ہوئے بولی کہ آج سے چار سال پہلے ایک وعدہ تم نے لیا تھا مجھ سے اور میں نے دوبارہ کبھی تمکو مڑ کے نا دیکھا مگر آج ایک وعدہ مجھے چاہیے تم سے اس لیے میں رابطہ کیا تم سے ورنہ کبھی تمہاری زندگی میں واپس نا آتی ایک لمحے کو بھی۔

میرے دل سے ایک آہ سی نکلی اور بیتے ہوئے چار سالوں کا ہر ہر لمحے کا پیا ہوا سب آنسو سارے بند توڑ کر بہہ نکلے۔

مجھے چار سال پہلے کا ِوہ منظر صاف دکھائی دینے لگا جب بابا کو بستر مرگ پہ دیکھ کر انکی خواہش کے احترام میں میں نے پھپھو کی مریم سے شادی کی حامی بھر لی اور اُسکی تمام محبت اور دیوانگی کو اپنی قسم دے کر ایک وعدے کا پابند کر کے خود سے دور کر دیا اسے بغیر کچھ بتائے اور وہ پگلی میری محبت میں اتنی جنونی تھی کہ بغیر کچھ پوچھے بس اک قسم کی خاطر چپ چاپ اس وعدے کی پابند ہو گئی اور دوبارہ کبھی لوٹ کر نا آئی۔

اور آج اچانک پتہ نہی کس جذبے کے تحت کس وعدے کا پابند کرنے لوٹ آئی تھی
میں نے لہجے کو مضبوط کیا اور پورے دل سے کہا کہ تم جو کہو گی مجھے ہر بات منظور ہے جو وعدہ لینا چاہتی ہو میں نبھانے کو تیار ہوں.. 

اک آزمائش تم نے کاٹی اب اپنی محبت کو میں آزماؤں گا
بولو کیا وعدہ چاہیے تمہیں؟؟
 وہ دو لمحے تو چپ رہی پھر بولی وعدہ کرو کہ‫

""اس واری الیکشن ہوئے تاں ووٹ گنجیاں نوں نا دیویں گا""
اور ساتھ ہی لائن خاموش ہو گئی۔۔۔

 دھت تیرے کی




Thursday, October 12, 2017

’’اگر علیؓ یہاں موجود نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوچکا تھا‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ کب اور کیونکر کہا تھا

’’اگر علیؓ یہاں موجود نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوچکا تھا‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ کب اور کیونکر کہا تھا



حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دو اثر انگیز واقعات

حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا میری شادی کو آج چھٹا مہینہ ہے، لیکن اسی مہینے میری عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا عورت کو سنگسار کردو۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ کہا یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: حملہ و فصالہ ثلثون شہرا: بچے کا حمل اور اس کے دودھ پینے کا زمانہ تیس مہینے ہوتا ہے، ممکن ہے دو سال دودھ پینے کا زمانہ ہو اور چھ مہینے حمل کا۔
امیر المومنین عمرؓ نے یہ سن کر اپنا حکم واپس لیا اور فرمایا 

’’لولا علیؓ لہلک عمر یعنی اگر علیؓ یہاں موجود نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوچکا تھا‘‘

اسی طرح ایک عورت حاضر ہوئی، جس کے پیٹ میں ولد الزنا تھا۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے عورت کی سنگساری کا حکم دیا۔ حضرت علیؓ پھر نہ رہ سکے، فرمایا اگر گناہ کیا ہے تو اس عورت نے کیا، مگر اس بچہ نے کیا قصور کیا ہے جو ابھی پیٹ ہی میں ہے۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا بہت بہتر، سزا وضع حمل تک ملتوی رکھی جائے۔ اس موقعہ پر بھی حضرت عمرؓ نے فرمایا: لولا علیؓ لہلک عمر: اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو چکا ہوتا۔


حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک اثر انگیز واقعہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک اثر انگیز واقعہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک اثر انگیز واقعہ

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی........راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے.....کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی.......

ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے......اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا .......امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے......آپ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا، جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو.......
بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ....وقت کا بادشاہ ،چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو ...اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا ......آپ رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں نہیں ...کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے................آپ رضی اللہ عنہ روتے جاتے تھے اور فرماتے ....اے عمر تو کافر تھا .....ظالم تھا.....بکریاں چراتا تھا.......خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور تجھے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا....کیا تو اپنے رب کے احسانوں کو بھول گیا ..........آج ایک آدمی تجھ سے کہتا ہے کہ مجھے میرا حق دلاو تو تو اسے درا مارتا ہے............اے عمر کیا تو سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں.....کل قیامت کے دن تجھے اللہ کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا...........حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی بات کو دھراتے رہے اور بڑی دیر روتے رہے..

اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے..





Monday, October 2, 2017

مولانا رومی، پیر شمس تبریز کے مرید بن گئے: تفصیل پڑھیں

مولانا رومی، پیر شمس تبریز کے مرید بن گئے: تفصیل پڑھیں


مولانا رومی، پیر شمس تبریز کے مرید بن گئے: تفصیل پڑھیں


شاہ شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ مولانا جلال الدین رومی کے پیر و مرشد تھے.. یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب مولانا رومی شاہ شمس سے واقف کار نہ تھے..

ایک دن شاہ شمس تبریز مولانا رومی کے مکتب جا پہنچے.. کتابوں کا انبار لگا ہوا تھا اور مولانا رومی بیٹھے کچھ کتابوں کا مطالعہ کررہے تھے تو شاہ شمس نے ان سے پوچھا.. 

"ایں چیست..؟" (یہ کیا ہیں..؟) مولانا رومی نے ان کو کوئی عام ملنگ سمجھ کر جواب دیا.. " 

ایں آں علم است کہ تو نمی دانی.." ( یہ وہ علم ہے جسکو تو نہیں جانتا..)

شاہ شمس یہ جواب سن کر چپ ہو رہے..

تھوڑی دیر بعد مولانا رومی کسی کام سے اندر کسی جگہ گئے.. واپس آۓ تو اپنی وہ نادر و نایاب کتابیں غائب پائیں.. 

چونکہ شاہ شمس وہیں بیٹھے تھے تو ان سے پوچھا.. شاہ شمس نے مکتب کے اندر کے پانی کے تالاب کی طرف اشارہ کیا اور کہا.. 

"میں نے اس میں ڈال دیں.. " یہ سن کر مولانا رومی حیران و پریشان رہ گئے.. سن ہوگئے جیسے بدن میں لہو نہیں.. اتنی قیمتی کتابوں کے ضائع ہونے کا احساس انکو مارے جارہا تھا.. ( تب کتابیں کچی سیاھی سے ھاتھ سے لکھی جاتی تھیں.. پانی میں ڈلنے سے ان کی سب سیاھی دھل جاتی تھی.. ) شاہ شمس سے دکھ زدہ لہجے میں بولے.. 

"میرے اتنے قیمتی نسخے ضائع کردیے.. "

شاہ شمس انکی حالت دیکھ کر مسکراۓ اور بولے.. " اتنا کیوں گبھرا گئے ہو.. ابھی نکال دیتا ہوں.. "یہ کہہ کر شاہ شمس اٹھے اور تالاب سے ساری کتابیں نکال کر مولانا رومی کے آگے ڈھیر کردیں.. یہ دیکھ کر مولانا رومی کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سب کتابیں بالکل خشک ہیں.. اور ایک ورق تک ضائع نہ ہوا ہے نہ انک پھیلی ہے۔

مولانا رومی چلا اٹھے.. "ایں چیست..؟ " (یہ کیا ہے..؟)

پیرشاہ شمس نے اطمینان سے جواب دیا.. " ایں آں علم است کہ تو نمی دانی.." ( یہ وہ علم ہے جسکو تو نہیں جانتا..)

یہ کہہ کر پیرشمس وہاں سے چل پڑے.. ادھر مولانا رومی کے اندر کی دنیا جیسے الٹ پلٹ چکی تھی.. اپنی دستار پھینک کر شاہ شمس تبریز کے پیچھے بھاگے اور جا کر ان کے پاؤں میں گرپڑے کہ خدا کے لیے مجھے معاف کردیجیے اور مجھے اپنے قدموں میں جگہ دیجیے.. "

شاہ شمس نے انہیں اٹھا کر سینے سے لگایا اور کہا.. "میں تو خود ایک عرصے سے تیری تلاش میں تھا..!! "



Maulana Rumi and Peer Shams Tabriz - by Dr Inaam Ul Haq

Maulana Rumi and Peer Shams Tabriz - by Dr Inaam Ul Haq

مولانا رومی اور  شمس تبریز:  ڈاکٹر انعام الحق کوثر
     

642ھ بمطابق 1244ءسے پیشتر کہ مولانا رومی کی مسند نشینی فقر کی تاریخ اسی سال شروع ہوتی ہے ، ان کی شہرت ، علوم معقول و منقول میں مہارت کے باعث نزدیک و دور تک پھیل چکی تھی ۔ وہ علوم دینیہ کا درس دیتے تھے ۔ وعظ کرتے تھے ، فتوے لکھتے تھے اور سماع سے سخت دوری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ وہ زندگی کی چھتیس بہاریں گذار چکے تو ان کی زندگی کا دوسرا دور ایک مرد پراسرار شمس الدین بن علی بن ملک دادتبریزی کی ملاقات سے آغاز پایا جن کی ذات میں حد درجہ جاذبیت تھی۔ یوں تو اس سلسلے میں روایتی انداز نے دل کھول کرتا نا بانابنا ہے پھر بھی یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ مولانا رومی کی شمس تبریز سے ملاقات نے کایا ہی پلٹ کر رکھ دی ۔ تمام نقاد اور مورخ یک کلمہ ہو کر تحریر کرتے ہیں کہ شمس تبریز علوم ظاہری میں ماہر ، خوش کلام، شیرین زباں اور ازیںبالاتر آنکہ جذب و سلوک کی منزلیں طے کر چکے تھے۔ وہ درویشوں کی تلاش میں شہر بہ شہر گھومتے پھرتے تھے ۔ یہی تلاش انہیں قونیہ میں بھی لے آئی ۔ مولانا نے شمس کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہیں گھر لے گئے ۔ مختلف بیانات سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ حضرت شمس دو برس کے لگ بھگ آپ کے ساتھ رہے ۔ ایک بار وہ چلے گئے تھے پھر انہیں لایا گیا ۔ دوسری دفعہ جا کر واپس نہ لوٹے ۔ ایک روایت کے مطابق قتل کر دیے گئے ۔ مولانا رومی کی شمس تبریز سے ملاقات نے ان کی زندگی ،جس میں قبل ازیں شروع سے ماورا کوئی چیز داخل نہ ہوئی تھی، ایک ایسا پرشور انقلاب پیدا کیا کہ وہ علوم معقول و منقول سے صرف نظر کرکے تصو ف سلوک اور عشق و معرفت کے عقائد اور مسائل کی جانب متوجہ ہو گئے ۔ ان کی یہ حالت ہو گئی :”زور را بگذاشت او زاری گرفت “ اور ”دل خود کام را از عشق خوں کرد“

     نتیجةً انہوں نے” نغمہ نے“ کو ایسے انوکھے اور پرکشش انداز میں سنا کہ پھر اسی کے ہوگئے ۔ ان کی رہنمائی شمس تبریز نے ایسے سرگرم انداز میں فرمائی کہ رومی نے ان کی توصیف میں نہایت دلفریب اور اچھی غزلیں لکھیں جن سے جذبے کی گہرائی اور گیرائی کا نشان ملتا ہے ۔ ان کی غزل دل کی زبان بنی ۔ آپ بیتی اور دل پر لگے ہوئے عشق کے داغ بیان ہوئے۔
     مولانا کا دیوان جسے اکثرغلطی سے ”دیوان شمس تبریز“ سمجھا جاتا ہے اس بزرگ سے مولانا کی عقیدت و ارادت کی لازوال یادگار ہے ۔ دیوان میں شمس کا نام بار بار ایسے آتا ہے کہ صاف پتہ چلتا ہے کہ شاعر کے علاوہ کوئی اور شخص مراد ہے ۔ جیسے
زبی صبری بگویم شمس تبریز
چنینی و چنانی من چہ دانم
عاشقا از شمس تبریزی چو ابر
سوختی لیکن ضیا آموختی
شمس الحق تبریزی شاہ ہمہ شیرا نست
در بیشہ جان ما شیر وطن دارد
شمس تبریزی نشستہ شاھوار و پیشِ او
شعر من صفہازد ہ چون بندگان ِاختیار
بی اثرھای شمس تبریزی
از جہان جز ملال ننماید
شمس تبریزی برای عشقِ تو
برگشادم صد در از دیوانگی
شمس تبریز کہ سرمایہ لعلست و عقیق
ما ازو لعل بدخشان و عقیق یمنیم
در فراق شمس تبریزی از آن کاھیدتن
تا فزاید جانہا راجانفزایی سیر سیر
خداوند شمس دین آن نور تبریز
کہ ہر کس را چو من چاکر نگیرد
شمس تبریر پی نور تو زان ذرہ شدیم
تاز ذرات جہان در عدد افزون باشیم
شمس تبریز شہنشاہ ہمہ مردانست
ما ازآن قطب جہان حجت و برہان داریم
شمس تبریز کم سخن بود
شاھان ہمہ صابر و امینند
مولانا رومی مثنوی معنوی میں بھی حضرت شمس کا نام بہت عزت و احترام سے لیتے ہیں ۔ مثلاً :
شمس تبریزی کہ نور مطلقست
آفتابست و ز انوار حق است
شرح این ہجران و این خون جگر
این زمان بگذار تا وقتِ دگر
     مولانا رومی شمس تبریزی کو مختلف القابات سے پکارتے ہیں جیسے نور اولیا ، نور دلہا، شاہ عشق، روی قمر، خسرو جان ، شاہ خوش آیین ،حق آگہ، سخن بخش زبان من ، شاہ شیراں ، نور تبریز، خسرو عہد ، شہ تبریز، سلطان سلطانان جان، شاہ جہانہا، وغیرہ۔
     کلیات شمس تبریزی (چاپ دوم ، 1341ش، تہران) میں 417 صفحہ پر ایک غزل (سولہ شعروں پر مشتمل) ملتی ہے جس میں حضرت شمس کو مختلف لقبوں(مثلاً دُریتیم، نقدِ عیّار، عین انسان، فخر کبار، جام جم، بحر عظیم، سرو رواں وغیرہ) سے یاد کیا ہے ۔ اس غزل کا مقطع ہے:
ای دلیل بی دلان وای رسول عاشقان
شمس تبریزی بیاز نہار دست از ما مدار
     دیوان شمسعالم شور و جذبہ کا حاصل ہے جو بیکراں سرمستی اور پایکوبی کے ساتھ شمس الدین شمس الحق تبریزی کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس مجموعہ کو شعر و زیبائی کا اعجاز قراردیا جا سکتا ہے ۔ ان غزلوں میں مے عشق و زیبائی کو ایسی بدیع رنگ آمیزی، ایسی شور انگیز اور سحر انگیز عبارات اور اصطلاحات میں سمویا گیا ہے کہ گاہے واحد غزل ہی رند کو رندانہ ہا و ہو اور زاہد کو زاہدانہ انداز فکر پر اکساتی ہے ۔ رومی نے کلیةً ان غزلیات کو شعور انگیز عشق اور عجیب روحانی کیفیات کے زیر اثر صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے جو تاریخ ادبیات جہان میں بے نظیر ہیں ۔ سوز دل کے متعلق فرماتے ہیں:
عشق مہمان شد بر این سوختہ
یک دلی دارم پیش قربان کنم
بادہ محبت سے مخمور ہیں :
مخمور توام ، بدست من دہ
آن جام شراب کوثری را
وارفتگی عشق:
شب وصال کی لاجواب تصویر:
باز در آمد ببزم مجلسیان دوست دوست
گرچہ غلط می دھدنیست غلط اوست اوست
عمر گل چیدن است امشب می خوردن است امشب
اضطراب عشق اور انتظار کے جذبات کی کامیاب ترجمانی:
کرانی ندارد بیابان ما
قراری ندارد دل و جان ما
دل عاشق ہر وقت حضور یار کا متمنی:
یک لحظہ ز کوی یار دوری
در مذہب عاشقان حرامست
باد عشق سے درخواست کہ اس جانب سے بھی گذر:
ای باد خوش کہ از چمن عشق می رسی
برمن گذر کہ بوی گلستانم آرزوست
     بعض اہل علم حضرات کی رائے ہے کہ دیوان شمس تبریز ی کا جتنا بھی مطالعہ کیا جائے اتنا ہی وہ زیادہ تازگی بخشتا ہے اور لگا تار فیض پہنچانے والا بنتا ہے ۔ انسان کی ملال پذیر طبیعت سے کوفت کو دور کرتا ہے اور انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس قدر انسانی فطرت کی تعبیر شاید ہی کسی اور شاعر میں ہو جس قدر مولانا رومی کے کلام میں پوشیدہ ہے ۔ جوش عزم ملاحظہ ہو:
مابه فلک میرویم عزم تماشا کراست
ایک اور شعر دیکھیے:
بشاخ زندگی ما نمی زتشنہ لبی است
تلاش چشمہ حیوان دلیل کم طلبی است
علامہ اقبال کے ہاں بھی تخیل میں یہی زور اور بیان میں یہی جوش ہے۔ خود کہتے ہیں:
                                                                مطرب، غزلی، بیتی از مرشد روم آور
                                                                تاغوطہ زند جانم در آتش تبریزی
     مولانا رومی کے کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی عاشق اپنے معشوق کی تعریف کر رہا ہے لیکن اس میں جنسی کشش معدوم ہے۔ یہ جو دعوی کیا جاتا ہے کہ ساری محبت جنسی کشش پر مبنی ہے یہاں اس کے برعکس جنس اور بدن قطعی طو ر پر ختم ہو جاتا ہے ۔ عشق اصلاً اور طبعاً ذہنی اور روحانی اتصال کانام بن جاتا ہے ۔ اس مقام کا ترفع اس حد تک ہے کہ جنس بالکل خارج از بحث ہو جائے اور کشش محض روحانی رہ جائے ۔ اس مقام پر مولانا کی کئی غزلیں ہیں۔ کہتے ہیں:
دوئی را چون برون کردم دو عالم را یکی دیدم
یکی بینم ، یکی جویم ، یکی دانم،یکی خوانم
الا ای شمس تبریزی چنان مستم درین عالم
کہ جز مستی و سرمستی دگر چیزی نمیدانم
٭٭٭
رسید مژدہ بشامست شمس تبریزی
چہ صبحہا کہ نماید اگر بشام بود
٭٭٭
جز شمس تبریزی مگو جز نصر و پیروزی مگو
جز عشق و دلسوزی مگو جز این مدان اقرار من
     جس طرح نظام شمسی جذب باہمی پر قائم و دائم ہے اسی طرح انسان بھی جذب معانی سے زندہ ہیں۔ اس جذب باہمی کی اعلیٰ ترین صورت وہ رابطہ ہے جو بندے اور خدا کے درمیان ہے ۔ خدا کی طرف سے یہ جذب ربوبیت کی شکل میں اور بندے کی جانب سے محبت کے روپ میں رونما ہوتا ہے ۔ گویا خدا کے ساتھ بندے کا رابطہ محبت کا ہے اورخدا کا بندے سے عبودیت کا ہے اور یہی اصلی تصوف ہے۔ اللہ ہر کسی کو رزق دیتا ہے اس کا بندہ ، سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس کے احکام کی پابندی کرتا ہے ۔ پھر جب مولانا رومی کی طرح شمس تبریز کے توسط سے شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے تو یہ صورت بن جاتی ہے :
بخدا خبر ندارم چون نماز می گزارم
کہ تمام شد رکوعی کہ امام شد فلانی
     مولانا رومی کی شمس تبریز سے ذہنی اور روحانی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے کہ شریعت اور طریقت کی خلیج کو پاٹ دیا گیا ۔ شریعت اور طریقت کے ملاپ سے جو تصوف پیدا ہوا وہ ارفع ہے ۔ اس کا ذکر مولانا کے اشعار میں ملتا ہے۔ فرماتے ہیں :
یک دست جامِ بادہ و یک دست جعدِ یار
رقصی چنین میانہ میدانم آروزست
گفتم کہ یافت می نشود جستہ ایم ما
گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزو ست
٭٭٭
باش اول برشریعت استوار
بعدازاں سوی طریقت رو بیار
     جذبہ اورعقل میں جو تضاد ہے ان میں آخر کار جذبہ کو فوقیت حاصل ہوتی ہے ۔ حواس باطنی سے جو جذبہ طے ہو وہ کبھی بھی اپنی اثر آفرینی کھو نہیں سکتا ۔ ایک بار جب وجود باطنی مکشوف ہو جاتا ہے اور آدمی کشف کی نعمت سے بہرہ یاب ہو جاتا ہے تو وہ جذبہ وہ تجربہ جو کشف کے ذریعہ پیدا ہوا ہے کبھی محو نہیں ہو سکتا ۔ حقیقت مکشوف ابدی ہے اور حقیقت عقلی عارضی ۔مولانا رومی فرماتے ہیں :
بگذر از باغ جہان یک سحر ای رشک بہار
تاز گلزار و چمن رسم خزان برخیزد
٭٭٭
بار دیگر از دل و عقل و جان برخاستیم
یار آمد درمیان ما از میان برخاستیم
     مولانا رومی شمس تبریز کی صحبت کے باعث ہی سامع کے شیدا و والہ بنے اور ان کے بقول :
سماع از بہر و صلِ دلستانست
اور یہ کہ
سماع از بہر جان بی قرارست
     موسیقی کے اثرات ان کے کلام میں بھی ظاہر ہو ئے ہیں ۔ اس بنیادی خصوصیت کے بارے میں پروفیسر نکلسن نے بھی اشارہ کیا ہے ۔ علی دشتی نے اس کی یوں توضیح کی ہے ”جلال الدین با کلمات محدود و نارسای زبان ، نسبت بفکر و جوش درونی ہمان کاری را انجام میدھد کہ موسیقی با ترکیب اصوات و آزاد از محدودیت ۔“ دیوان شمس کی اکثر غزلیں اُن لگاتار موجوں کی صداوں کی مانند ہیں جو ہوا کے باعث ساحل سے ٹکراتی رہتی ہیں آواز آتی ہے :
ای یار من ای یار من ای یار بی زنہار من
ای ھجر تو دلسوز من ای لطف تو غمخوار من
خود میروی در جان من، چون میکنی درمان من
ای دین من، ای جان من، ای بحر گوھر بار من
ای جان من ای جان من سلطان من سلطان من
دریای بی پایان من بالاتر از پندار من
     وہ حقیقت کو اس انداز میں پیش کرنے کے عادی ہیں کہ قارئین اس کا احساس کرنے کے باوجود اسے بیان نہیں کر سکتے ۔ ان کا کلام ہمیشہ طرب آور، ہموم انگیز اور تخیل پرور ہوتا ہے لیکن وہ احساس قارئین کی فکر کو ایسی جلا بخشتا ہے کہ وہ اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رومی شعر کہنا اور اپنے خاموش احساسات کو پیش کرنا نہیں چاہتے ۔وہ صرف اپنے دیکھے ہوئے خواب کو بیان کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ چنانچہ وہ ہاتھ پاوں مارتے ہیں ۔ ان کا یہ عمل موزوںاور خوش آہنگ کلمات کی صورت میں ظاہر ہوتاہے اور ان کاشعر قارئین کو صبح کے پھولوں کی طراوت اور بادہ کہنہ کا نشہ بخشتا ہے ۔ وہ خود کہتے ہیں :
ھمہ جوشم ھمہ موجم سر دریای تودارم
     وہ شعر کو ہنر مندی کاذریعہ نہیں بناتے۔ وہ تو ان کے لیے آئینہ روح ہے ۔ وہ زندگی سے ناامید نہیں ہوتے ۔ امید ہمیشہ ان کے عشق میں موجزن رہتی ہے ۔ان کا دیوان سبزہ زار عشق اور لالہ محبت ہے۔ وہ نور مطلق کے نزدیک ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو سراسر عشق ، سراسر عقل اور سراسر جان خیال کرتے ہیں :
نہ ابرم من نہ برقم من نہ ماھم من نہ چرخم من
ھمہ عشقم ھمہ عقلم ھمہ جانم بہ جانانہ
شعر گوئی سے ان کا مقصد یہی ہے کہ حقائق شعر کا لبادہ اوڑھ لیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
خواہم کہ کفکِ خونین از دیگ جان بر آرم
گفتار دو جہان را از یک دھان بر آرم
     یہ صفت عروج و کمال کے ساتھ مثنوی میں ملتی ہے لیکن دیوان میں بھی یہی نمایاں ہے مثلاً سرّاَنا کے متعلق کہتے ہیں:
از کنار خویش یابم ہر دمی من بوی یار
عشق اور بندگی کے بارے میں:
دیگران آزاد سازند بندہ را
عشق بندہ میکند آزاد را
     دیوان شمس تبریزی تکلف اور تصنع سے اس حد تک دور ہے کہ شعر میں صنایع ظریف و مطلوب کی جانب توجہ ضروری نہیں سمجھی جاتی کیونکہ اشعار کہنے والا کسی اور چیز میں محو ہے ۔ وہ فقط اپنے خیال اور احساس کو پیش کرتا ہے ۔ گاہے بغیر کسی اختیار اور ارادے کے یہ عمل مکمل ہوتا ہے :
مارا سفری فتاد بی ما
آنجا دل ما گشاد بی ما
مائیم ہمیشہ مست بی می
مائیم ہمیشہ شاد بی ما
     مولانا کے اشعار کا مطلب سمجھنے میں دقت اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ مانوس اور عام فہم الفاظ بروئے کار لاتے ہیں ۔ اس پر مستزادیہ کہ خیالات میں صفائی اور سادگی ہونے کے سبب تصورات میں الجھاو نہیں۔ فرماتے ہیں :


بر چرخ ، سحر گاہ یکی ماہ عیان شد
از چرخ فرود آمد و در ما نگران شد
درجان چو سفر کردم جز ماہ ندیدم
تا سرّ تجلی ازل، جملہ بیان شد
٭٭٭
عشقست بر آسمان پریدن
صد پردہ بہر نفس دریدن
ہر کہ بہر تو انتظار کند
بخت و اقبال را شکار کند
٭٭٭
     رومی کے کلام میں سعدی کی فصاحت ، عنصری کی پختہ کاری ، انوری اور فرخی کے پرشکوہ الفاظ موجود نہیں ۔ ان کے یہاں مسعود سعد سلمان کی مستحکم زبان اور خاقانی جیسی استادانہ ترکیبات نہیں ملتیں ۔ ان کے کلام میں ایک ایسی چیز ہے کہ ان سب کے راستے کو روکتی ہے اور ان سے برتر ہے ۔ انہوں نے جو کچھ محسوس کیا ہے اسے مجاز کی راہ اپنائے بغیر بیان کیا ہے ۔ وہ بغیر کسی فلسفیانہ رنگ کے اپنی روح کی شورید گی اور دیوانگی کو صفحہ قرطاس پر رقم کرتے ہیں۔ اس کیفیت میں وہ تند و تیز ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں کہ جو کچھ اس کے راستے میں آئے اسے لپیٹ کر لے جائے۔
     مولانا کے شعر کا انداز جدا ہے ۔ انہوں نے راہ نوتراشی ہے ۔ جس کی شاخیں ویرانوں ، کاشانوں ، میخانوں اور بتخانوں کی جانب جاتی ہیں۔ لیکن پھر مڑ آتی ہیں اور سیدھی عاشقوں کی عبادتگاہ کا رخ کرتی ہیں اور یوں حق و حقیقت کی راہ سے ملاپ پاتی ہیں ۔ مولانا کی پرواز زمین سے آسمان کی طرف ہوتی ہے ۔ پھر جب لوٹتے ہیں تو روحانی غذا مہیا کر تے ہیں جو جسم و روح میںداخل ہوتی ہے ۔ جسم وروح فیض پاتے ہیں ، ذی حیات اور ذی عقل بہرہ ور ہوتے ہیں ۔مسرت و شادمانی اور خرمی و انبساط کا سیلاب امڈ آتا ہے اور صائب تبریزی کے الفاظ میں یہ کیفیت ہوجاتی ہے :
از گفتہ مولانا مدھوش شدم صائب
این ساغر روحانی صہبای دگر دارد
اور علامہ اقبال کی آواز آتی ہے:
پیر رومی خاک را اکسیر کرد
از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد
     مولانا رومی کے یہاں آتش عشق موجود تھی۔ آتش کو بھڑکانے کا بھی بندوبست تھا ۔ صرف باد نسیم کے ایک جھونکے کی منتظر تھی ۔ یہ کام حضرت شمس تبریزی نے سرانجام دیا ۔ ان کے تاثرات و انفعالات میں ہیجان پیدا ہو گیا ۔ وہ اسی انقلاب دروں کی تصویر کشی کرتے چلے گئے ۔ حضرت شمس کے بعد صلاح الدین زرکوب اور حسام الدین چلپی نے اُن کی جگہ لے لی۔ یوں دیوان اور مثنوی منظر عام پر آئے۔ ہزاروں اشعار کہنے کے باوجود ان کی آتش عشق بجھنے نہ پائی اور وہ ہر دور کے سب سے بڑے صوفی شاعر متصور ہوئے ۔ خود فرما گئے:

گفتا کہ چندرانی گفتم کہ تابخوانی
گفتا کہ چند جوشی گفتم کہ تاقیامت
٭٭٭
ھم خونم و ھم شیرم ھم طفلم و ھم پیرم
ھم چاکر و ھم میرم ھم اینم و ھم آنم
ھم شمس شکرریزم ھم خطہ تبریزم
ھم ساقی و ھم مستم ھم شہرہ و پنہانم
شمس الحق تبریزم جز با تو نیامیزم
می افتم و می خیزم من خانہ نمی دانم
٭٭٭
فسانہ عاشقان خواندم شب و روز
کنون در عشق تو افسانہ گشتم
     حضرات !یہ ان کا فسانہ ہی تو ہے جو ہمیں نزد و دور سے یہاں لے آیا ہے اور ہم دنیا بھر میں سر دھنتے تھکتے نہیں۔

منابع

ادب نامہ ایران، مقبول بیگ بدخشانی، لاہور، 1958
تاریخ ادبیات ایران، رضازادہ شفق، تہران، 1313ش
سوانح مولانا روم ، شبلی نعمانی، لاہور، 1950
تذکرة الشعرا، دولت شاہ سمرقندی (ترتیب دہندہ اقبال صافی) ،لاہور، 1924
کلیات دیوان شمس تبریزی، با دو مقدمہ از علی دشتی واستاد بدیع الزمان فروزانفر، تہران 1341ش
گنجینہ ادب، عابد علی عابد، لاہور۔
گنج ادب، مقبول بیگ بدخشانی ، ظہور الدین احمد ، ڈاکٹر محمد باقر،لاہور، 1962
مفتاح العلوم (پہلی جلد) محمد نذیر عرشی ،لاہور، 1962
قندیل ، لاہور، 21 دسمبر 1952ء؛ مجلہ عثمانیہ ،حیدر آباد دکن ، جلد ہفتم ، شمارہ دوم ،ہلال کراچی ، دسمبر 1975، دسمبر 1958، مارچ 1962ءجون 1963۔ پروفیسر سید عابد علی عابد کے لیکچر ، 17 نومبر ، 21 نومبر 1953، ۲، ۶، ۹ مارچ 1954، دیال سنگھ کالج، لاہور۔



Follow us on social media to get instent updates....

|Twitter| |Facebook| |Pinterst| |Myvoicetv.com|
Example

Send your news/prs to us at myvoicetv.outlook.com..

Note: The views, comments and opinions expressed on this news story/article do not necessarily reflect the official policy or position of the management of the website. Companies, Political Parties, NGOs can send their PRs to us at myvoicetv@outlook.com

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________
loading...