Express ☺ your view, expression on this post, via Facebook comment in the below box… (do not forget to tick Also post on facebook option)

Showing posts with label Urdu Ghazals. Show all posts
Showing posts with label Urdu Ghazals. Show all posts

Thursday, July 18, 2019

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ​، لنک پر مکمل شاعری پڑھیں مزہ آئے گا

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ​، لنک پر مکمل شاعری پڑھیں مزہ آئے گا

شاعر - مومن خاں مومن​

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ​
ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو ​

اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا ​
اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو ​

چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح ​
طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو ​

ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے ​
کم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو ​

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ ​
بدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو ​

محفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سے ​
منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو ​

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک ​
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو ​

دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو ​
اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو ​

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے​







Saturday, June 15, 2019

صوفی تبسم کی یہ خوبصورت شاعری مکمل پڑھیں لنک پر : نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

صوفی تبسم کی یہ خوبصورت شاعری مکمل پڑھیں لنک پر : نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے 
یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے 

وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں 
بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے 

یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ 
فسردہ میکدے والے اداس مے خانے 

مرے ندیم تری چشم التفات کی خیر 
بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے 

یہ کس کی چشم فسوں ساز کا کرشمہ ہے 
کہ ٹوٹ کر بھی سلامت ہیں دل کے بت خانے 

نگاہ ناز میں دل سوزیٔ نیاز کہاں 
یہ آشنائے نظر ہیں دلوں کے بیگانے 

صوفی تبسم




Tuesday, May 21, 2019

شاعری مکمل پڑھیں لنک پر :  تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے

شاعری مکمل پڑھیں لنک پر : تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے

آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے

ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے
وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے

آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے

میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی
تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے

منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پر بلا لوں گا اشارہ کر کے

راحتؔ اندوری




Wednesday, March 27, 2019

احمد فرہاد کی زبردست اردو شاعری  پوری پڑھیں لنک پر : کافر ہوں، سر پھرا ہوں مجھے ماردیجیے

احمد فرہاد کی زبردست اردو شاعری پوری پڑھیں لنک پر : کافر ہوں، سر پھرا ہوں مجھے ماردیجیے

کافر ہوں، سر پھرا ہوں مجھے ماردیجیے
میں سوچنے لگاہوں مجھے مار د یجیے
ہے احترام ِحضرت ِانسان میرا دین
بے دین ہوگیا ہوں مجھے مار دیجیے
میں پوچھنےلگا ہوں سبب اپنےقتل کا
میں حد سے بڑھ گیا ہوں مجھے ماردیجیے
کرتا ہوں اہل جبہ ودستار سے سوال
گستاخ ہوگیا ہوں مجھے مار دیجیے
خوشبو سے میرا ربط ہے جگنو سے میرا کام
کتنا بھٹک گیا ہوں مجھے مار دیجیے
معلوم ہے مجھے کہ بڑا جرم ہے یہ کام
میں خواب دیکھتا ہوں مجھے ماردیجیے
زاہد یہ زہدو تقویٰ و پرہیز کی روش
میں خوب جانتا ہوں مجھے ماردیجیے
بے دین ہوں مگر ہیں زمانے میں جیتنے دین
میں سب کو مانتا ہوں مجھے مار دیجیے
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ہُو کا شور
میں آخری صدا ہوں مجھے مار دیجیے
میں ٹھیک سوچتاہوں، کوئی حد میرے لیے
میں صاف دیکھتا ہوں،مجھے مار دیجیے
یہ ظلم ہے کہ ظلم کو کہتا ہوں صاف ظلم
کیا ظلم کر رہا ہوں مجھے مار دیجیے
میں عشق ہوں،میں امن ہوں میں علم ہوں میں خواب
اک درد لادوا ہوں مجھے مار دیجیے
زندہ رہا تو کرتا رہوں گا ہمیشہ پیار
میں صاف کہہ رہا ہوں مجھے مار دیجیے
جو زخم بانٹتے ہیں انہیں زیست پہ ہے حق
میں پھول بانٹا ہوں مجھے مار دیجیے
ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد
باغی بہت بڑا ہوں مجھے مار دیجیے
بارود کا نہیں مرا مسلک درود ہے
میں خیر مانگتا ہوں مجھے مار دیجیے
(احمد فرہاد)





Tuesday, March 26, 2019

جولیا کی زبردست شاعری، پڑھیں مزہ آئے گا : نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی

جولیا کی زبردست شاعری، پڑھیں مزہ آئے گا : نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گُماں ،گُماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی
عجب طرح رخِ آئندگی کا رنگ اُڑھا
دیارِ ذات میں از خود گزشتگی ہی رہی
حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو
حریمِ شوق میں بس شوق کی کمی رہی
پاسِ نگاہِ تغافل تھی اک نگاہ کہ رہی تھی
جو دل کے چہرۂ حسرت کی تازگی ہی رہی
بدل گیا سب ہی کچھ اس دیارِ بُودش میں
گلی تھی جو مری جان وہ تری گلی ہی رہی
تمام دل کے محلے اُجڑ چکے تھے مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی، خوشی ہی رہی
وہ داستان تمھیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی
سناؤں میں کسے افسانۂ خیالِ ملال
تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی

جون ایلیا 





Monday, March 18, 2019

یہ خوبصورت اردو شاعری لنک پر مکل پڑھیں: دشتِ تنہائی سے بڑھتا ہوا درّ و دیوارتک آپہنچا

یہ خوبصورت اردو شاعری لنک پر مکل پڑھیں: دشتِ تنہائی سے بڑھتا ہوا درّ و دیوارتک آپہنچا

دشتِ تنہائی سے بڑھتا ہوا درّ و دیوارتک آپہنچا
ہاتھ جو بالوں سے پھسـلا تورخسار تک آ پہنچا

اب تو اور بھی بڑھ گئی ہے منزل کی طلب کہ
رستہ قــدمـوں سےنکلا ہوا کوۓ یار تک آپہنچا

وہ شخص جوکبھی میرےمعیارتک نہ پہنچ پایا
وہـی شـخـص آج میـرے کـردار تکـــــ آ پہـنـچا

تم ہی بتاؤ کہ اب عاجـز بنیں یا خـوددار بنیں؟ 
معـاملہ تلـوار سے ہـوتا ہـوا اب وار تک آ پہنـچا

سخن ورو ! اسے کس نام سے موسوم کرتے ہیں؟ 
یہ جـو عشـق و محبـت اب کاروبار تکـــ آ پہنچا

اسے کیاجواب دیں کہ اب کیوں ہیں لب بستہ؟ 
میری خاموشیوں کااثر اسکےاستفسارتک آ پہنچا

اب تو محبت بھی وہ پہلےجیسی گھریلو نہ رہی
کہ دل لینے دینے کا سلسلہ اب بیوپار تک آ پہنچا

سرِورق ہمارا بھی تو نام لکھوان خریداروں میں
مثلِ یوسف جو حسن بِکتا ہـوا بازار تک آ پہنـچا

اے عشق تجھ سے تعلّق کا کوئی جواز نہیں بنتا 
کہ تیرا معیـار گـرتا ہوا درھـم و دینار تک آ پہنچا

اب تو ایک ہی تمنا ہے کہ کسی دن ہم بھی سنیں
کہ تیرا ٹوٹا پھوٹا دیوان کسی شاہکار تک آ پہنچا





Thursday, March 14, 2019

زبردست مزاحیہ اردو شاعری : چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے

زبردست مزاحیہ اردو شاعری : چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے

امجد علی راجا


 😊😋😌 


چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے
چھ حسینوں میں گھرا امجد بڑی مشکل میں ہے


ذکر سن کر چھ حسینوں کا نہ گھبرا جانِ من
اک حسینہ کے لئے اب بھی جگہ اس دل میں ہے


ساس کے پہلو میں بیوی کو جو دیکھا، ڈر گیا
یا الٰہیٰ خیر ہو خنجر کفِ قاتل میں ہے

دے رہا تھا لیڈروں کو گالیاں جو جو بھی وہ
"میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ”


میں تو سمجھا تھا کہ جاں لیوا ہے بیماری مری
موت کا سامان لیکن ڈاکٹر کے بل میں ہے


دیکھ کر کل رات فیشن شو میں بوفے حسن کا
آ گئے ہم گھر مگر دل اب بھی اس محفل میں ہے

میری دل جوئی کو آنے لگ پڑیں ہمسائیاں
فائدہ کیا کیا مرا بیگم تری کِلکِل میں ہے

دیکھئے، رشوت نہیں لایا، سفارش بھی نہیں
ایک بھی خوبی بھلا اس کی پروفائل میں ہے ؟

آپ جو فائل دبا کر بیٹھے ہیں دو ماہ سے
آپ کا نذرانہ عالی جا! اسی فائل میں ہے

ہے غلط فہمی کہ خوش فہمی مگر لگتا ہے یہ
ذکرِ امجد اب تو اردو کی ہر اک محفل میں ہے
__________________________________





Wednesday, March 13, 2019

خوبصورت اردو شاعری : اب ہیں خزاں کے ڈیرے گلشن کی تازگی میں

خوبصورت اردو شاعری : اب ہیں خزاں کے ڈیرے گلشن کی تازگی میں

اب ہیں خزاں کے ڈیرے گلشن کی تازگی میں
مرجھا گئے ہیں غنچے تتلی کی عاشقی میں

اس ظاہری محبت ، دو دن کی زندگی میں
ہم نے لٹا دیں خوشیاں دیکھو خوشی خوشی میں

اب کیا خوشی سے جھومیں ، اب کیسے مسکرائیں
اس کا نہیں گزر اب دل کی مری گلی میں

نوکِ سناں پہ بھی سر جھکنے نہیں ہے پایا
اندازِ فاتحانہ دیکھا ہے رہبری میں

جب پانیوں کے اوپر لکھے وفا کے قصے
پھر کیسے ڈھونڈ پائیں اخلاص دلبری میں

یہ آنگ سان سوچی برما کی خاک چاٹے
ہو یہ ذلیل و رسوا دنیا کی ہر گلی میں

چہرے پہ لے کے چہرہ میک اپ زدہ جہاں میں
جینا ہی چھن گیا ہے وشمہ جی سادگی میں

 وشمہ خان وشمہ




Thursday, March 7, 2019

سادہ مزاج تھے ہم مُورت پہ لٹ گئے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سادہ مزاج تھے ہم مُورت پہ لٹ گئے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سادہ مزاج تھے ہم مُورت پہ لٹ گئے
سیرت نہ دیکھ پائے صورت پہ لٹ گئے

کچھ پوچھیے نہ اجڑے گلشن کی داستاں
غنچے لٹے ہیں جتنے غربت پہ لٹ گئے

کس نے کہا کہ تیرے ہاتھوں لُٹے ہیں ہم
بس خامشی سے دل کی حسرت پہ لُٹ گئے

جھکتے ہیں آ کے سارے اہلِ خرد یہاں
اے شہرِ یار تیری نسبت پہ لٹ گئے

تُو نے ہمارے جذبے پامال کر دیئے
اے یار ہم تو تیری غیرت پہ لٹ گئے

رکھا ترے تقدس کا پاس ہم نے جو
معصوم سی اس اپنی فطرت پہ لٹ گئے

سعید احمد سجاد





Wednesday, March 6, 2019

سنو !   ‏اب ہم محبت میں   ‏بہت آگے نکل آئے :  اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سنو ! ‏اب ہم محبت میں ‏بہت آگے نکل آئے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

سنو ! 
‏اب ہم محبت میں 
‏بہت آگے نکل آئے 
‏کہ ایک رستے پہ چلتے چلتے 
‏سو رستے نکل آئے 

‏محبت کی تو کوئی حد، 
‏کوئی سرحد نہیں ہوتی 
‏ہمارے درمیاں یہ فاصلے، 
‏کیسے نکل آئے

‏بہت دن تک حصار
‏ نشہ یکتائی میں رکھا 
‏پھر اس چہرے کے اندر بھی
‏ کئی چہرے نکل آئے






آکہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

آکہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

آکہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اِس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھُلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہے ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اُس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اُس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار _ وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے 

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اِس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں...





Tuesday, March 5, 2019

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے : اس خوبصورت غزل کو پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے

گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے
پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے

لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف
سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے

قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہے
ہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے

پھول سے رنگ جدا ہونا کوئی کھیل نہیں
اپنی مٹی کو کہیں چھوڑ کے جائیں کیسے

کوئی اپنی ہی نظر سے تو ہمیں دیکھے گا
ایک قطرے کو سمندر نظر آئیں کیسے

جس نے دانستہ کیا ہو نظر انداز وسیمؔ
اس کو کچھ یاد دلائیں تو دلائیں کیسے

وسیم بریلوی





صاحب! یوں دل دکھانے کی بات نہ کرو : مکمل شاعری پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

صاحب! یوں دل دکھانے کی بات نہ کرو : مکمل شاعری پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

صاحب! یوں دل دکھانے کی بات نہ کرو
دل ہمارا کمزور ہے، ٹوٹ جائے گا

یوں سر راہ ہم سے منہ نہ موڑو
منزل کی چاہ میں بنجارہ ڈوب جائے گا

یوں ایسے دکھ بھری شام میں غم نہ دو
غم جو دے دیا تو پروانہ جل جائے گا

یوں ایسے زمانے میں تنہا نہ چھوڑو
تنہا جیتے جیتے دیوانہ بجھ جائے گا

سنو! یوں ایسے ہم سے نظر نہ چراؤ
نظر کی آڑ میں شیرازہ بکھر جائے گا

یوں جو چلے ہو تو ذرا ٹھہر بھی جاؤ
نہیں تو یہ دل دھڑکنا بھول جائے گا

بھلا ایسی بھی کیا ناراضگی؟ چلو اب مان بھی جاؤ
جو ہم روٹھ گئے تو جنازہ اٹھ جائے گا

صاحب! یوں دل دکھانے کی بات نہ کرو
دل ہمارا کمزور ہے، ٹوٹ جائے گا





Thursday, January 31, 2019

میرے فن کار!!  مجھے خوب تراشا تو نے   آنکھ نیلم کی  - یہ خوبصورت شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں لنک پر

میرے فن کار!! مجھے خوب تراشا تو نے آنکھ نیلم کی - یہ خوبصورت شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں لنک پر

میرے فن کار!!
مجھے خوب تراشا تو نے 
آنکھ نیلم کی 
بدن چاندی کا 
یاقوت کے لب 

یہ ترے 
ذوق طلب کے بھی ہیں 
معیار عجب 
پاؤں میں میرے 
یہ پازیب 

سجا دی تو نے 
نقرئی تار میں آواز منڈھا دی تو نے 
یہ جواہر سے جڑی 
قیمتی مورت میری 

اپنے سامان تعیش میں لگا دی تو نے 
میں نے مانا 
کہ حسیں ہے ترا شہکار 
مگر 
تیرے شہکار میں 

مجھ جیسی کوئی بات نہیں 
تجھ کو نیلم سی 
نظر آتی ہیں آنکھیں میری 
درد کے ان میں سمندر 
نہیں دیکھے تو نے 

تو نے 
جب کی 
لب و رخسار کی خطاطی کی 
جو ورق لکھے تھے 
دل پر 
نہیں دیکھے تو نے 
میرے فن کار 
ترے ذوق 

ترے فن کا کمال 
میرے پندار کی قیمت 
نہ چکا پائے گا 
تو نے بت یا تو تراشے 

یا تراشے ہیں خدا 
تو بھلا کیا مری تصویر 
بنا پائے گا 
تیرے اوراق سے 
یہ شکل مٹانی ہوگی 

اپنی تصویر 
مجھے آپ بنانی ہوگی 
ہوش بھی 
جرأت گفتار بھی 

بینائی بھی 
جرأت عشق بھی ہے 
ضبط کی رعنائی بھی 
جتنے جوہر ہیں نمو کے 
مری تعمیر میں ہیں 

دیکھ یہ رنگ 
جو تازہ مری تصویر میں ہیں 






Tuesday, October 16, 2018

زبردست اردو شاعری :  آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا

زبردست اردو شاعری : آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
 دل جس سے مل گیا وہ دوبارہ نہیں ملا
 آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور
 خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا
 بجھ گیا شام حرم باب کلیسا نہ کھلا
 گل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلا
 چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
 ہم اُس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ
 گریہ تو اکثر رہا پیہم رہا
پھر بھی دل کے بوجھ سے کچھ کم رہا
 دیوانے کو تکتی ہیں تیرے شہر کی گلیاں
 نکلا تو اِدھر لوٹ کے بدنام نہ آیا
 مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے
 یہ دیکھ کہ تجھ پر کوئی الزام نہ آیا
 میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
 تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آئو
 میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
 قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ
 زوال عشق میں سوداگروں کا ہاتھ تو دیکھ

مصطفی زیدی





Tuesday, September 18, 2018

آئینہ بھی ۔۔ آئینے میں منظر بھی اُسی کا

آئینہ بھی ۔۔ آئینے میں منظر بھی اُسی کا


 قمرؔ سنبھلی 

آئینہ بھی ۔۔ آئینے میں منظر بھی اُسی کا
ہے آنکھ کی پُتلی میں ۔۔ سمندر بھی اُسی کا

تاریکیٔ شب ۔۔ صبح کا منظر ۔۔ بھی اُسی کا
یہ لشکرِ ۔۔ مہر و مہ و اختر ۔۔۔ بھی اُسی کا

جب چاہے فلک سر سے زمیں پاؤں سے چھینے
چادر بھی اُسی کی ہے ۔۔ یہ بستر بھی اُسی کا

مستور خزانے ہیں ۔۔ سمندر میں اُسی کے
نکلے جو صدف سے وہ ہے گوہربھی اُسی کا

دیکھیں تو کہیں کوئی مکاں اُس کا نہیں ہے
ڈھونڈیں تو ہر اک دل میں ملے گھر بھی اُسی کا

طوفاں میں کرے غرق کہ ساحل سے لگائے
کشتی بھی اُسی کی ہے ۔۔ سمندر بھی اُسی کا

سب مال و متاع اپنے حوالے ہیں اُسی کے
یہ دل بھی اُسی کا ہے ، مرا سر بھی اُسی کا

ہاتھوں میں اُسی کے ہیں دو عالم کی طنابیں
یہ دورِ زماں ، عرصۂ محشر ۔۔۔ بھی اُسی کا 

ایمان قمرؔ ظاہر و باطن پہ ہے میرا
اندر بھی اُسی کا مرا باہر بھی اُسی کا



Monday, September 3, 2018

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ـ احمد فراز صاحب کی خوبصورت غزل پڑھنے کے لئے کلک کریں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ـ احمد فراز صاحب کی خوبصورت غزل پڑھنے کے لئے کلک کریں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غمِ دنیا بھی غمِ ےار میں شامل کر لو
نشّہ بڑھتا ہے شرابیں جب شرابوں میں ملیں

تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا!
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ ہم کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخّص تمنا کے سرابوں میں ملیں

(احمد فراز)






Wednesday, August 29, 2018

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو، بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی، مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون، وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی: یہ خوبصورت سدا بہار غزل اور دیگر غزلیں سننے کے لئے لنک کھولیں

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو، بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی، مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون، وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی: یہ خوبصورت سدا بہار غزل اور دیگر غزلیں سننے کے لئے لنک کھولیں

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو، بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی، مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون، وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی: یہ خوبصورت سدا بہار غزل اور دیگر غزلیں سننے کے لئے لنک کھولیں

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو، بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی، مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون، وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی: یہ خوبصورت سدا بہار غزل اور دیگر غزلیں سننے کے لئے لنک کھولیں



کیونکہ جب عیب نکل جائیں، ہنر بچتا ہے :  یہ خوبصورت #شاعری لنک پر پوری پڑھیں

کیونکہ جب عیب نکل جائیں، ہنر بچتا ہے : یہ خوبصورت #شاعری لنک پر پوری پڑھیں

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
خالی جھولی لیے ویران شجر بچتا ہے

نکتہ چیں! شوق سے دن رات مرے عیب نکال
کیونکہ جب عیب نکل جائیں، ہنر بچتا ہے

سارے ڈر بس اسی ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار
یار کھو جائے تو پھر کون سا ڈر بچتا ہے

روز پتھراؤ بہت کرتے ہیں دنیا والے
روز مر مر کے مرا خواب نگر بچتا ہے

غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے طے کرنے کے بعد
صبحدم دیکھیں تو اتنا ہی سفر بچتا ہے

بس یہی سوچ کے آیا ہوں تری چوکھٹ پر
دربدر ہونے کے بعد اک یہی در بچتا ہے

اب مرے عیب زدہ شہر کے شر سے صاحب!
شاذ و نادر ہی کوئی اہل ہنر بچتا ہے

عشق وہ علم ریاضی ہے کہ جس میں فارس
دو سے جب ایک نکالیں تو صفر بچتا ہے




Tuesday, August 21, 2018

میکدے بند کریں لاکھ  زمانے والے :  شہر میں کم نہیں آنکھوں سے پلانے والے

میکدے بند کریں لاکھ زمانے والے : شہر میں کم نہیں آنکھوں سے پلانے والے

میکدے بند کریں لاکھ  زمانے والے
شہر میں کم نہیں آنکھوں سے پلانے والے

ہم سے ۔۔ دنیا میں نہیں ۔۔ ناز اٹھانے والے
لَوٹ آ ، بہرِ خدا روٹھ کے جانے والے

بات دبنے کی نہیں ۔۔ اور بھی شک پھیلے گا
میرے خط پھاڑ کے چولہے میں جلانے والے

نہ میں سقراط ، نہ عیسیٰ نہ علی ہوں نہ حسین
کیوں مرے خون کے پیاسے ہیں زمانے والے

تیرے منہ پر نہیں کہتے یہ الگ بات ۔۔ مگر
تجھ کو قاتل تو سمجھتے ہیں زمانے والے

تجھ کو واعظ نہیں معلوم کہ ہوں کس کا غلام
جا میاں ، جا مجھے دوزخ سے ڈرانے والے


شب کو پی صبح کو قرآن سنانے بیٹھے
کیفؔ صاحب ہیں عجب ڈھونگ رچانے والے

کیف بھوپالی






Follow us on social media to get instent updates....

|Twitter| |Facebook| |Pinterst| |Myvoicetv.com|
Example

Send your news/prs to us at myvoicetv.outlook.com..

Note: The views, comments and opinions expressed on this news story/article do not necessarily reflect the official policy or position of the management of the website. Companies, Political Parties, NGOs can send their PRs to us at myvoicetv@outlook.com

 
‎لطیفے اور شاعری‎
Facebook group · 8,142 members
Join Group
یہ گروپ آپ سب کے لئے ہے۔ پوسٹ کیجئے اور بحث کیجئے۔۔۔۔۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔۔۔اور ہاں گروپ کو بڑا کرنے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی گروپ میں دعو...
 

All Categories

Aaj Kamran Khan ke Saath Aamir Liaquat Hussain Aapas ki Bat NajamSethi Abdul Qadir Hassan AchiBaatain Afghanistan Aga Khan University Hospital AirLineJobs Allama Iqbal America Amjad Islam Amjad Anjum Niaz Ansar Abbasi APP Aqwal Zareen Articles Ayat-e-Qurani Ayaz Amir Balochistan Balochistan Jobs Bank of Khyber Banking Best Quotes Biwi Jokes Blogger Tips Chaltay Chaltay by Shaheen Sehbai China Chitral Coca-Cola Coke Studio Columns CookingVideos Corporate News Corruption Crimes Dr Danish ARY Sawal Yeh Hai Dubai E-Books EBM Education Educational Jobs Emirates English #Quotes English Columns EnglishJokes Funny Photos Funny Talk Shows Funny Videos Gilgit-Baltistan Girls Videos Govt Jobs HabibJalibPoetry Hamid Mir Haroon Al-Rashid Hasb-e-Haal with Sohail Ahmed Hassan Nisar Hassan Nisar Meray Mutabaq Hazrat Ali AS Sayings HBL Health HikayatShaikhSaadi Hospital_Jobs Huawei Hum Sab Umeed Say Hain India Information Technology Insurance International News Islam Islamabad Islamic Videos JammuKashmir Javed Chaudhry Jazz Jirga with Salim Safi Jobs Jobs Available Jobs in Karachi Jobs in KPK Jobs in Pak Army Jobs_Sindh JobsInIslamabad Jokes Jubilee Insurance Kal Tak with Javed Chaudhry Karachi Kashmir KhabarNaak On Geo News Khanum Memorial Cancer Hospital Khara Sach With Mubashir Lucman Khyber Pakhtunkhwa Lahore Latest MobilePhones Lenovo LG Life Changing Stories LifeStyle Live With Dr. Shahid Masood Live with Talat Hussain Maulana Tariq Jameel MCB Bank Microsoft Mobilink Mujeed ur Rahman Shami Munir Ahmed Baloch Nasir Kazmi Nazir Naji News News Videos NGO Nokia North Korea Nusrat Javed Off The Record (Kashif Abbasi) Off The Record With Kashif Abbasi On The Front Kamran Shahid OPPO Orya Maqbool Jan Pakistan Pakistan Army Pakistan Super League Pashto Song Photos Poetry Political Videos Press Release Prime Time with Rana Mubashir PTCL Punjab Quetta Quotes Rauf Klasra Samsung Sar-e-Aam By Iqrar-ul-Hasan Sardar Jokes Saudi Arabia ShiroShairi Show Biz Sikander Hameed Lodhi Sindh Social Media Sohail Warriach Songs Sports News Stories Syria Takrar Express News Talat Hussain Talk Shows Technology Telecommunication Telenor To the point with Shahzeb Khanzada Tonight with Moeed Pirzada Turkey Tweets of the day Ufone University Jobs Urdu Ghazals Urdu News Urdu Poetry UrduLateefay Video Songs Videos ViVO Wardat SamaaTV WaridTel Wasi Shah Zong اردو خبریں
______________ ☺ _____________ _______________ ♥ ____________________
loading...